کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ کمشنر کراچی نے دودھ کی قیمت 120روپے مقرر کرکے مافیا کے سامنے بے بسی ظاہر کی ہے۔ کمشنر کراچی کے اقدام سے لگتا ہے کہ شہر میں بھینسوں کے باڑے حکومتی ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں اور انتظامی افسران کے اپنے ہیں اور کمشنر کراچی بے بس ہیں۔ کمشنر کراچی دودھ مافیا کی سرپرستی چھوڑ کر عوام کو 95 روپے فی کلو خالص دودھ کی فراہمی کے لئے عملی اقدامات کریں۔ شہریوں کو 140 روپے فی کلو ملنے والا دودھ بھی خالص میسر نہیں ہے۔ شہر ی، حکومتی سرپرستی میں مافیا کے ہاتھوں یرغمال بننے ہوئے ہیں۔ کراچی کے عوام کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے۔دودھ کے معیار کو چیک کرنے والے ادارے کراچی میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ دودھ کی بڑھتی قیمتیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے گائیں بھینسیں یا دودھ بھی دوسرے ممالک سے منگوایا جاتا ہے۔ وہ دودھ کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ کے خلاف گذشتہ روز پاسبان کے زیر اہتمام، لی مارکیٹ چوک پر واقع، دودھ منڈی کے باہر احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی لیاری ٹاؤن کے سینئر رہنما فضل ربی خان نے بھی خطاب کیا جبکہ پاسبان لیاری ٹاؤن کے سینئر رہنما عارف جلب، اختر قریشی، موسیٰ لین یونٹ کے رہنما کامران خان جی، محمد رفیق، ظفر نیازی، خالد خان، شہزاد خان، منصور خان، مزمل و دیگر بھی موجود تھے۔ فضل ربی خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہر کے مختلف علاقوں سے دودھ منڈی آنے والے دودھ میں پہلے ہی سیروں پانی ملایا جاتا ہے، دودھ منڈی میں پہنچنے کے بعد دوبارہ پانی کی ملاوٹ کی جاتی ہے۔ دودھ میں گندے ہاتھ ڈال کر صحت افزاء وٹامنز کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ پاسبان رہنماؤں نے کہا کہ حکومتی ایوانوں میں بیٹھے بھینسوں کے باڑے مالکان کے تمام باڑوں کو سرکاری تحویل میں لے لیا جانا چاہئیے۔ عوام کو مافیاؤں سے نجات دلانے کے لئے شہری حکومت کی سطح پر دودھ کے پلانٹ لگائے جائیں۔ پاسبان رہنماؤں نے کہا کہ دودھ کی قیمتوں میں اضافے کے لئے چارے کی مہنگائی کو جواز بنالیا جاتا ہے جبکہ دودھ نکالنے کے لئے بھینسوں کو انجکشن لگایا جاتا ہے۔ انجکشن لگا دودھ صحت افزاء اور خالص کیسے ہوسکتا ہے؟ پاسبان رہنماؤں نے مزید کہا کہ ڈبہ پیک دودھ کمپنیوں نے بھی عوام پر رحم نہیں کیا۔ ڈبوں میں ملنے والا دودھ اور وائٹنرز کی قیمتوں میں بھی سو گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ جبکہ وائٹنرز تو سرے سے دودھ ہیں ہی نہیں، اس میں اضافہ کس جواز کے تحت کیا گیا ہے؟ پاسبان رہنماؤں نے کہا کہ عوام کو مہنگائی کے خلاف نکلنا ہوگا، ورنہ مافیائیں متحد ہو کر عوام کو اسی طرح لوٹتی رہیں گی۔