کراچی (نوپ نیوز) پاکستان قومی اتحاد کے سیکریٹری جنرل سہیل یعقوب نے کہا ہے کہ افغانستان میں بدترین صورتحال کی ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے۔ امریکہ نے افغانستان کے اثاثے منجمد کر دئیے ہیں اور تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہے، جس کی وجہ سے اقوام متحدہ بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد فراہم نہیں کر سکتا۔ او آئی سی افغانستان کو اس سنگین بحران سے نکالنے میں بھرپور کردار ادا کرے، یہ او آئی سی کے لئے اپنی کھوئی ہوئی عزت و وقار بحال کرنے کا شاندار موقع ہے۔ ماضی میں بھی اسلامی ممالک کی بقا و فلاح میں او آئی سی نے کوئی فعال کردار ادا نہیں کیا ہے۔ اس وقت افغانیوں کی حالت زار انتہائی تباہ کن ہے، افغان عوام کو سردیوں میں خوراک، کپڑے اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ تقریبا چار کروڑ افغانی بے یقینی کی کیفیت کا شکار ہیں۔
افغانستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں دنیا کا بدترین انسانی بحران ہے۔ معاشی طور پر غیر مستحکم افغانستان کے مغرب میں ہزاروں غریب خاندان اپنے ریوڑ بیچ چکے ہیں اور بڑے شہروں کے قریب عارضی کیمپوں میں پناہ اور مدد کی تلاش میں ہیں۔ مسلم ممالک تمام اختلافات پس پشت ڈال کر، افغانستان کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لئے متحد ہو جائیں۔ پاکستان قومی اتحاد پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں امریکہ کی جانب سے افغان اثاثے منجمد کرنے کے باعث پیدا ہونے والے بحران پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پی کیو آئی کے سیکریٹری جنرل سہیل یعقوب نے مزید کہا کہ افغانستان کی سابقہ حکومت جس عالمی امداد کے سہارے کھڑی تھی وہ طالبان کی آمد سے بند ہو چکی ہے۔ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو امریکہ منجمد کر چکا ہے۔ افغانستان کی کرنسی کی قدر گر چکی ہے جبکہ ملک میں بیروزگاری اور مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں افغانستان میں ایک ملین بچے بھوک سے مر سکتے ہیں۔ مسلم ممالک ایک ہو کر اپنے اسلامی ملک افغانستان کے لئے آواز بلند کریں اور امریکا پر افغانستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو غیر منجمند کرنے کے لئے زور دیں، تاکہ افغانستان میں ترقیاتی منصوبوں اور پروجیکٹس کو دوبارہ شروع کیا جا سکے۔ اس پیسے کو منجمد کرنا غیر اخلاقی ہے اور تمام بین الااقوامی قوانین اور اقدار کی خلاف ورزی ہے۔ افغان عوام کی مدد کرنا او آئی سی، اقوام متحدہ اور انسانی عالمی حقوق کی تنظیموں کی ذمہ داری ہے۔ افغانستان میں معاشی مشکلات انسانی بحران کو جنم دے سکتی ہیں اور مزید عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہیں جس سے علاقائی اور بین الاقوامی امن متاثر ہوسکتا ہے۔ افغانستان میں بچوں اور خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد اس وقت تعاون کی منتظر ہے، او آئی سی افغان بحران کے حل کے لئے موثر کردار ادا کر کے ثابت کرے کہ وہ مسلم ممالک کی نمائندہ بننے کا حق رکھتی ہے۔