تازہ ترین
Home / Home / ذات ۔۔۔ تحریر: سپنا اویس ( بہاولنگر )

ذات ۔۔۔ تحریر: سپنا اویس ( بہاولنگر )

محبت روح میں بسا ایک روحانی جذبہ ہے محبت جس روح میں بس جائے اسے منور کردیتی ہے۔محبت جینا سکھاتی ہے سچی محبت منزلوں کا پتہ دیتی ہیں۔
لٹھے کی طرح سیفد پڑتا وہ بیس اکیس سالہ معصوم سا وجود دنیا جہاں سے بےخبر چارپائی پر سو رہا تھا۔آس پاس موجود لوگ افسوس کر رہے تھے۔
خدا کے لئے امی مجھے دانیال کے علاوہ کسی اور سے شادی پر مجبور مت کریں آمنہ تم بھی بس کرو اب جب تمہیں ایک بار بول دیا کہ دانیال سے تمہاری شادی نہیں ہو سکتی وہ لوگ ہماری ذات کے نہیں ہیں تو نکال دو اسے اپنے دل و دماغ سے بھول جاو دانیال کو اور بس حمزہ کے بارے میں سوچو جس سے جمعہ کے دن نکاح ہے تمہارا۔ امی خدا کا واسطہ ہے آپ لوگوں کو میرے ساتھ یہ ظُلم مت کریں مر جاؤں گی میں۔آمنہ اگر تم نے ایک اور لفظ اپنے منہ سے نکلا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔آمنہ بےبسی سے رونے لگی۔ بیٹی کو روتا دیکھ کر ماں کا دل کچھ نرم ہوا مگر افسوس کہ وہ اس معاملے میں بیٹی کی کوئی مدد نہیں کر سکتی تھی ۔بیٹا تم جانتی ہو تمہارے ابو ان لوگوں کو زبان دے چکے ہیں ۔امی کو پیار سے بات کرتے دیکھ کر آمنہ نے ایک بار پھر سے کوشش کی امی کیا آپ لوگوں کی زبان میری خواہش سے بڑھ کر ہے امی کیا کمی ہے دانیال ؟میں آپ جانتی ہیں نہ دانیال کو امی پلیز ایک بار اور بات کریں نا ابو سے۔ آمنہ، امی اس وقت بے بسی کی انتہا پر تھی ایک طرف شوہر اور دوسری طرف اولاد وہ اس وقت ایک اچھی بیوی ثابت ہوتی تو ایک ماں ہار جاتی اور اگر ایک ماں کا فرض ادا کرتی تو بیوی کے فرض کہ ساتھ زیادتی ہوتی۔آمنہ کو اس کہ حال پر چھوڑ دیا۔آج جمعرات تھی اور ابو کا فیصلہ نہیں بدل تھا۔گھر میں نکاح کی تقریب کی تیاریاں عروج پر تھی ۔ایک اور فیصلہ جو آمنہ نے کیا تھا دانیال نہیں تو کوئی نہیں۔اور آمنہ بہت خاموشی سے اپنے فیصلہ سنا کر لال جوڑے کی بجائے سیفد جوڑا پہن کر اس دنیا سے رخصت ہو چکی تھی ۔
ہم انسان کیسے کسی سے جینے کا حق چھین لیتے ہیں۔کیوں کوئی آمنہ اپنی پسند سے شادی نہیں کر سکتی۔اس لیے کہ ذات ایک نہیں ہے، ہم کیوں ابھی بھی ذات پات میں الجھے ہوئے ہیں آخر کیوں شادی کو آنا کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے ہم خود کو لبرل کہلانا پسند کرتے ہیں ہماری سوچ آج بھی وہی ہے ایک بیٹی مر جائے یا بوڑھی ہو جائے مگر نہ جی نا ذات سے باہر شادی نہیں ہو سکتی۔ہم تو مسلمان ہیں ہمارے تو مذاہب میں بھی اجازت ہے

"لَمْ نَرَ (یَرٰی) لِلْمُتَحَابِّیْنِ مِثْلَ النِّکَاحِ.

ابن ماجہ، السنن، کتاب النکاح،

محبت کرنے والوں کے لیے نکاح سے اچھی کوئی شے نہیں،،
پھر ہم کیوں نہیں مانتے کیوں اپنے بنائے ہوئے قوانین کی پاسداری کرتے ہیں ۔کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم اس ذات پات کو بھول کر یہ یاد رکھیں کہ بس ہم سب مسلمان ہیں ہمارے مذہب ہمیں اجازت دیتا ہے۔تو کیوں کیوں ہم اپنا رویہ تبدیل نہیں کرتے
آخر کیوں؟

About Dr.Ghulam Murtaza

یہ بھی پڑھیں

صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت، نوادرات و آرکائیوز سید ذوالفقار علی شاہ سے بین الاقوامی شہرت یافتہ صوفی گلوکارہ عابدہ پروین کی ملاقات، سندھ انسٹیٹیوٹ آف میوزک اینڈ پرفارمنس آرٹ جامشورو کے دورے کی دعوت

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) صوبائی وزیر ثقافت، سیاحت، نوادرات و آرکائیوز سید ذوالفقار علی شاہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے