![]()
"نظم”
میرے گھر کے صحن
میں گرنے والی بارش
کی ہر اک بُوند کی
دلکشی، مٹی میں مل
کر اور بھی نکھرتی جا
رہی ہے۔۔۔!۔
اور یہ خُوشبو۔۔۔۔۔۔۔
دُنیا کی سبھی خُوشبوؤں
کو پیچھے چھوڑ رہی ہے
مٹی کی یہ بھینی بھینی
سی مہک کس قدر لطف
دیتی ھے ناں جب بارش کے
قطرے اس میں جذب ہو
جائیں تو یہ مہک اور بھی
بکھر جاتی ھے اردگرد
ہواؤں میں۔۔۔!۔
یہ خوشبو سانس کی
نالیوں سے گزرتی ہوئی
سیدھا روح تک اُترتی ہے۔۔۔۔!۔