کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/ اسٹاف رپورٹر) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام معروف شاعر افتخار عارف کے اعزاز میں ”اعترافِ کمال“ کی تقریب حسینہ معین ہال میں منعقد ہوئی، جس میں ادبی و سماجی شخصیات اور شعرا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کی نظامت صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کی، جبکہ اس موقع پر عباس تابش، شاہد رسام، غازی صلاح الدین، فاطمہ حسن سمیت دیگر معروف شخصیات موجود تھیں۔
محمد احمد شاہ نے کہا کہ شاید ہی کسی شاعر کو افتخار عارف جیسی مقبولیت حاصل ہوئی ہو، وہ پہلے شاعر ہیں جنہیں زندگی میں نشانِ امتیاز ملا اور گزشتہ پچاس برسوں سے ان کی شاعری پر ہر نمایاں ادبی شخصیت نے قلم اٹھایا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے افتخار عارف نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز، ہجرت اور ادبی سفر پر روشنی ڈالی اور کہا کہ انہوں نے اسلامی تاریخ اور کربلا کے استعارے کو سامنے رکھ کر شاعری کی۔ انہوں نے فیض احمد فیض کو اپنا بڑا نقاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیض صاحب نے اقبال کے بعد اسلامی تاریخ پر بہترین شاعری کا اعزاز انہیں دیا۔ افتخار عارف نے کہا کہ جو لوگ رشتوں کے ادب اور احترام کو نہیں سمجھتے، وہ محبت بھی نہیں کر سکتے۔ اس موقع پر انہوں نے نعتیہ اور منتخب شعری کلام بھی پیش کیا، جس پر حاضرین نے بھرپور داد دی۔