کراچی (نوپ نیوز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین پولیٹیکل افیئرز سہیل یعقوب نے کہا ہے کہ حکمران ملک کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی کنگال کر رہے ہیں۔ عوام، ملک گیر سطح پر بجلی کی قیمتیں بڑھا کر پاکستان کو کنگالستان بنانے کا منصوبہ کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ قومی اداروں کے سربراہان اور بیورو کریسی کے شاہانہ اخراجات قومی خزانے پر بوجھ ہیں۔ حکومت نے کے الیکٹرک کی حالت سانپ کے منہ میں چھچھوندر جیسی کردی ہے۔ ارباب اختیار کوئی واضح حکمت عملی اختیار کرنا نہیں چاہتے۔ کراچی میں بجلی کی کئی کمپنیاں کام کر سکتی ہیں۔ ڈسٹری بیوشن کے لئے ضلعی بنیادوں پر علیحدہ علیحدہ کمپنیاں قائم کی جائیں۔ نیپرا کی جانب سے بجلی کے نرخوں میں بار بار اضافہ معاشی بدحالی کا شکار عوام کے ساتھ سنگین ظلم ہے۔ کراچی کی عوام پر رحم کرکے بجلی کے نرخوں میں مجوزہ اضافہ کا فیصلہ واپس لیا جائے۔ جب شاہ خرچیاں اور بدعنوانیاں عروج پر ہوں گی تو حکومت بجلی، پانی اور گیس کیسے فراہم کرے گی اور ان پر سبسڈی کیسے دے گی؟ پاکستان ایک بدنظمی کا کیس اسٹڈی بن کر رہ گیا ہے۔ ڈالر آسمان پر جارہا ہے، نجکاری کی باتیں ہورہی ہیں۔
قومی اثاثے اور ادارے کوڑیوں کے مول بیچے جا رہے ہیں لیکن حکمرانوں کے اللوں تللوں میں کوئی کمی نہیں آرہی۔ بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی کے بغیر عوام کو ریلیف نہیں مل سکتا۔ بجلی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ بارہ بارہ چودہ چودہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے باوجود ہزاروں روپے کے بل غریب آدمی کو مزید بوجھ تلے دبانے کے لئے بھیجے جا رہے ہیں۔ طرح طرح کے ٹیکس لگا کر عوام کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔ حکمران اگر عوام کے مسائل حل نہیں کر سکتے تو کم از کم ان میں اضافے کا باعث بھی نہ بنیں۔ بجلی بلوں میں آئے دن اضافوں اور ٹیکسز کی بھرمار کے حوالہ سے پاسبان ہیلپ لائن پر موصول ہونے والی متعدد شکایات پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کے وائس چیئرمین پولیٹیکل افیئرز سہیل یعقوب نے مزید کہا کہ جس طرح زندگی کے لئے ہوا اور پانی لازمی جزو ہے۔ آجکل کے موجودہ دور میں بجلی نے اس میں ایک تیسرے عنصر کی جگہ بنا لی ہے۔ شہروں میں بجلی کے بغیر زندگی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔ حکومت بجلی کو اتنا مہنگا کرتی جا رہی ہے کہ عوام کے لئے اس کا حصول قریب قریب ناممکن ہو جائے گا۔
ان حالات میں جب سب کنگال ہوجائیں گے تو پھر ملک کا نام بدل کر پاکستان کی جگہ کنگالستان ہوجائے گا۔ ہندوستان کی صرف ایک کمپنی ریلائنس پورے پاکستان سے زیادہ بجلی بناتی ہے جوکہ انبانی کی کمپنی ہے۔ حکومتی سطح پر ہماری استعداد اور صلاحیتیں بوسیدہ اور فرسودہ ہیں۔ توانائی کی قلت دور کرنے کے لئے حکومت کو خصوصی اقدامات کرنے ہوں گے۔ مہنگے منصوبوں سے بجلی اور گیس کے بلز زیادہ آتے ہیں، حکومت کو بجلی بنانے کے لئے مہنگے ایندھن اور تیل کے بجائے دیگر طریقوں سے بجلی بنانے پر توجہ دینی چاہئیے۔ ملک میں موجود کوئلے کے وسیع ذخائر سے فائدہ اٹھانے کے لئے مزید بجلی گھر لگائے جائیں۔ بجلی اور گیس کی ملکی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے نظام میں خامیاں دور کئے بغیر توانائی کے بحران پر قابو پانا ممکن نہیں ہوسکتا۔