پردہ انسان کی فطری ضرورت ہے سلیم الفطرت عورت کی حیاوشرم کی طبعی تقاضا ہوتا ہے۔
کہ اپنوں کے سوا غیروں سے پردہ میں رہے بلکہ ایک حد تک انسان کو اپنے کو پردے میں رکھنا انسانیت کا فطری تقاضا ہے۔
بےحیائ ،بے پردگی ، عریانیت کو کوئی شریف انسان گوارہ نہیں کرتا ۔بے حیائی بے پردگی کا ماحول انسانیت پر ظلم اور بےپردگی عورت کے لے قید ہے۔
انسانی فطرت کے لحاظ سے شریعت نے بھی پردے کا حکم دیا ہے جسکے بغیر فتنہ فساد کی روک تھام نا ممکن ہے۔
جس خالق نے انسان کو پیدا کیا وہی بہتر جانتا ہے کہ پردہ کتنا ضروری ہے۔
کعبہ و قرآن کو دیکھا ہے غلافوں میں لپٹے
تب میں سمجھی کہ پردے کی فضیلت کیا ہے
شرعی پردے کے مختلف درجات ہیں پردہ اپنی ذات سے بھی ہوتا ہے اور گھر والوں سے بھی رشتہ دار سے بھی اور اجنبیوں سے بھی،پردہ عورتوں سے بھی ہر ایک کے پردے کے حدود احکام ہے۔
پہلا درجہ: کہ چہرہ اور ہتھیلیوں کے علاوہ اور بعض کے نزدیک پیروں کے علاوہ بھی باقی تمام بدن کو کپڑے سے چھپایا جاے اور یہ ادنی درجہ کا پردہ یے ۔
دوسرا درجہ: کہ چہرہ اور ہتھیلیوں اور پیروں کو بھی برقع وغیرہ سے چھپایا جاے یہ درمیانی درجہ کا پردہ یے۔
تیسرا اور آخری درجہ: کہ عورت دیوار یا پردہ کے پیچھے آڑ میں رہے کہ اس کے کپڑوں پر بھی اجنبی مردوں کی نظر نہ پڑے یہ سب سے اعلی درجے کا پردہ ہے۔
یہ تینوں درجے کے پردے قرآن و حدیث میں مذکور ہیں اور شریعت میں ان کا حکم موجود ہے۔
میں جانتی ہوں کہ مرد کی نگاہ غلیظ بھی ہوتی ہے
لیکن یہ مجھ پر منحضر ہے کہ میں اس کو نظر اٹھانے
پر مجبور کروں یا جکھانے پر
عورت سر تا پیر پوشیدہ رہنے کے قابل ہے جب وہ باہر نکلتی ہےتو شیطان اسکی تاگ میں لگ جاتا ہے (رواه ترمذی)۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ وہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنھما خضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھیں کہ اتنے میں عبداللہ بن مکتوم (نابینا صحابی) رضی اللہ عنہ آے، اور اندر انے لگے آپ نے ارشاد فرمایا :کہ تم دونوں پردے میں ہو جاؤ۔ میں نے عرض کیا :یارسول اللہ وہ تو نابینا ہیں ہم کو تو دیکھتے بھی نہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا :کہ کیا تم بھی نابینی ہو کیا ان کو تم نہیں دیکھتیں؟-
اس مقام پر خرابی کا کوئی قریب احتمال بھی نہ تھا کیونکہ ایک طرف ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن جو مسلمان کی مائیں ہیں دوسری طرف ایک نیک صحابی پھر وہ بھی نابینا لیکن اس پر مزید احتیاط کیلئے یا امت کی تعلیم کے لیے آپ نے اپنی بیبیوں سے پردہ کروایا جہاں پر ایسے موانع نا ہوں وہاں پر کیوں نہ پردہ قابل احتمام ہوگا ۔
اج کل معاشرے میں کہا جاتا ہے کہ پردہ دل کا ہونا چاہئیے یا نظر کا ہونا چاہئیے۔کیا ہمارے دل ازواج مطھرات کی طرح ہے
اسی سوچ نے آدھی قوم کو بے پردہ کر دیا
پردہ مسلمان عورتوں پر فرض ہے
چھوڑنے پر گناہ ہے اور انکار کرنے والا فاسق ہے۔
ہمارے معاشرے میں پردہ صرف غموں میں رہ گیا ہیں خوشی کے موقع پر پردے کا نام و نشان دور تک نہیں ہوتا
وہ حجاب ہی کیا جو عید اور شادیوں پر اتر جاے
جب اللہ کا حکم ہے کہ پردہ فرض ہے کیوں نا ہم اس کا مضبوطی سے تھام لے اس کے ہر موقع پر ہمارا ہی فائدہ ہے اجکل جتنا فتنہ ترقی کر رہا ہے اتنا ہی پردہ ضروری ہو گیا ہے۔
میرے اللہ : ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کر
جس زندگی سےتو راضی ہو جاے
آمین یا ربی
Tags Dr.Ghulam Murtaza