کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی و ڈپٹی سیکرٹری جنرل خرم شیر زمان نے کہا کہ بارشوں کے بعد کراچی کے متعدد اندرون علاقے ابتک زیر آب ہیں ایڈمنسٹریٹر کراچی بلدیہ عظمیٰ کے ساتھ ساتھ اس وقت سندھ حکومت کا بھی حصہ ہیں سندھ حکومت نے قبل از وقت اختیارات کے نچلی سطح پر منتقلی کا فیصلہ نہیں کیا فیصلہ کرلیتے تو اس وقت ہر ضلع کا نمائندہ اپنا کام سرانجام دیتا اور جوابدہ ہوتا ایک ایڈمنسٹریٹر اس وقت ون مین شو بننے کیلئے جگہ جگہ فوٹو سیشن کرانے میں مصروف ہے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرانے والی ایم کیو ایم بھی کہیں دکھائی نہیں دیتی شروع دن سے پی پی کی نیت میں بلدیاتی بل میں ترمیم کرنا نہیں تھا آج کراچی کا کاروبار ڈوب گیا حکمران شیش محل سے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔
خرم شیر زمان نے مزید سندھ اسمبلی کے فلور پر جاری اجلاس میں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ سے سوال میں کہا کہ کراچی دنیا میں ٹرانسپورٹ کے اعتبار سے سب سے نچلے نمبر پر آتا ہے 2014 سے ٹرانسپورٹ کیلئے باتیں شروع ہوگئیں تھیں وزیر اعلیٰ نے اسمبلی میں بلو گرین اورنج لائن کیلئے اسکرین لگاکر بریفننگ دی تھی 3 سال کے دوران میں عمران خان نے گرین لائن منصوبہ مکمل کیا گرین لائن پر بسیں اور آئی ٹی سسٹم سندھ حکومت نے لانا تھا سوال یہ ہے صوبائی حکومت کی نالائقی کی وجہ کیا ہے اورنج لائن کیلئے صوبائی حکومت پر کیوں بھروسہ کیا جائے کراچی کے لوگ چنگچی میں سفر کررہے ہیں شرجیل میمن سینئر وزیر ہیں ہر دور میں وزارت ملی ہے کےفور کی وزارت بھی ان کے پاس تھی بس منصوبے کیلئے وزیر اسمبلی فلور پر ایک تاریخ دیں وزیر بسیں اس تاریخ پر لے آئے تو کراچی والوں کی طرف سے انہیں سلام پیش کریں گے پورے شہر کے عوام کو سفری سہولیات کیلئے رلا کر رکھ دیا ہے۔
شرجیل میمن میرے ساتھ کراچی کی کسی بس میں سفر کریں کراچی میں پیپلز بس سروس ٹوٹی سڑکوں کی وجہ سے جگہ جگہ ڈانس کرتی چلتی ہیں سڑکوں کے ٹوٹے ہونے کی وجہ سے بسوں کو کافی حد تک بند کردیا گیا ہے لاڑکانہ میں جو بسیں دی گئیں وہ کھنڈر میں کھڑی ہیں آج منسٹر صاحب ضرور بس میں بیٹھیں پیپلز بس سروس پیپلز پارٹی ذاتی پیسوں سے لائی ہے تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں اگر ٹیکس پیئر کے پیسوں سے بسیں آئی ہیں تو لاڑکانہ کی بسوں کا جواب دیں۔