کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) جماعة الدعوة کراچی کے مسئول مفتی عبداللطیف نے کہا ہے کہ آسیہ کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ کمزور ہے۔ حکومت معاملات حل کرنے کے لیے علمائے کرام اور قانونی ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے۔ فیصلے پر نظر ثانی کے ذریعے کمزور پہلوﺅں کو دور کرنا ضروری ہے۔ عوام کو بغاوت پر اکسانا اور سڑکیں بند کرکے املاک کو نقصان پہنچانا کسی صورت درست نہیں۔ تشدد کا راستہ اپنانے کی بجائے پرامن احتجاج کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد تقویٰ گلشن اقبال میں جمعے کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مفتی عبداللطیف نے کہا کہ آسیہ کی بریت کا فیصلہ کمزور پہلوﺅں پر مشتمل ہے، جس سے ملک بھر میں شدید اشتعال پایا جا رہا ہے۔ کمزور پہلوﺅں کو دور کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی ضروری ہے، اس کے لیے حکومت علمائے کرام اور قانونی ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف احتجاج جائز، لیکن تشدد کا راستہ اپنانا ہرگز درست نہیں۔ عوام کو اشتعال دلاکر بغاوت پر اکسانے والے افسوسناک کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں سڑکیں بند کرنا اور املاک کو نذر آتش کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ پرامن احتجاج تعلیمات نبوی سے ثابت ہے، لیکن کسی فرد کو قانون ہاتھ میں لینے کی جازت نہیں دی جاسکتی۔ عوام حکومت پر دباﺅ ڈالنے کے لیے پرامن راستہ اپنائے۔ مفتی عبداللطیف نے کہا کہ گستاخ رسول کی سزا قتل ہے، لیکن اس بات کا فیصلہ عوام پر نہیں چھوڑ سکتے۔ حدود کا نفاذ حکومت کا کام ہے، عدالت میں الزام ثابت ہونے پر حکومت ہی سزا دے سکتی ہے۔ عوام خود کو ایسے عناصر سے دور رکھیں، جو معاشرے میں قتل و غارت گری کا سبب بنتے ہو۔ ہم پرامن احتجاج کا راستہ اپناکر اور قانونی طریقے سے حکومت پر دباﺅ ڈالیں گے، اسی میں ملک و قوم کی کامیابی ہے۔
![]()