اسلام اباد، (ویب ڈیسک) پاکستان اور انڈونیشیا نے دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے حلال تجارت، ایس ایم ایز، اعلیٰ تعلیم، انسدادِ منشیات اور صحت کے شعبے سمیت متعدد معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی تقریب میں انڈونیشیا کے صدر پرا بوو سوبیانتو اور وزیراعظم شہباز شریف نے شرکت کی، جبکہ متعلقہ وزرا نے دستخط شدہ دستاویزات کا باضابطہ تبادلہ کیا۔ وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک نے سیاسی، سفارتی، اقتصادی، تجارتی، دفاعی، سلامتی، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور ماحولیات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا، علاوہ ازیں تجارتی حجم بڑھانے، IP-PTA پر نظرثانی اور پاکستانی طبی ماہرین کو انڈونیشیا بھیجنے پر بھی اتفاق طے پایا۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے کشمیر اور غزہ کی صورتحال سمیت علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعات کے پرامن حل کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ میں صدر سوبیانتو کی سفارتی اور انسانی کوششوں کو سراہا۔ قبل ازیں صدرِ انڈونیشیا کو وزیراعظم ہاؤس آمد پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ بعدازاں مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے 75 سالہ تعلقات ہر آزمائش میں پورے اُترے ہیں اور یہ تعاون مزید مضبوط ہوگا، جبکہ صدر سوبیانتو نے پاکستان کی میزبانی، جے ایف-17 طیاروں کی سلامی اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم کو دورۂ انڈونیشیا کی دعوت دی۔
دوسری جانب صدر پرا بوو سوبیانتو نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بھی ملاقات کی، جس میں دفاعی تعاون، علاقائی سکیورٹی، تربیت، انسداد دہشت گردی اور استعداد کار بڑھانے کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پاکستان اور انڈونیشیا کے دیرینہ دفاعی روابط کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے اور انہیں مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ انڈونیشیا کے صدر نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا۔