پشاور: (بیورو رپورٹ) خیبرپختونخوا حکومت نے سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے کی صورت میں اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کردیا ہے۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ اگر منگل کے روز بانی چیئرمین عمران خان سے ملاقات نہ کرائی گئی تو صوبائی حکومت کے تمام اراکین قومی و صوبائی اسمبلی، ہائی کورٹ کے نمائندگان اور عمران خان کے اہل خانہ کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر احتجاجی دھرنا دیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ عمران خان کی 4 نومبر سے اہلِ خانہ سے ملاقات نہیں کرائی جا رہی، جس کے باعث ان کی صحت سے متعلق شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ شفیع جان کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کی بہنوں سے بھی ملاقات نہ کرائی گئی تو احتجاج مزید سخت کیا جائے گا۔
معاون خصوصی نے مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگ اپنے ماضی کو فراموش کر چکی ہے، وہی جماعت لندن میں اپنے “مجرم قائد” سے ملاقاتیں اور کابینہ مشاورت کرتی رہی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عمران خان کے بیانات اور تصویر سے خوفزدہ ہے، کیونکہ وہ ملک کے سب سے مقبول سیاسی رہنما ہیں۔ عوامی نمائندوں کو ووٹ بھی عمران خان کی رہائی کے نام پر ملا ہے اور عوام کا واحد سوال یہی ہے کہ عمران خان کب رہا ہوں گے۔
شفیع جان نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا کو ضم شدہ اضلاع کے واجبات اور پولیس کی استعداد کار بڑھانے کے لیے ضروری فنڈز فراہم نہیں کیے۔ ان کے مطابق این ایف سی، این ایچ پی، آئل و گیس ریزروز سمیت مختلف مدات میں صوبے کے 3 ہزار ارب روپے واجب الادا ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 4 دسمبر کو ہونے والے این ایف سی اجلاس میں صوبہ اپنے حقوق کا بھرپور مقدمہ لڑے گا۔
دریں اثناء صوبائی حکومت نے ہری پور کے ضمنی انتخاب میں مبینہ دھاندلی کی انکوائری کا حکم بھی دے دیا ہے۔ شفیع جان کے مطابق کلاس فور سے لے کر ڈسٹرکٹ کمشنر تک ہر سطح پر تحقیقات ہوں گی اور اگر کوئی اہلکار ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ماتحت افسران کسی دھاندلی میں ملوث نہیں، تاہم معاملے پر الیکشن کمیشن کو بھی ریفرنس بھیجا جائے گا۔