راولپنڈی، (ویب ڈیسک) ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ ایک مخصوص سیاسی شخصیت اپنی ذات اور خواہشات کو ریاست سے بڑا سمجھ بیٹھی ہے اور اس کا بیانیہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس شخص کی سیاست ختم ہوچکی ہے اور وہ عوام کو فوج کے خلاف بھڑکانے کی منظم کوشش کررہا ہے، جس کی ہرگز اجازت نہیں دی جاسکتی ان کا کہنا تھا کہ فوج کسی سیاسی جماعت کی نمائندہ نہیں بلکہ عوام کی فورس ہے اور سیاست کو فوج سے الگ رکھنا ضروری ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس افغانستان اور بھارت سے چلائے جارہے ہیں جبکہ بھارتی میڈیا مسلسل پاکستانی فوج کے خلاف اسی جماعت کے بیانیے کو بڑھاوا دیتا ہے انہوں نے مختلف ویڈیوز بھی میڈیا کے سامنے پیش کیں اور کہا کہ بجلی کے بل جمع نہ کرانے ترسیلات زر پاکستان نہ بھیجنے اور فوج کے خلاف نفرت کو ہوا دینے جیسے بیانات ریاست دشمن قوتوں کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں ان کے مطابق یہ بیانیہ بیرونی قوتوں کے مفاد میں استعمال ہورہا ہے۔
انہوں نے عمران خان پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں "ذہنی مریض” قرار دیا اور کہا کہ ان کے ٹویٹس چند منٹوں میں بھارتی اور افغان میڈیا پر وائرل ہوجاتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بیانیہ دشمنوں کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے افسران اور جوان ایلیٹ نہیں بلکہ عام گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف اپنی جانیں قربان کررہے ہیں مگر اس شخص نے اپنی اولاد بیرون ملک رکھی ہوئی ہے اور دوسروں کو اکساتا ہے کہ فوج پر حملے کریں یا اداروں کو بدنام کریں۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا ذکر کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ پانچ برس میں صوبے میں کسی دہشت گرد کو پھانسی نہیں دی گئی جبکہ سب سے زیادہ دہشت گرد حملے وہیں ہو رہے ہیں انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی اور فوج پر بے جا تنقید کے بجائے نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد ضروری ہے ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ فوج کہیں نہیں جا رہی اور کسی شخص کا باپ بھی عوام اور فوج کے درمیان دراڑ نہیں ڈال سکتا جبکہ گورنر راج کا فیصلہ سرکار کا ہے فوج کا نہیں۔