کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں سندھ کابینہ کا اجلاس منگل کو منعقد ہوا، جس کا آغاز تلاوتِ قرآن پاک سے کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری اور متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز میں سانحہ گل پلازہ کے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں ہر صورت بحال کیا جائے گا۔
سندھ کابینہ نے ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کی گورننگ باڈی کی ازسرِنو تشکیل کی منظوری دے دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بورڈ کی سابقہ مدت 22 اگست 2025 کو ختم ہو چکی تھی، جس کے بعد رجسٹرڈ مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے بورڈ کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔ نئے بورڈ کی سربراہی وزیر محنت و انسانی وسائل کریں گے جبکہ اس میں متعلقہ محکموں کے نمائندگان، آجر فریق کے چار اور مزدوروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے چار نمائندگان شامل ہوں گے۔ ترجمان وزیراعلیٰ کے مطابق بورڈ سندھ ورکرز ویلفیئر فنڈ ایکٹ 2014 کے مطابق تشکیل دیا گیا ہے۔
کابینہ نے سندھ رینیوایبل انرجی کمپنی کو بند کرنے کی بھی منظوری دے دی۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کمپنی 2012 میں قائم کی گئی تھی اور اس میں 101.622 ملین روپے کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے، تاہم اس کے تمام امور پہلے ہی انرجی ڈپارٹمنٹ انجام دے رہا ہے، جس کے باعث کمپنی کو برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں رہی محکمہ جنگلات سے متعلق ایجنڈے پر کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ حیدرآباد میں پانی کی قلت کے مسئلے کے حل کے لیے دیہہ بیلو میانو میں 6 ایم جی ڈی واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانے کی تجویز ہے۔ کابینہ نے 400 ایکڑ کے بجائے 100 ایکڑ جنگلاتی اراضی حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کو دینے کی منظوری دی، جبکہ اس کے بدلے محکمہ بلدیات شجرکاری کے لیے محکمہ جنگلات کو 100 ایکڑ متبادل زمین فراہم کرے گا۔
کابینہ نے کراچی کے بڑے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر منصوبوں کی لاگت میں نظرثانی کی منظوری بھی دی۔ بی آر ٹی یلو لائن کی لاگت بڑھا کر 620 ملین ڈالر کر دی گئی، جبکہ اس منصوبے کے لیے ورلڈ بینک اور سندھ حکومت اضافی فنڈز فراہم کریں گے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ 21 کلومیٹر طویل بی آر ٹی یلو لائن دسمبر 2028 تک مکمل کی جائے، جبکہ بی آر ٹی ریڈ لائن کو جون 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا۔
اجلاس میں محکمہ بلدیات کے تحت کراچی میں سڑکوں اور فلائی اوورز کے اہم ترقیاتی منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ 36 کلومیٹر ڈملوٹی تا ڈی ایچ اے واٹر پائپ لائن منصوبہ ایف ڈبلیو او کو دینے کی منظوری دی گئی، جس کے لیے سندھ حکومت 10.55 ارب روپے فراہم کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان منصوبوں سے شہریوں کو بہتر ٹرانسپورٹ اور پانی کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔