Home / آرٹیکل / موبائل فون اور نوجوان نسل میں اُس کے بڑھتے ہوئے استعمال کے رجحانات تحریر: محمد جواد بھوجیہ

موبائل فون اور نوجوان نسل میں اُس کے بڑھتے ہوئے استعمال کے رجحانات تحریر: محمد جواد بھوجیہ

موبائل فون اور نوجوان نسل میں اُس کے بڑھتے ہوئے استعمال کے رجحانات

تحریر: محمد جواد بھوجیہ

اس بات سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ موبائل فون کے آنے سے انسان کے بہت سے کام آسان ہوگئے ہیں اور ساتھ ساتھ یہ وقت کی بھی ضرورت بن چکی ہے لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ موبائل فون کے بے شمار فائدے کے ساتھ ساتھ نقصانات بھی ہیں لیکن یہ استعمال کرنے والے کے اوپر منحصر ہے کہ وہ اس کو کس مقصد کے لئے استعمال کررہا ہے۔ اگر انسان اس سے فائدہ لینا چاہے تواس کے بے شمار فائدے ہیں اس سے فائدہ لے سکتا ہے ورنہ اگر اسے منفی استعمال کیا جائے تو یہ بھی ایک کینسر جیسی بیماری سے کم بیماری نہیں ہے ایک محتاط اندازے مطابق دنیا میں اس وقت % 85 نوجوان نسل موبائل یا سمارٹ فون استعمال کرتے ہیں۔ موبائل فون کے استعمال میں وہ اس قدر گم ہو چکے ہیں نہ انہیں اپنی جان کی پرواہ ہے اور نہ دوسروں کی اگر آپ نے کبھی انداز ہ کیا ہے روڈ کراس کرتے ہوئے بھی موبائل پر باتیں کر رہے ہوتے ہیں یا کسی اسی جگہ جہاں بندے کو اختیاط کرنی پڑتی ہے وہاں پر بھی موبائل کے غیر ضروری استعمال سے کئی نوجوانوں کی جان جا چُکی ہے

آج اگر دیکھا جائے 5 سال کے بچے سے لیکر بوڑھے شخص تک کو موبائل فون نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ موبائل فون نے نوجوانوں کو اس قدر مصروف کر دیا ہے نہ ان کو سونے کی پروا ہے نہ کھانے کی، دن ہو یا رات، سردی ہو یا گرمی، بیماری ہو یا تندرستی، جلدی میں ہو یا آرام میں، لیکن موبائل فون آپ کو اس کے ہاتھ میں ضرور نظر آئے گا۔ موبائل فون نے ہماری نوجوان نسلوں کے اوپر اتنا اثر چھوڑا ہوا ہے نہ فون پہ بات کرتے ہوئے اسے کوئی دکھائی دیتا ہے انہیں اتنا بھی احساس نہیں ہوتا کہ پیچھے بھی کوئی بندہ ہوگا وہ باتیں سن رہے ہونگے یا اس کو راستہ چاہیے ہوگا یا موبائل فون میں ہینڈ فری لگا کر گانا سنتے ہوئے وہ روڈ کراس کرنے کی کو شش کر رہا ہوگا یا پبلک ٹرانسپورٹ میں بٹھ کر ایسی باتیں کر رہے ہونگے جو بلا ضرورت ہو اور اسے اس بات اندازہ بلکل بھی نہیں ہوگا کہ اس کے ساتھ گاڑی میں اور بندے بھی بیٹھے ہوئے ہیں ان میں سے کوئی بیمار ہوگا یا کسی کو پریشانی ہوگی لیکن اس کے باوجود بھی وہ اس کے بلا ضرورت استعمال سے باز نہیں آئے گا یہ اُن کی ایک عادت بن چکی ہے اب یہ عادت اُن سے اتنی جلدی نہیں چھوڑی جاسکتی اگر چھوڑنا بھی چاہیں تو اُس میں کافی وقت لگے گا۔ بڑوں کے مقابلے میں نوجوان نسل سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے کئی نوجوانوں کو سیلفی لینے کی خواہش نے موت کے آغوش میں دھکیل دیا ہے کسی کو روڈ کراس کرتے ہوئے گاڑی دیکھائی نہ دینے کی وجہ سے ان کی جان چلی گئی ہوگی۔ حلانکہ ایسا کچھ بھی نہیں کہ اُن کو روڈ پر چلتی ہوئی گاڑیاں نظر نہیں آتی گاڑیاں بھی اُن کو نظر آتی ہونگی چلتے پھرتے ہوئے لوگ بھی انہیں نظرآتے ہونگے لیکن انہوں نے موبائل کو اتنی فوقیت دی ہوئی ہے اس کے آگے کچھ بھی ان کو دیکھائی نہیں دیتا اور اسی طرح وہ خود کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی موت کے منہ میں دھکیلتے ہیں اور یہ بڑے بڑے حادثات کے سبب بن جاتے ہیں۔ موبائل فون کے مثبت اور منفی استعمال کے حوالے سے جب ہم نے چند نوجوانوں کی رائے لینے کی کوشش کی تو اُن کا کہنا تھا کہ یقینی طور پر موبائل فون کے بے شمار فائدے کے ساتھ ساتھ نقصانات بھی ہیں اس کے استعمال کے وقت بندے کو تھوڑا سوچنا چاہیے اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت % 90 نوجوان نسل موبائل کو بالکل رف استعمال کرتے ہیں جن سے اُن کا قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے نہ صرف ان کا وقت ضائع ہو جاتا ہے بلکہ پیسے کے ساتھ ساتھ اس کے صحت بھی برُی طرح متاثر ہوجاتی ہے پڑھائی کی طرف سے ان کا دھیان چلا جاتا ہے صبح کلاسوں میں دیر سے آنا اگر کسی ٹیچر نے آسائیمنٹ دی ہو وہ پوری نہیں کرنا یہ سب موبائل کے رف استعمال کے کارنامے ہیں۔

آج کل موبائل کی مختلف ایپس موجود ہیں اس میں موبائل گیمز، ویڈیو چیٹ وغیرہ وغیرہ شامل ہیں پہلے انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لئے کمپیوٹر کا استعمال کیا جاتا تھا جب سے موبائل ٹیکنالوجی میں انقلاب آیا ہے مختلف سمارٹ فون کے مارکیٹ میں آنے سے تمام چیزیں ایک چھوٹی سے سمارٹ فون میں دستیاب ہیں۔ مختلف ویب سائٹ نوجوانوں کو یاد اُن سے وہ فائدہ بھی لے سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے پڑھے لکھے نوجوان کل ملک کی بھاگ دوڑ اُن کی ہاتھوں میں ہے وہ اس ٹیکنالوجی سے فائدہ بھی لے سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے نوجوان غیر ضروری کاموں میں الجھے ہوئے ہیں جو باعث تشویش ہیں۔ ضرورت سے ہٹ کے موبائل فون استعمال کرنے کی وجہ سے نوجوانوں نسل نہ صحیح طریقے سے پڑھائی کے اوپر توجہ دیتے ہیں راتوں کو لیٹ ٹائم تک بیٹھ کے موبائل کے ساتھ کھیلنے کی وجہ سے نہ اُن کی نیند تک پوری نہیں ہوپاتی ۔ بعض نوجوان اس سے اپنے فائدے کے لئے بھی استعمال کر تے ہیں مثلا نیٹ کا استعمال کرکے اپنے سبجیکٹ کے مطابق چیزیں دیکھنا ان سے نوٹ بنانا اپنے سبجیکٹ کے مطالق مختلف ریسرچ پیپرز کا مطالعہ کرنا پوری دنیا کا علم انٹرنیٹ پر دستیاب ہے ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اس کے علاوہ اور بھی بہت سے مواد اُن کو انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں جن سے وہ بھرپور طور پر وہ فائدہ اٹھاتے ہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے ان نوجوانون کی تعداد بہت کم ہے- یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے آج کے نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد اس کے برعکس موبائل فون استعمال کرتے ہیں یہ دیکھنے میں معمولی لگتا ہے لیکن یہ ایک بہت حساس معاملہ ہے اس حوالے سے سوچنے کی ضرورت ہے عام طور پر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اس چیز کا اندازہ نہیں ہوتا وہ یہ سمجھتے ہیں اس سے ان کا وقت ضائع نہیں ہو رہا ہے درحقیقت اُ ن کو پتہ ہی نہیں چلتا وقت یوں نکل جاتا ہے۔ نوجوانوں نسل کو سوچنا چاہیے اپنی زندگی کے مطالق پلانگ کرنی چاہیے اپنے سامنے کوئی مقصد رکھنا چاہیے اور اس کو حاصل کرنے کی جستجو میں محنت کرنا چاہیے یہ بھی نہیں کہ وہ موبائل فون استعمال کرنا ہی بند کر دے لیکن اس کے لئے بھی حدود و وقیوت رکھنا چاہیے ان کو چاہیے بلا ضرورت موبائل فون استعمال کرنے اپنی قیمتی وقت کو ضائع ہونے سے بچائیں اپنے مستقبل کے بارے میں سوچیں اور اس کے لئے حکمت عملی ترتیب دیں اپنے سامنے ایک منزل رکھیں اور اس منزل کو پانے کے لئے بھرپور انداز میں محنت کریں۔

موبائل فون یا سمارٹ فون کے زیادہ استعمال کرنے کے حوالے سے قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ کی پروفیسر نیلوفر کریم رؤف نے بتایا آج کے زمانے میں سب کی موبائل کے ساتھ اتنی زیادہ اٹیچمینٹ ہوئی ہے اس میں نوجوان نسل کے ساتھ بوڑھے بھی ہیں لیکن بڑے عمر کے افراد کے مقابلے میں نوجوان نسل کی تعداد بہت زیادہ ہے اس سے وہ مختلف ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں انہوں نے اس حوالے سے حال ہی میں امریکہ میں بچوں کے اوپر کی گئی ریسرچ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بچوں کے دو گروپ بنائے گئے ایک گروپ کو عام جنرل کارٹوں دیکھایا اور دوسرے گروپ کو ٹومین جیری والا کارٹوں 5 مہینے بعد دونوں گروپوں کے بچوں کے مینٹل لیول کو چیک کیا گیا تو ٹومین جیری دیکھنے والے بچے جلدی غصہ ہوتے ہوئے نظر آنے لگے اسی طر ح دوسری قسم کے فائڈنگ والے گیمز ہوتے ہیں اس کے اثرات بہت جلدی ان بچوں کے اوپر اثرانداز ہو جاتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ موبائل میں گیمز صرف بچے ہی نہیں کھیلتے بلکہ بڑے عمر کے لوگ بھی بچوں سے پچھے نہیں انہوں نے مزید بتایا جو لوگ زیادہ تر موبائل کے ساتھ کھیلتے ہیں وہ عام لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ڈپریشن میں دیکھائی دیتے ہیں اس کی روک تھام کے لئے نوجوان نسل میں اگاہی مہم کی اشد ضرورت ہے اور حکومت کو اس کام میں آگے آکے کام کرنا ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک بہت بڑا ایشو ہے ہمیں اپنی نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

اسلام آباد کے بڑے سرکاری ہسپتال کے سائکاٹرسٹ ڈاکٹر انوارالحق اور میڈیکل آفیسر ڈاکٹر مسرت افصل نے بتایا کہ یہ نوجوان نسل میں یہ ایک بہت بڑا ایشو ہے جس کی وجہ وہ نفسیاتی طور پر ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہے ذہن ان کا منتشر ہو جاتا ہے روزمرہ کے کاموں میں اُن کا دھیان بہت کم ہوجاتا ہے اور موبائل فون کے ساتھ زیادہ وقت بیتانے سے وہ نفسیاتی اور جسمانی طور پر وہ کمزور ہوجاتے ہیں اُن کا کہنا تھا کہ رات دیر تک موبائل فون میں گپ شب کرتے ہوئے یا مووی دیکھتے ہوہے سوتے وقت موبائل فون زیادہ تر تکیے کے نیچے رکھ جاتے ہیں جن سے ریڈیشن نکلتی ہیں اور یہ انسانی صحت کے لئے ا انتہائی نقصان دہ ہیں اس کے علاوہ لوگوں کے ساتھ ان کا انٹریکشن کم ہو جاتا ہے جب وہ موبائل کی دنیا سے باہر نکلتے ہیں تو تنہائی محسوس کرتے ہیں اور وہ ذہنی تناؤ میں مبتلا ہو جاتے ہیں سب سے بڑا نقصان انکھوں کا ہو جاتا ہے ہر وقت موبائل کے اسکرین پر دیکھنے سے انکھوں کی بینائی متاثر ہو جاتی ہے۔نوجوان نسل میں اس کی روک تھام کے لئے نوجوان نسلوں میں آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے ایک اچھی اور پر سکون زندگی گزارنے کے لئے ان چیزوں سے جتنا اپنے آپ کو بچا یا جائے اتنا ہی اُن کے لئے اچھا ہے کیونکہ موبائل کے دنیا سے باہر بھی ایک اورحسیں جہاں ہے قدرت کے ان نظاروں سے اپنے اپ کو لطف اندز کرنے کی کو شش کریں تو ذہنی طور پر سکون آجائے گا اور اُ ن کی زندگی بھی پرسکون گزر ے گی۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

یکم مئی، مزدوروں کا عالمی دن۔ پاکستان میں مزدوروں کے مسائل، حقوق اور بہتری کی راہیں ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

یکم مئی دنیا بھر میں محنت کشوں کے احترام، جدوجہد اور حقوق کی یاد تازہ …

One comment

  1. یہ سمارٹ ورلڈ کا دور ہے۔سمارٹ ڈیوائسز کا استعمال جہاں سہولت، آسانی اور ابلاغ میں تیزی کا باعث بنا ہے، وہاں منفی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں ۔ان میں سے ایک سمارٹ ڈیوائسز (سمارٹ فون، ٹیبلٹ، لیپ ٹاپ وغیرہ) کا بے تحاشا اور آؤٹ آف مینرز استعمال کی وجہ سے "ٹیکسٹ نیک” کے مرض میں اضافہ بھی شامل ہے۔ مزید بلاگز اور اپ ڈیٹس حاصل کرنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔https://www.alifyar.com/text-neck-kya-hai-mobile-phone-ka-istemal

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے