تازہ ترین
Home / اہم خبریں / ماہرین کا عالمی یوم ِبحر کے موقع پر آئی پی ایس ویبنار میں بحری ماحول کے تحفظ اور وسائل کی ترقی کی اہمییت پر زور

ماہرین کا عالمی یوم ِبحر کے موقع پر آئی پی ایس ویبنار میں بحری ماحول کے تحفظ اور وسائل کی ترقی کی اہمییت پر زور

کراچی/ اسلام آباد (رپورٹ: ذیشان حسین) میری ٹائم کے شعبے میں انسانی اور قدرتی وسائل کی تزویراتی اہمیت کے پیش نظر تحقیق اور ترقی پاکستان میں ‘نیلے’ معاشی انقلاب کا بیج بونے کے لیے وقت کی ضرورت ہے۔ یہ ان خیالات کا لب لباب تھا جن کا اظہار میری ٹائم امور کے ماہرین اور سائنسدانوں نے انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے ایک ویبنار میں کیا جس کا عنوان تھا "بحر زندگی، معاش اور پائیداری، پاکستان کے لیے چیلنجز اور مواقع”۔ عالمی یومِ بحر 2021ء کے موقع پر اس ویبنار کا اہتمام انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے جامعہ کراچی، میری ٹائم اسٹڈی فورم، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز اور پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کے اشتراک کے ساتھ کیا تھا۔ ویبنار کی صدارت آئی پی ایس کے وائس چیئرمین ایمبیسیڈر (ر) سید ابرار حسین نے کی اور اس میں بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اظہر احمد، ڈاکٹر نزہت خان، سابق ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشیانوگرافی، ڈاکٹر اسماء تبسم، منیجر اوریک، جامعہ کراچی، سابق وزیر اور سینیٹر نثار اے میمن، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز کی سینئر ریسرچ فیلو نغمانہ ظفر، آئی پی ایس کے جنرل مینیجر اور میری ٹائم اسٹدی فورم کے جنرل سیکرٹری نوفل شاہ رخ شامل تھے جبکہ کمانڈر معید، لیفٹیننٹ کمانڈرعمران اور لیفٹیننٹ جمیل نے پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ویبنار میں میزبانی کے فرائض آئی پی ایس کے ڈپٹی منیجر آؤٹ ریچ حافظ انعام اللہ نے ادا کیے۔ مبصرین کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ماہی گیر ساحلی آبادی، جوکہ ملک کی 1001 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر بڑی تعداد میں بستے ہیں، کی استعداد میں اضافے کے زریعے نہ صرف ماہی گیری بلکہ سمندری زراعت اور معیشت کی پائیدار ترقی کی منصوبہ بندی ملک کے روشن مستقبل کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ بحری وسائل پر یونیورسٹیوں میں کی جانے والی تحقیق ان کے ساحلی دیہات میں کائی، سمندری گھاس اور کئی دیگر قیمتی حیاتیاتی اجسام کی نشوونما میں مدد فراہم کر سکتی ہیں جو ادویات، کاسمیٹکس اور خوراک میں بہت کارآمد ہوتے ہیں۔ پاکستان کے سمندری وسائل پر توجہ مرکوز کرنے والی بہت ہی اہمیت کی حامل تحقیق کراچی یونیورسٹی، بحریہ یونیورسٹی اور دیگر یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں میں پہلے ہی کی جا چکی ہے، تاہم حکومت کی بے اعتنائی اور صنعتی شعبے کی طرف سے دلچسپی کا فقدان ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے جو تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری اور دستیاب تعلیمی تحقیق کو کمرشلائز کرنے میں حائل ہے، جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مقررین نے ساحلی زون کے انتظام و انصرام اور سمندر اور اس کے وسائل کے تحفظ کے لیے قومی اور بین الاقوامی ماحولیاتی قوانین کے سختی سے نفاذ پر بھی زور دیا۔ ویبنار میں گفتگو کے دوران اس طرف توجہ دلائی گئی کہ تمام دنیا میں ساحلی کمیونیٹیز زیادہ خوشحال ہوتی ہیں کیونکہ ساحلی علاقے زیادہ ترقی یافتہ ہوتے ہیں۔ لیکن پاکستان میں سوائے کراچی کے پورا ساحل نظرانداز ہی رہا ہے۔ اگرچہ سی پیک نے میری ٹائم شعبے کو ترقی دے دی ہے، لیکن نیلی معیشت کے تمام عناصر میں جدید تربیت اور ضروری مہارت مہیا کرنے کے لیے مزید مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ 2002 میں جاری کی گئی پرانی نیشنل میری ٹائم پالیسی کی تجدید کا مسودہ ایک دہائی پہلے دوبارہ تیارکر لیا گیا تھا لیکن ابھی تک اس کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی جسے شریک گفتگو افراد نے پالیسی سازوں کی جانب سے میری ٹائم امور کے لیے بے حسی اور لاپرواہی قرار دیا۔ شرکاء کا مطالبہ تھا کہ پاکستان کو ایک جامع میری ٹائم پالیسی کی ضرورت ہے جو تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر تشکیل دی جانی چاہئے۔ مقررین نے پاکستان میں بحری امور سے متعلق غفلت کو دور کرنے اور ملک بھر میں یونیورسٹیوں اور تھنک ٹینکس کو میری ٹائم ریسرچ میں مشغول کرنے پر آئی پی ایس کی کوششوں کو سراہا۔ میری ٹائم شعبے سے متعلق آگاہی بڑھانے کے لئے مختلف درجات پر تعلیمی نصابوں میں اس کے مضمون کو متعارف کرانے کی لیے بھی بھرپور گفتگو ہوئی۔ سمندر کی صحت و سلامتی اور اس کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے، مبصرین نے پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی پر زور دیا کہ وہ سندھ اور بلوچستان کی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسیوں اور دونوں صوبوں کے ساحلی اضلاع کی مقامی حکومتوں کے مابین ہم آہنگی پیدا کرکے ماحولیاتی قوانین کو سختی سے نافذ کرنے میں قائدانہ کردار ادا کرے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے