تازہ ترین
Home / Home / لکھاری کیا ہوتے ہیں؟ ۔۔۔ تحریر : عائشہ صفدر (فیصل آباد)

لکھاری کیا ہوتے ہیں؟ ۔۔۔ تحریر : عائشہ صفدر (فیصل آباد)

قلم کے استعمال سے اپنے خیالات و جذبات کو حق کی زبان دے کر، لفظوں کو روشنی کے انگارے کی صورت پیش کرنے والی باہمت شخصیت کو لکھاری کہتے ہیں۔
نارملی لکھاری کہنے پر ہر کسی کے ذہن میں سب سے پہلے یہی آتا ہے، کہ لکھنے والا لکھاری کہلاتا ہے۔ لیکن حقیقی معنوں میں اس کی تعریف کچھ یوں ہےکہ؛
حق کی قلم سے ادا شدہ الفاظ کو حق کی زبان دینے والا لکھاری ہے۔
” ن، قلم کی قسم ہے اور اس کی جو اس سے لکھتے ہیں”
قلم اور لکھاری کا یہ رشتہ جذباتوں واحساسوں سے بھرا ازل سے ہے۔ قرآن کی واضح دلیل سے؛
رحمنٰ ہی نے۔
قرآن سکھایا۔ (الرحمن 2-1)
قلم کو تلوار پر قابل اعزاز درجہ اسکی حق جوئی کی بناء پر حاصل ہےکہ اس میں انقلاب برپا کر دینے کی صلاحیت ہے۔ اپنے لفظوں سے حق کے موتی بکھیرنا اور یہ الفاظ قارعی کے شعور کو گرمانے کی ترجمانی کرتے ہیں اسی لیے اس عظیم معرکے کو جہاد بالقلم کا رتبہ حاصل ہے۔
"زیر قلم پُر تاثیر لفظوں کو ایک شخص سے ایک پوری قوم کے شعور کی تحریکی اصلاح کرنے کا اعجاز حاصل ہے”۔
لکھاری لفظوں کے مجموعہ سمیٹے اپنے قلم کا استعمال کرتے قارعی کے لئے ہدایت کے دیے جلاتے ہیں۔ شوق کے زیر نظر اپنے رب کی طرف سے مقرر شدہ امانت کو اس کے اصل حقداروں کو سونپے کی ذمہ داری ان کی زندگی کا اہم فرائضہ ہوتا ہے۔ لکھاری (متلاشیٍ حق) خود کو بیابان راستوں سے گزار کر اپنے قارعی کے لیے حق وسچ کی ایک کھلی کتاب پیش کرتا ہے۔ اندھیرے میں موجود روشنی کا اک انگارہ ہو جیسے، خود تو جل گیا، مگر جہاں روشن کر گیا۔

حق کو حق تک لے جانے کا قلم سلامت رہا
تیری عطا تھی سو تیرے نام رہا

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے