کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) این ای ڈی یونیورسٹی کے داخلہ ٹیسٹ کے نتائج نے سندھ کے سرکاری تعلیمی بورڈز، خصوصاً اندرونِ سندھ کے بورڈز اور سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کے تعلیمی معیار اور امتحانی نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں جامعہ کے وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل نے کہا کہ انٹرمیڈیٹ سالِ اوّل میں 70 سے 80 فیصد یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے متعدد طلبہ بھی داخلہ ٹیسٹ میں کامیاب نہ ہو سکے جو امتحانی نظام اور نمبروں کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہے نتائج کے مطابق غیر ملکی بورڈز کے طلبہ کی کامیابی کا تناسب 95.65 فیصد، کیمبرج 94.32 فیصد، آغا خان ایجوکیشن بورڈ 88.84 فیصد، فیڈرل بورڈ 83.71 فیصد اور کراچی بورڈ 79.91 فیصد رہا۔
اس کے برعکس سندھ کے بیشتر سرکاری بورڈز کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ سندھ بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن کا کامیابی کا تناسب صرف 13.95 فیصد ریکارڈ کیا گیا جبکہ حیدرآباد بورڈ 46.83 فیصد، نواب شاہ 42.03 فیصد، میرپورخاص 40.43 فیصد، لاڑکانہ 36.71 فیصد اور سکھر بورڈ 35.06 فیصد کامیابی حاصل کر سکے این ای ڈی یونیورسٹی کے مطابق داخلہ ٹیسٹ میں 13 ہزار 56 امیدوار شریک ہوئے جن میں سے 9 ہزار 252 کامیاب قرار پائے اور مجموعی کامیابی کا تناسب 70.86 فیصد رہا ڈاکٹر طفیل نے بتایا کہ اے لیول کے طلبہ کے امتحانات جاری ہونے کے باعث ان کا داخلہ ٹیسٹ بعد میں لیا جائے گا جبکہ تعلیمی ماہرین کے مطابق نتائج بورڈ امتحانات میں حاصل کردہ نمبروں اور طلبہ کی حقیقی تعلیمی استعداد کے درمیان فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔