اسلام اباد، ( ویب ڈیسک) اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پیٹرولیم مصنوعات پر او ایم سیز اور ڈیلرز کے مارجنز میں 5 سے 10 فیصد تک اضافے کی منظوری دے دی، جسے قومی سی پی آئی 2023–24 اور 2024–25 کے مطابق ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ اضافے کا نصف فوری طور پر نافذ ہوگا جبکہ باقی نصف ڈیجیٹائزیشن کے عمل میں پیش رفت سے مشروط ہوگا۔ ذرائع کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 2 روپے 56 پیسے فی لیٹر اضافہ متوقع ہے، جس میں سے 1 روپے 28 پیسے فی لیٹر فوری طور پر لاگو ہوگا۔
ای سی سی نے مالی سال 2025–26 کے سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان پر پاور ڈویژن کو ہدایت دی کہ وہ وزارت خزانہ کے ساتھ مل کر ایسا درمیانی مدت منصوبہ تیار کرے جو حکومتی مالی معاونت میں بتدریج کمی کو یقینی بنا سکے۔ ڈسکوز کی کارکردگی اور اہداف کی تکمیل کے لیے فالو اپ میکنزم بھی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
گاڑیوں کی درآمد کے طریقہ کار میں اہم ترامیم بھی منظور کی گئیں، جن کے تحت صرف ٹرانسفر آف ریذیڈینس اور گفٹ اسکیم برقرار رہیں گی، جبکہ کمرشل امپورٹ کے سیکیورٹی اور ماحولیاتی معیارات اب ان اسکیموں پر بھی لاگو ہوں گے۔ درآمدی وقفہ دو سے بڑھا کر تین سال کردیا گیا ہے اور درآمد شدہ گاڑیاں ایک سال تک ناقابلِ منتقلی ہوں گی۔ اس کے علاوہ کلوروفارم کی درآمد صرف ڈریپ کے این او سی کی حامل دواساز کمپنیوں تک محدود کردی گئی ہے۔
ای سی سی نے غنی گلاس کو رعایتی گیس/آر ایل این جی ٹیریف دینے کی درخواست مسترد کردی، جبکہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے لیے 1.28 ارب روپے اور ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کے لیے 5 ارب روپے کے ٹی ایس جیز کی منظوری دی گئی۔ پاسکو کی تحلیل اور واجبات کے تصفیے کے لیے خصوصی کمپنی قائم کرنے اور پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ کے پنشن و طبی اخراجات کے لیے بجٹ مختص کرنے کی اصولی منظوری بھی اجلاس میں دی گئی۔