تازہ ترین
Home / اہم خبریں / کسانوں کا گلا گھونٹنے والے حکمران ملک و قوم کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔ پاسبان

کسانوں کا گلا گھونٹنے والے حکمران ملک و قوم کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔ پاسبان

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی زرعی اصلاحات کمیٹی کے صدربہروز فیلفیلی نے کہا ہے کہ کسانوں کا گلا گھونٹنے والے حکمران ملک و قوم کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔ کسانوں کو بے شمار مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے لیکن آج تک ان کے حل کی کوئی سنجیدہ اور ٹھوس کوشش نہیں کی گئی۔ چند فیصد بڑے جاگیردار چھوٹے کسانوں اور مزارعوں کا خون چوس رہے ہیں۔ کسانوں کو ان کی محنت کا منصفانہ معاوضہ نہیں مل پاتا جس کی وجہ سے وہ کاشت کاری کے ساتھ ملوں میں ملازمت کرنے پر مجبور ہیں۔ 70 فیصد زراعت والا ملک غلط پالیسیوں کی وجہ سے گندم، چینی اور دالیں امپورٹ کرنے پر مجبور ہے۔ صرف زراعت سے جڑے کئی منصوبوں پر کام کرکے خوشحالی لائی جاسکتی ہے۔ اسکے لئے قیادت کے پاس اخلاص اور ویژن کا ہونا ضروری ہے۔ چند ہاتھوں میں گھری ملکی سیاست ملکی ٹیلنٹ سے فائدہ نہیں اٹھانے دیتی۔ زرعی و دیگر شعبوں میں ترقی کے لئے عام با صلاحیت افراد کے لئے سیاست کا دروازہ کھولنا ہوگا۔ پاسبان اقتدار میں آکر ملک میں زرعی انقلاب لائی ملکی زراعت کو دنیا کے صف میں لانے کے جامع منصوبہ بناکر فوری کام کا آغاز کرے گی۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں کسانوں کو لاحق پریشانیوں، حکومتی بے حسی اور کسانوں کے مسائل کو نظر انداز کرنے کی خبروں پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے بہروز فیلفیلی نے مزید کہا کہ کسانوں کے ووٹ ہتھیانے کے لئے تمام جماعتیں ماضی میں بھی بہت بلند و بانگ دعوے کرتی رہی ہیں لیکن کامیابی کے بعد اس اہم شعبے کو بالکل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ صنعت کاروں کو ٹیکسز پر چھوٹ دی جاتی ہے، قرضے معاف کردیے جاتے جبکہ کسانوں کو صرف زبانی کلامی بہلایا جاتا ہے۔ ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کیلئے کمزور طبقہ کو حقوق کو دے کر زمین سمیت قدرتی وسائل میں حصے دار بنانا ہو گا۔ حکومت مہنگائی پر قابو پانے، کھاد و بیچ کی قیمتوں کو کم کرنے، بجلی گیس کے بلوں میں عائد ناجائز ٹیکس اور بقایا جات ختم کرنے جیسے اقدامات کرے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اسے نہ صرف زرعی اجناس میں خود کفیل ہونا چاہئے بلکہ اس کے ذریعے بھاری زرمبادلہ بھی کمانا چاہیے اور ساتھ ہی اس کے ثمرات خوش حالی کی صورت میں کسانوں تک بھی پہنچنا چاہئے مگر بدقسمتی سے زرعی شعبے پر مافیا ہر حکومت کا حصہ بن کر کسانوں کا استحصال کرتی ہے۔ کپاس کی فصل میں خسارہ معمول بن چکا ہے جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری زوال کا شکار ہے۔ لاکھوں ٹن گندم سرکاری گوداموں میں پڑی تلف ہوتی رہتی ہے جس کی وجہ سے فلور ملیں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔ ہماری کئی اجناس کی دنیا میں بہت مانگ ہے لیکن کسان اپنے طور پر کچھ نہیں کرسکتے۔ حکومت کو اس کے لئے جامع منصوبہ بنانا چاہئے کسانوں کو جدید زراعت کی ٹریننگ دے کر فصلوں کے معیار اور مقدار میں بہتری لائی جاسکتی ہے جس سے کسان اور ملک خوشحال ہوسکتے ہیں۔ زراعت کو بہت بڑی صنعت بنایا جاسکتا ہے لیکن ہمارے حکمران صرف اقتدار انجوائے کرنے کے لئے حکومت میں آتے ہیں۔ ہمارے امپورٹڈ اور غیروں کے زیر اثر سیاست دان ملک کے قدرتی وسائل سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ حکومت فوری مہنگائی کو کنٹرول کرے، کھاد بیج سمیت تمام زرعی مداخل کے ریٹس کو کم کیا جائے۔ بجلی بلوں پر ناجائز ٹیکس اور بقایا جات ختم کیے جائیں۔ علاوہ ازیں ماحولیاتی تحفظ اور زمین کی زرخیزی پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جی ایم اوز بیجوں کی کاشت پر سختی سے پابندی عائد کر کے زرخیز زمینوں کو بنجر ہونے سے بچایا جائے۔ زراعت کے شعبے پر ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جائے تو پاکستان ہر قسم کے قرضوں سے آزاد ہو سکتا ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

اسلام آباد ایونٹ سے پاکستان کی سفارتی کامیابی واضح، عوامی ریلیف اولین ترجیح ہے۔ شرجیل انعام میمن

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے