پاک بحریہ، پاکستان کا فخر تحریر: شاہد عمران
![]()
پاک بحریہ 14 اگست 1947 کو پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی وجود میں آگئی تھی۔ مسلح افواج کی ریکونسٹوشن کمیٹی نے ہندوستانی بحریہ کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کیا۔ پاک بحریہ کو 2 سلوپ، 2 فریگیٹس، چار مانیسویپر، دو بحری ٹرالر، چار بندرگاہ لانچز اور 358 اہلکار ملے جن میں 180 ٹیکنیکل افسران اور 34 ریٹنگ اہلکار تھے۔ اس کے علاوہ پاک بحریہ کو 200 آفسرزاور 300 سیلرز ملے۔ جن میں کموڈور ایچ ایم ایس چوہدری سینئر ترین آفسر تھے۔
![]()
پاک بحریہ کے سامنے کافی اہلکاروں، آپریشنل اڈوں کی کمی کے علاوہ ٹیکنالوجی اور وسائل کی کمی جیسے مسائل کسی عفریت کی طرح کھڑے تھے۔ لیکن رفتہ رفتہ کامیابیاں پاک فوج کا مقدر بنتی گئیں اور آج الحمد اللہ پاک بحریہ کے پاس 63 بحری جہاز اور 101 ایئر کرافٹس ہیں۔ پاک بحریہ کے فعال ملازمین کی تعداد 25000 ہے۔ اضافی میرین کی تعداد 2000 ہے۔ کوسٹ گارڈ کی تعداد 2500 سے زائد ہے۔ میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے فعال ڈیوٹی 2000 اہلکار ہیں۔ اس کے علاوہ 5000 ریزرو اہلکار موجود ہیں۔ پاک نیوی کے اہلکاروں کی کل تعداد تقریباً 35 ہزار 700 ہے۔ پاک فوج کے پاس اس وقت اگسٹا آبدوزوں کے علاوہ 3 ایکس کرافٹ آبدوزیں بھی ہیں۔ ایکس کرافٹ آبدوز مائنز کی منتقلی، تارپیڈ وفائر کرنے اور محدود آپریشنز کیلئے کمانڈوز کی لانچنگ جیسی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ آبدوزیں ہاربون میزائل، اینٹی شپ میزائل اور ایگزوسیٹ میزائل فائر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔ الخالد ٹینک بھی پاک نیوی کا حصہ ہے۔ جو خشکی اور پانی دونوں میں چل سکتا ہے۔ الخالد ٹینک نائٹ وژن کی بدولت رات کو بھی آپریشنل سرگرمیوں میں حصہ لے سکتا ہے۔ پاک نیوی کے پاس جلالت 2 کلاس اور جرأت کلاس دو طرح کی میزائل براور کشتیاں ہیں۔ جو بے خبری میں دشمن کے جنگی تیاروں کے برخچے اڑا سکتی ہیں۔ پاک بحریہ چین سے تیز رفتار اور ٹارگٹ کو جلد ٹریس کر لینے والی دو MRTP-33 اور دو MRTP-15 کشتیاں حاصل کی ہیں۔ یہ کشتیاں ایٹنی شپ میزائل C802/803 سے لیس ہیں۔ پاک نیوی جدید ٹیکنالوجی کا شاہکار پاکستان نیول ائرڈیفنس سسٹم بھی لگا چکی ہے۔ جو پاک نیوی کی طاقت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ملکی دفاع کیلئے نیک شگون ہے۔
![]()
بین الاقوامی ماحول اس وقت مسلسل تبدیلیوں کے عمل سے گزر رہا ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران بحری امور کے شعبے میں سمندروں کا کنٹرول اسٹرٹیجک نقطہ نظر سے ایک کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ حال ہی میں انجام پانے والے دو منصوبے ایسے ہیں جو بحری نقطہ نظر سے ہمارے مستقبل پر گہرے اثرات کی گواہی دیتے ہیں۔ ان میں سے ایک پاک چین اقتصادی راہداری ہے جو گوادر کو جہاز رانی، علاقائی تجارت اور رابطے کا مستقبل کا مرکز بناتے ہوئے شمالی بحیرہ عرب تک براہ راست رابطے کی سہولت فراہم کرے گی۔
![]()
دوسرا، پاکستانی سمندری حدود میں توسیع ہے جس کی بدولت 200 ناٹیکل مائل تک پھیلے ہمارے خصوصی اقتصادی زون میں 50 ہزار مربع کلو میٹر کونٹینینٹل، شیلف کا اضافہ ہے جس سے پاکستان کی سمندری حدود 200 ناٹیکل مائل سے بڑھ کر 350 ناٹیکل مائل ہو گئی ہے۔ یہ 50 ہزار اضافی کونٹینینٹل شیلف بے پناہ وسائل بشمول آئل اور گیس سے مالا مال ہے جہاں سمندر کی تہہ اور زیر تہہ موجود وسائل کے ہمیں بلا شرکت غیرے حقوق حاصل ہو گئے ہیں۔ ان دونوں کی بدولت حاصل ہونے والے میری ٹائم خزانوں کی شراتک سے مستفید ہونے اور ان کی حفاظت کے سلسلے میں ہماری ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے۔
![]()
موجودہ حالات میں ہمارے ایک طرح بحیرہ عرب میں بیرونی قوتیں تقریباً مستقل طور پر موجود ہیں جبکہ دوسری جانب متلون مزاج پڑوس اپنی حاکمانہ اور جابرانہ سوچ کے تحت اپنے بحری اسلحہ میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ یہ وہ چند قابل ذکر حوال ہیں جو ہمیں خبردار کرتے ہیں کہ ہم سیاسی اور عسکری دونوں سطحوں پر نہ صرف ہر دم چوکس رہیں بلکہ اپنی انفرادی افادیت کوبرقرار رکھیں۔ پاکستان نیوی اپنی مختلف کاوشوں اور علاقائی و بین الاقوامی بحری افواج کے ساتھ مل کر متنوع سرگرمیوں کی بدولت مشترکہ علاقائی میری ٹائم سکیورٹی کے قیام کے سلسلے میں ایک اہم قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ پاکستان نیوی ماضی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے بھرپور لگن اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے وطن کی سرحدوں کے دفاع اور ملک کے میری ٹائم اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے پر عزم ہے ۔
![]()
پاکستانی قوم کواپنی مسلح افواج پر مکمل بھروسہ ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھتے ہوئے اور پر عزم طریقے سے ثابت قدم رہتے ہوئے اپنے دشمنوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا سکتی ہے ۔ پاکستان نیوی کے آفیسرز، چیف پیٹی آفیسرز، سیلرز اور سویلینز اپنی لگن، دلیری، شجاعت اور ثابت قدمی سے مادر وطن کو ہر قسم کے خطرات سے تحفظ فراہم کرنے کیلئے اپنا کردار بطریق احسن ادا کررہے ہیں۔
پاک بحریہ کی تاریخ فتوحات سے بھری پڑی ہے۔ جب وطن کے بیٹوں نے دشمن کو خاک چٹائی اور بھارت پوری دنیا منہ دکھانے کے لائق نہ رہا۔ 1965 کی جنگ میں پاک بحریہ نے بھی جارحانہ کردار نبھایا۔ پاک بحریہ کی پہلی طویل رینج آبدوز پی این ایس / ایم غازی کو 2 ستمبر کو کموڈور نیازی کی کمان میں بھارتی بحریہ کی نقل و حرکت و اجتماعی پر نظر رکھنے اور انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے کیلئے تعینات کیا گیا۔ 8/7 ستمبر کی درمیانی رات ایک پاکستانی سکوارڈن جو چار تباہ کن (ڈیسٹرائٹر) ایک فریگیٹ، ایک کروز اور ایک آبدوز پر مشتمل تھا نے کموڈ ور ایس ایم کے زیر کمان بھارتی فضائیہ کے دووارکا کے ساحلی قصبہ میں موجود ریڈار بیس پر حملہ کیا۔ ریڈار سسٹم کی تنصیبات تباہ کرنے کے بعد سکوارڈن تیزی سے دووارکا سے نکل گیا۔ انڈین نیوی بوکھلاہٹ اور خوف کی بدولت کوئی بھی جوابی کارروائی نہ کر سکی۔
![]()
کم وسائل اور محدود نفری کے باوجود آپریشن دووار کا میں کامیابی پر پاک بحریہ کی اعلیٰ صلاحیتوں اور بے مثال کارکردگی کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔ نیوی کی کارکردگی کو شاندار بنانے کیلئے 1966 میں نیول سپیشل سروسز گروپ کی بنیاد رکھی گئی۔ پاک بحریہ نے 1980 میں بے مثال ترقی کی۔ اس کا جنگی بیڑا 8 سے بڑھ کر 16 جہازوں تک آیا گیا۔ پاکستان نے فوجی سازو سامان پر توجہ مرکوز کرنا شروع کر دی۔ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے فرانس سے اگسٹا آبدوزوں کی خریداری (بشمول ٹیکنالوجی کی منتقلی) کے معاہدہ پر دستخط کئے۔ یہ معاہدہ شدید ہندوستانی احتجاج اور بین الاقوامی دباؤ کے باوجود انجام پایا اور ا س سے پاک بحریہ کی جنگی صلاحیتوں میں تین گنا اضافہ ہوا۔
ملک میں 2010 کے سیلاب میں پاک بحریہ نے پاک فوج کا بھرپور ساتھ دیا۔ پاک بحریہ نے( آپریشن مدد )کے تحت ملک بھر میں 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیا ۔سیلاب زدگان کیلئے 43 ہزار8 سو 50 کلو گرام خوراک اور امدادی سامان پہنچایا، 5 ہزار 7 سو کلو کے تیار کھانے اور 5 ہزار کلو گرام کی خوراک سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ سکھر میں ہنگامی بنیادوں پر پہنچائی۔ پاک بحریہ نے بین الاقوامی سطح پر بھی امدادی کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ 26 دسمبر 2004 کو آنے والے سمندر طوفان نے سری لنکا، بنگلہ دیش اور مالدیپ سمیت متعدد ممالک میں تباہی مچا دی۔ پاکستان نے ان ممالک میں امدادی کارروائیوں میں حصہ لینے کیلئے دو جنگی بحری جہاز پی این ایس طارق، پی این اس نصر اور ایک لاجسٹک پورٹ جہاز بھیجا۔ یہ جہاز تین ہیلی کاپٹروں، ملٹری و سول ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف سے لیس تھے۔ پاک بحریہ نے مالدیپ کی حکومت کی مدد کرتے ہوئے جزائر میں پھنسے سیاحوں اور مقامی لوگوں کے انخلا کو یقینی بنایا۔
![]()
پاک بحریہ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے پاک فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہی ہے۔ پاک بحریہ کے زمینی لڑاکا دستوں نے پاک آرمی کے ہمراہ مغربی سرحدوں پر ہونے والی طالبان کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ ہندوستان کے تربیت یافتہ طالبان کے پانچ دہشت گردوں نے 22 مئی 2011 کو پاک نیوی کے بحری اڈہ پی این ایس مہران پر حملہ کیا۔ اس دہشت گردانہ حملہ میں نیوی کے 18 اہلکار شہید ہوئے جبکہ 16 اہلکار زخمی ہوئے۔ پاک نیوی کے ایس ایس جی کمانڈوز نے دہشت گردوں کے اس بزدلانہ حملہ کو ناکام بنا دیا اور دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ حملہ کرنے والے پانچوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔
![]()
گوادر پورٹ کی حفاظت کی حساس ذمہ داری بھی پاک بحریہ کے نڈر، بہادر اور بے خوف جوانوں کے کندھوں پر ہے۔ جسے نبھانے کیلئے پاک نیوی نے اپنے چاک و چوبند دستے تعینات کر رکھے ہیں۔ بلاشبہ پاک بحریہ پاکستان کا فخر ہے۔ جس کے کارہائے نمایاں کی بدولت دشمن پر خوف، بے بسی اور بوکھلاہٹ طاری ہے۔ قوم اپنے بہادر سپوتوں کو سلام پیش کرتی ہے۔
![]()
پاک بحریہ، پاکستان کا فخر تحریر: شاہد عمران