کراچی (نوپ نیوز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ او آئی سی مغرب کے غلاموں کا اجلاس ہے، مل بیٹھ کر یہ سب اپنی اپنی قوم کو دھوکہ دیتے ہیں۔ سالہا سال کے اجلاس کے نتائج صفر سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں نے پہلے افغانستان کا بھرکس نکال دیا۔ لاکھوں عوام کو دہشت گردی کی جنگ کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اب افغانستان کے فنڈز منجمد کرکے او آئی سی کو کہا جا رہا ہے کہ وہ افغانیوں کی مدد کرے۔ پاکستان سمیت تمام ممالک میں شہریوں کو مساوی حقوق میسر نہیں ہیں۔ او آئی سی ایجنڈے میں عوامی حقوق اور آزادیاں شامل نا ہونا آمرانہ سوچ کی عکاسی ہے۔ شاہی اور جمہوری آمروں کو عوام کے بجائے بیرونی مفادات عزیز ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ناحق قید انسانی المیہ ہے۔ وزیر اعظم عمران خان سمیت کسی حکمران نے اس پر بات کرنا مناسب نہیں سمجھا تو او آئی سی کا مقصد کیا باقی رہ جاتا ہے؟ او آئی سی کا ماضی میں بھی انسانیت کے لئے کوئی ایک قابل ذکر کارنامہ موجود نہیں ہے۔ ممبر ممالک کا کوئی حکمران شعور آزادی اور مساوی حقوق کا علمبردار نہیں ہے۔ چھیالیس ممالک میں کوئی ایک ماڈل یونیورسٹی اور میڈیکل انسٹیٹیوٹ موجود نہیں ہے پوری مسلم دنیا تعلیم و سائنس کے میدان میں مغرب کی محتاج ہے۔ مسلم دنیا کے عوام کو ترقی و خوشحالی کے لئے مغربی غلاموں سے جان چھڑانا ہوگی۔
پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی ڈی پی کے چیف آرگنائزر اقبال ہاشمی نے مزید کہا کہ دنیا کا ایک چوتھائی سیاسی، معاشی اور معاشرتی دیوالیہ پن اور تعلیمی پسماندگی کا شکار ہے۔ کسی ایک شعبے میں لیڈنگ رول موجود نہیں ہے۔ موجود وسائل کو عوامی خوشحالی اور ترقی کے لئے استعمال کرنے کی بجائے اپنی شاہ خرچیوں اور حاکمیت کی بقا کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔ اسلام آباد میں منعقد کئے جانے والے او آئی سی اجلاس کے لئے کرفیو جیسی صورتحال پیدا کی گئی۔ تعلیمی ادارے اور دفاتر بند کر وا دیے گئے اور موبائل سروس بھی محدود کر دی گئی۔ اگر ہمارے حکمران اور ارباب اختیار عوام کو عزت کے ساتھ دو وقت کی روٹی انصاف روزگار اور بنیادی حقوق کی فراہمی پر توجہ دیں تو سیکیوریٹی کے نام پر ایسے اقدامات کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ نیچے سے اوپر تک سب ارباب اختیار ٹھوس اقدامات کے بجائے "ڈنگ ٹپاؤ "پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا برہمن اور شودر میں تقسیم ہے۔ مسلم برہمن، عوامی شعور، ترقی اور خوشحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ خلافت راشدہ کی مثالیں دینے والے اور حرمین کے خادم بڑے بڑے محلات میں رہائش پذیر ہیں۔