تازہ ترین
Home / اہم خبریں / کراچی پریس کلب میں منعقدہ سیمینار میں پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کو تمام صحافتی تنظیموں کے قائیدین و سینئر صحافیوں نے مسترد کردیا

کراچی پریس کلب میں منعقدہ سیمینار میں پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کو تمام صحافتی تنظیموں کے قائیدین و سینئر صحافیوں نے مسترد کردیا

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کراچی رپورٹرز فورم کی جانب سے کراچی پریس کلب میں پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کو تمام صحافتی تنظیموں کے قائیدین و سینئر صحافیوں نے مسترد کرتے ہوئے مجوزہ آرڈیننس کو صحافت اور صحافتی اداروں کو بلڈوز کرنے کا حکومتی عمل قرار دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا مکمل بائیکاٹ کرنے کی تجاویز پیش کرتے ہوئے مشترکہ جدوجہد کرنے کا عزم کیا اور چند روز میں تمام صحافتی تنظیموں کا مشترکہ اجلاس کراچی پریس کلب میں طلب کرنے پر اتفاق کیا۔

سیمینار سے سینیئر تجزیہ کار مظہر عباس، عالمی شہرت یافتہ سینیئر صحافی قمر احمد، کے یو جے کے سابق صدر حسن عباس، کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، ڈاکٹر توصیف احمد، سیکریٹری کے پی سی رضوان بھٹی، کراچی پریس کلب کے سابق سیکریٹری مقصود یوسفی، سابق صدر امتیاز خان فاران، قآضی آصف، سی پی این ای کے سابق سیکریٹری ڈاکٹر جبار خٹک، سینیئر صحافی طاہر حسن خان، موسیٰ کلیم، کے یو جے رہنما فہیم صدیقی، سینییر صحافی سعید عثمانی، سابق سیکریٹری کراچی پریس کلب اے ایچ خانزادہ، سینیئر صحافی سعید خاور، سجاد عباسی، پیپ کے صدر جمیل احمد، سینیئر صحافی جاوید چوہدری، کراچی رپورٹرز فورم کے صدر معین اللہ شاہ، سینیئر نائب صدر میاں طارق جاوید، جنرل سیکریٹری انفاس کھوکھرنے خطاب کیا۔ سیمینار میں سیکریٹری محمد عبد اللہ، سیکریٹری فنانس شیخ محمد رمضان، رکن مجلس عاملہ شبیر شفقت، شہزادہ معین بھی موجود تھے۔ مقررین نے مجوزہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی نہ صرف شدید مذمت کی اور کہا کہ مجوزہ اتھارٹی آرڈیننس کو خفیہ رکھ کر حکومت کی نیت مشکوک ہو گئ ہے۔ مقررین نے کہا کہ وفاقی حکومت میڈیا کو نہ صرف کنٹرول کرنا چاہتی ہے بلکہ تقسیم کرنے کی ساتھ ساتھ بلڈوز بھی کرنے جارہی ہے، مجوزہ قانون میڈیا اداروں اور صحافیوں کے لئے انتہائی خطرناک ہے، جسے کسی بھی طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔

مقررین نے کہا کہ وفاقی حکومت من پسند اور اپنی تعریف کی خبریں نشر کرانا اور چھپوانے کے لئے آرڈیننس صحافیوں اور صحافتی اداروں پر مسلط کرنا چاہتی ہے، مقررین نے مجوزہ اتھارٹی آرڈیننس کو مکمل طور پر مسترد کردیا۔ سیمینار میں قراردادیں پیش کی گئیں جو متفقہ طور منظور کر لی گئیں۔ قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت آزادی اظہار پر قدغن لگانے کی لئے قانون سازی نہ کرے۔

وزارت اطلاعات کی جانب سے میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے بارے میں قانون بنا تو پاکستان میں میڈیا صنعت کا مستقبل مخدوش ہو جائے گا۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت قانون سازی میں صحافتی تنظیموں کو اعتماد میں لے۔ دوسری قرارداد میں مطالبہ کیا گیا اور میڈیا مالکان پہ زور دیا گیا کہ ساتویں ویج بورڈ ایوارڈ کے بقایا جات فوری ادا کیے جائیں اور آٹھویں ویج ایوارڈ کا فوری نفاذ کیا جائے۔ مالکان میڈیا ہاوسز حکومت کی جانب سے ملنے والے دو ارب ستر کروڑ روپے ملازمین کی تنخواہوں کی صورت میں فوری ادا کرے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

آئی بی اے اور آئی او بی ایم ایچ ای سی باسکٹ بال چیمپئن شپ کے فائنل میں پہنچ گئے

کراچی (رپورٹ، ذیشان حسین/ اسپورٹس رپورٹر) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے زیر اہتمام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے