Home/اہم خبریں/میرپورخاص میں ایک مزدور کم تنخواہ دار بنک کے سيکیورٹی گارڈ نے اپنے افسر کو زخمی کرکے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا دیا کیوں بجھایا ؟؟
میرپورخاص میں ایک مزدور کم تنخواہ دار بنک کے سيکیورٹی گارڈ نے اپنے افسر کو زخمی کرکے خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا دیا کیوں بجھایا ؟؟
میرپورخاص (رپورٹ: ایم ہاشم شر) میرپورخاص کے معروف کاروباری علاقے شملا بیکرز چوک کے ساتھ قائم یو بی ایل بنک مین برانچ میں آج ایک انتہائی افسوس ناک واقعہ پیش آیا، تحصیل سندھڑی کے گاؤں دلبر مہر (امیر بخش شر) کے رہائشی انتہائی کم تنخواہ 17000 ہر ماہانہ پر سیکیورٹی گارڈ کی نوکری کرنے والے غلام رسول شر نے بنک کے آپریشنل مینیجر عبدالوہاب غوری کو گولی ماری جس سے آپریشنل مینیجر زخمی ہوگیا، لیکن سیکورٹی گارڈ نے خود کو دماغ پر گولی مار کر زندگی کا دیا بھجا دیا، سیکیورٹی گارڈ غلام رسول شر کے بھائیون امام بخش شر اور عبالغنی شر نے بتایا کہ غلام رسول غیر شادی شدہ تھے اور یو بی ایل بنک میں کافی عرصے سے گارڈ کی نوکری کر رہے تھے یو بی ایل بنک کا مینیجر اور آپریشنل مینیجر عبدالوھاب غوری غلام رسول کو تنخواہ کی ادائیگی میں کافی عرصے سے تنگ کر رہے تھے جس کی شکایت غلام رسول نے ان سے بھی کی تھی اور کہا تھا کہ بنک کے مینیجر حضرات ان کی تنخواہ کی شرط ان کی شادی پر رکھی ہے اور کہا کہ نکاح نامہ جمع کرواؤ تو تنخواہ دیں گے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قمر توڑ مہنگائی ٹرانسپورٹ رہائش کھانے پینے کے اخراجات اور کم تنخواہ کے باوجود بھی تنخواہ نہ ملنے اور گارڈ کی جانب سے بار بار تنخواہ کا مطالبہ کرنے کے باوجود انہیں ڈاج میں رکھنے اور پھر انکار کرنے کے بعد ایک انتہائی مجبوری کے عالم میں یہ قدم اٹھا یا گیا، اس خوفناک واقعہ کے پیچھے جہاں غلام رسول شر کا جذباتی اقدام تھا وہاں اس قدم اٹھانے کے لیے مجبور کرنے والے بنک کے مینیجر آپریشنل مینیجر کا بھی ہاتھ ہے جن کی نا اہلی متکبرانہ افسر شاہی احکامات سے نہ صرف آپریشنل مینیجر زخمی ہوا بلکہ ایک غریب سیکیورٹی گارڈ نے اپنی جان اپنے ہی ہاتھ سے لے لی، متوفی سیکیورٹی گارڈ کے گھر میں کہرام برپا ہے، یو بی ایل بنک کے صدر اور بنک کی انتظامیہ سے گزارش ہے کہ کب اس واقعہ کے اصل زمہ داروں کو بینقاب کرکے اس انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کرنے والے اور مجبور ہونے والے کے اصل محرکات کو سامنے لائے جائیں اور محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے۔