میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) میرپورخاص ڈویزن سمیت سندھ میں گنے کی فصل تیار شوگر ملز تا حال شروع نہ ہونے سے گندم کے فصل کہ بوائی شدید متاثر ہونے کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ اراضی ویران ہوجائیں گی- سندھ گورنمنٹ نے گنے کا ریٹ مقرر نہیں کیا جبکہ پنجاب حکومت نے گنے کا ریٹ 180 روپیہ 40 کلو وزن کے حساب سے مقرر کردیا گیا ہے- گنے کا ریٹ مقرر نہ ہونے کی وجہ سے کاشتکاروں میں بے چینی پائی جاتی ہے آبادگاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے گنے کا ریٹ مقرر نہ کرنا نااہلی یا پہلے کی طرح آبادگاروں کو گنے کا ریٹ 130 روپیہ دے کر معاشی قتل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے- میرپورخاص ڈویزن میں مسلسل گنے کی فصل پر ریٹ کم ملنے سے شوگر ملز انڈسٹریز کی من مانی اور پانی کے شدید بحران کے سبب اس سال گنہ پچاس فیصد کم کاشت کیا گیا ہے- جبکہ میرپورخاص سانگھڑ میں پانچ شوگر ملز ہیں جن میں زیادہ ملز میرپورخاص ٹنڈو الہیار میں ہیں- میرپورخاص ڈویزن کے آبادگار تنظیموں کے رہنماؤں سرفراز جونیجو، عمر بگھیو، جاوید جونیجو اور دیگر سندھ کے چھوٹے بڑے آبادگاروں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار، وزیر اعظم عمران خان، سندہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور وزیر اعلٰی سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر گنے کا ریٹ مقرر کیا جائے تاکہ کاشتکاروں کی بے چینی ختم ہوسکے اور شوگر ملوں کو وقت سر پر چلائی جائیں تاکہ گندم کی فصل متاثر نہ ہو سکے-
![]()