وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ ہے کہ وہ کاشتکاروں کو ریلیف دینے کے لیے کھاد بجلی اور زرعی ادویات پر خصوصی ریلیف دیں
کمالیہ (ایڈیٹر نیوز آف پاکستان ۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ) معروف مثالی کاشتکار پروفیسر ڈاکٹر طارق سلیمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بجٹ میں حکومت نے کاشتکاروں کو بہت مایوس کیا ہے۔ کاشتکار معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن حکومت کی طرف سے کاشت کاروں پر طرح طرح کے ڈھائے جانے والے مظالم نے کاشتکاروں کو زندہ درگور کر دیا ہے۔ ان حکمرانوں کی وجہ سے زمیندار برے حالات میں ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر طارق سلیمان نے کہا کہ کاشتکاروں کی گندم کی قیمت درست نہ لگا کر زمیندار کو خودکشیوں پر مجبور کیا گیا۔ بجٹ میں جہاں سرکاری ملازمین پینشنر اور مزور طبقہ کو نظر انداز کیا گیا وہاں کاشتکاروں کو بھی کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔ پرفیسر ڈاکٹر طارق سلیمان نے مزید کہا کہ کاشتکاران حکومت سے امید لگائے بیٹھے تھے کہ بجٹ میں ڈیزل کھاد بجلی اور زرعی ادویات پر ریلیف دیا جائے گا لیکن حکومت نے زرعی شعبہ کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔ میری وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ ہے کہ وہ کاشتکاروں پر رحم کریں۔ کاشتکاروں کو ریلیف دینے کے لیے کھاد بجلی اور زرعی ادویات پر خصوصی ریلیف دیں۔ زراعت پاکستان کی معیشت کا بنیادی ستون ہے صوبہ پنجاب میں زراعت پیداوار کا سب سے بڑا حصہّ فراہم کرتا ہے۔ پنجاب کی 48 فیصد آبادی کے روزگار کا ذریعہ بھی زراعت سے وابستہ ہے۔ زرعی شعبہ پر حکومت کا خصوصی توجہ دینا وقت کا تقاضا ہے۔