میہڑ (رپورٹ: عبدالرحمان قمبرانی) ایس یو پی اور کسان اتحاد کی جانب سے رائس کینال اور ان سے نکلنے والی ککول نہر سمیت مختلف نہروں میں پانی کی قلت کے خلاف انڈس ہائی وے میہڑ باۓ پاس پر احتجاجی دھرنا، تپتی دھوپ میں 8 گھنٹے تک روڈ بلاک، آنے جانے والی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی، دھرنے میں ایس یو پی، عوامی تحریک، قومی عوامی تحریک، پی ٹی آئی، سول سوسائٹی اور شہری اتحاد کے رہنماؤں کی شرکت، تفصیلات کے مطابق میہڑ میں زرعی پانی کی قلت کے خلاف ایس یو پی اور کسان جدوجہد کمیٹی کی جانب سے میہڑ انڈس ہائی وے پر ایس یو پی کے مرکزی رہنما روشن علی برڑو، غلام مصطفی چانڈیو، ڈاکٹر برکت جتوئی، سکندر سوڈہر، عوامی تحریک کے مرکزی رہنما ایڈووکیٹ ساجد مہیسر، ایڈووکیٹ امتیاز جتوئی، قومی عوامی تحریک کے مرکزی رہنما ایڈووکیٹ منور حسین جتوئی، پی ٹی آئی رہنما نیاز علی برڑو، شہری اتحاد کے رہنما عبدالستار چنہ، کسان رہنماؤں محمد عمر تیونو، ریاض کلہوڑو، شبیر منگی ایڈووکیٹ، ذوالفقار علی چانڈیو، اسحاق سوڈہر و دیگر کی قیادت میں سیکڑوں آبادگار شامیانہ لگا کر تپتی دھوپ میں دھرنا دیا 8 گھنٹوں تک انڈس ہائی وے بلاک کر کے لاڑکانہ اور کراچی آنے جانے والی گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی مسافر شدید پریشان، مظاہرین پانی کی قلت اور آبپاشی عملے کی نااہلی اور حکمران جماعت کے خلاف شدید نعرے بازی کی، رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے اور نیشنل پریس کلب میہڑ کے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رائس کینال اور ان سے نکلنے والی ککول نہر، صالح شاخ، نصیر واہ، نارا کینال، سید پور شاخ، گل محمد واہ سمیت مختلف نہروں میں پانی کی شدید قلت ہے پانی نہ ہونے کی وجہ سے زمیںنں بنجر بن گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ پانی بند کر کے آبپاشی عملہ ظلم کی انتہا کر رہے ہیں، ہزاروں ایکڑ زمین بنجر بن گئی ہے پانی کی قلت کے خلاف کئی کسان تصام میں قتل ہو چکے ہیں غریب خودکشی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں حکمران اور منتخب نمائندوں کی جانب سے کوئی مدد نہیں کی ان کی نااہلی کے باعث میہڑ تحصیل کے اندر پانی کا بحران بڑھ گیا ہے دھرنے کے باعث گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی، مسافر پریشانی میں مبتلا پولیس اور موٹر وے انتظامیہ اور آب پاشی عملہ سمیت روینیو اور ایریگشن آفسر دھرنے سے بےخبر بنے ہوئے ہیں مظاہرین کی جانب سے پانی کی قلت ختم ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا جبکے ایس ڈی او ایریگیشن اور آبپاشی عملے کے آفسر دھرنے کی جگہ پہنچ کر مظاہرین سے 24 گھنٹوں تک پانی بڑھانے اور واھوں کی صفائی کرا کر پچھڑی تک پانی پھچانے کی یقین دہانی دلا کر دھرنا ختم کرایا۔