Home/اہم خبریں/پی ٹی آئی کی سلیکٹیڈ ہی نہیں بلکہ ناکام اور نکمی حکومت ہے جو پچھلے گیارہ ماہ میں ریکارڈ 11.9 ارب ڈالر کا قرضہ لے چکی ہے۔ ترجمان سندھ حکومت
پی ٹی آئی کی سلیکٹیڈ ہی نہیں بلکہ ناکام اور نکمی حکومت ہے جو پچھلے گیارہ ماہ میں ریکارڈ 11.9 ارب ڈالر کا قرضہ لے چکی ہے۔ ترجمان سندھ حکومت
کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی سلیکٹیڈ ہی نہیں بلکہ ناکام اور نکمی حکومت ہے جو پچھلے گیارہ ماہ میں ریکارڈ 11.9 ارب ڈالر کا قرضہ لے چکی ہے جو انکی عیاشیوں پر خرچ ہو رہا ہے لیکن گیارہ ماہ میں غریب عوام کو ایک روپے کا بھی ریلیف نہیں دیا گیا ان سے سوال پوچھو تو یہ جواب چنا دیتے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا بیرسٹر مرتضی وہاب نے مزید کہا عوام ان سے سوال کرتی ہے کہ پچھلے گیارہ ماہ میں لیا گیا قرضہ کہاں گیا کیا کوئی یونیورسٹی ہسپتال بنا ہے بھوک غربت اور مہنگائی کو ختم کرنے کے لئے پیسہ لگایا ہے؟ اگر ہم سوال پوچھتے ہیں توناراض ہوتے ہیں اور یوٹرن لے لیتے ہیں اگلے سال کے لئے 26.3 ارب مزید قرضہ لینا چاہ رہے ہیں پھر کہتے ہیں مدینے کی ریاست ہے ان کا پلان غریب کو ختم کرنے کا ہے مرتضی وہاب نے کہا کہ یہ گندم امپورٹ کرنا چاہتے ہیں آپ کا ٹارگٹ عوام نہیں اے ٹی ایمز ہیں ایک مہینے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 632 ملین ڈالرز ہے دنیا بند تھی فخریہ اندازمیں بتاتے تھے ہم نے خسارہ ختم کر دیا ہے کیا اس کی ذمہ دارسابقہ حکومت ہے عوام ہے یا یہ اشرافیہ ہے یہ چند لوگ ہیں جو تبدیلی کے نام پر اقتدار میں آئے تھے انہوں نے تباہی پھیر دی ہے اس لئے تو پاکستان تحریک انتشار تو کہتے ہیں کپتان جب بولے میں نے سب ٹھیک کر دیا ہے تو اس کو اکانامک افیئرز ڈویژن کے کاغذات دکھائیں سوال تو بنتا ہے کہ گندم کی آڑ میں پیسے خرچ کرنے ہی تھے توغریب کسان کو دے دیتے۔ مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی والے ہٹلر کے دور میں ہوتے تو وہ شاید کچھ اور ہوتا آپ نے کہا تھا میرے پاس بائیس سال کا تجربہ ہے کہاں ہیں وہ ماہرین؟ کوئی کمپنی ان سے بات کرتی ہے تو دوسری مرتبہ دوسرا وزیر خزانہ ہوتا ہے مرتضی وہاب نے کہا کہ یہ جب جب دیکھتے ہیں پیپلز پارٹی بہتر ہو رہی ہے کچھ نہ کچھ لے آتے ہیں عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی بنائی گئی تھی اس میں ایسی کوئی بات نہیں فریال ٹالپور سمیت کسی کا نام نہیں ہے کہتے ہیں 164 کا بیان ہے وہ کہاں لیا گیا فریال ٹالپور سینئر سیاستدان ہیں وہ قومی اسیمبلی کی رکن رہی ہیں ایک متحرک ممبر ہے ان کے خلاف پروپگنڈہ کیا جاتا ہے کشمیرالیکشن سر پر ہیں بلاول بھٹو کشمیر میں ہیں اور انکے والد لاہورمیں ملاقاتیں کر رہے ہیں یہ ہے سیاستدانوں کا کام جو ہماری قیادت کر رہی ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعلی مراد علی شاہ نے وزیراعظم کو کہا تھا کہ ہم کورونا ویکسین خریدنا چاہتے ہیں وزیراعلی مرادعلی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت بتا دے کہ کس قیمت پر ویکسین خریدی ہے ڈاکٹر فیصل سلطان نےکہا کہ ہم ویکسین کی قیمت خرید نہیں بتاسکتے سندھ حکومت نے تو یہ پیشکش کی ہےکہ وفاقی حکومت ہمارے لیے ویکسین خریدے ہم پیسے دینگے مگر یہ ٹال مٹول کر رہے ہیں ایک اور سوال پر مرتضی وہاب نے کہا کہ ماضی میں حلیم عادل شیخ کے خلاف جب اینٹی کرپشن نے انکوائری کی تو یہ کہتے تھے کہ سندھ حکومت کی کسی انکوائری میں پیش نہیں ہوں گا نیب نے حلیم عادل کی ملیرمیں زمین پر قبضے کےخلاف انکوائری کا فیصلہ کیا ہے نیب کہہ رہی ہے کہ ان کی زمین کی ملکیت غیر قانونی ہے اور مشکوک ہے جب ہم بولتے تھے تو یہ کچھ اور کہتے تھے اب کیا کہیں گے تیمورٹالپورجس زمین کا ذکر کرتا تھا نیب دستاویزات میں بھی اس خاتون کی زمین کا ذکر ہے۔