اللہ رب العزت نے ہم سب کو بہت ساری نعمتیں عطا فرمائیں اور ان سے فائدہ حاصل کرنے کے لیے اسباب بھی عطا فرمائے اور ان میں وقت کی نعمت زمانہ، حال ،ماضی اب اسکی قدر کو پہچاننا اور وقت کو اپنے کام میں لا کر قیمتی بنانا ہر انسان پر لازم ہے ۔یہ ایک خزانہ ہے کہ اس خزانے کو کیسے استعمال کیا جاسکتا ہے اسلئے کہا جاتا ہے۔
الوقتُ مِن ذَھب
سونے سے تشبیہ دی ہے۔
جس طرح سونے کی حفاظت کی جاتی ہے اس طرح وقت کی بھی لیکن یہ ہے کہ سونا ضائع ہو جائے پھر مل سکتا ہے لیکن وقت دوبارہ نہیں ملتا۔
الوقتُ حیاتٍ
وقت زندگی ہے۔
اللہ نے ہر کام کا وقت مقرر کیا ہے روزے کے اوقات،نماز کے اوقات کہ کن کن وقتوں میں کیا کیا کرنا ہے۔ہمیں چاہیے کہ وقت کو سرمایا بناۓ۔انبیاء کی نصیحتوں میں شامل ہے کی وقت کی قدر کرے وقت کو سرمایا بنایا جائے۔
حدیث میں آتا ہے:
اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے جس میں لوگ بہت ذیادہ دھوکے کا شکار ہے۔ صحت، فراغت
وقت بہت بڑی نعمت ہے اللہ اس کی قدر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔امین
امام احمد جو ہمارے امام ہے انہوں نے ایک ہزار کتابیں لکھی انکی عمر زیادہ نہیں یہی ستر لیکن وقت میں برکت۔
جس جس نے بھی وقت کو کام میں لایا ہے چھوٹی سی زندگی میں کوئی مفسر بن گیا کوئ محدث بن گیا جس نے وقت کی قدر کی ہے۔اس میں سب سے بڑا دھوکہ جو لگتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم کل کرے گے ابھی جو کام کرنے کا وقت ہے وہ چلا جاتا ہے ہم اپنی زندگی سے کل کو ختم کرے یہ تو بچوں کا بہلاوا ہے۔
محقیقین نے یہاں تک لکھا ہے کہ وقت ضائع کرنا خود کشی ہے۔
حدیث:
کہ ہر روز صبح کے روز سورج طلوع ہوتا ہے تو دن یہ اعلان کرتا ہے آج جو یہ چاہتا ہے کہ بھلائ کر لے آج کہ بعد میں پھر کبھی نہیں آؤ گا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دعا:
اے اللہ ہم آپ یسے زندگی کی بہترین اوقات اور اپنے اوقات میں برکت مانگتے ہیں۔
آمین ثم آمین
Tags Dr.Ghulam Murtaza بنتِ علی قریشی