کوہاٹ (رپورٹ: اصغر شاہ) کوہاٹ میں رشتے سے انکار پر قتل ہونے والی لڑکی عاصمہ رانی کے باپ نے قاتل مجاہد آفریدی کو معاف کر دیا۔ عاصمہ رانی کے والد غلام دستگیر کا کہنا ہے کہ مجاہد آفریدی کے خاندان والے گھر آئے تھے اور بچوں کا واسطہ دے کر معافی طلب کر رہے تھے انہوں نے میری بیٹی کے ساتھ ظلم کیا تھا لیکن میں نے اللہ کی رضا کے لیے مجرم کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غلام دستگیر کا کہنا ہے کہ مجھے اس کیس میں دھمکیاں بھی مل رہی تھیں اور مجھ سے یہ بھی کہا گیا کہ حکومت ہماری ہے آپ صلح کے لیے راضی ہوجائیں مگر میری یہ ضد تھی کہ عاصمہ کے قاتل کو پھانسی کی سزا ضرور دلواؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ انہوں نے مقامی عمائدین اور علماء سے مشاورت کے بعد اللہ کے رضا کی خاطر کیا اور وہ ان تمام لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس کیس میں ان کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ عاصمہ رانی کے والد کے بعد مجاہد آفریدی کے خاندان اور کوہاٹ پولیس نے بھی صلح نامے کی تصدیق کردی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عاصمہ رانی کے والد غلام دستگیر نے گزشتہ اتوار کو ایک جرگے میں سزائے موت پانے والے مجرم مجاہد آفریدی کو معاف کیا جبکہ صلح کے معاہدے کا باقاعدہ اعلان آئندہ اتوار کوہاٹ کے تبلیغی مرکز میں ہوگا۔ دوسری جانب لکی مروت سے تعلق رکھنے والے سیاسی سماجی رہنماؤں کی جانب سے عاصمہ رانی کے والد پر دباؤ میں آنے اور پیسہ وصول کرنے کے الزامات بھی لگائے جارہے ہیں تاہم غلام دستگیر نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
عاصمہ رانی کون تھی؟
کوہاٹ میں رہائش پزیر لکی مروت سے تعلق رکھنے والی عاصمہ رانی کو جنوری 2018 میں شادی سے انکار پر مجاہد آفریدی نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا۔ ایوب میڈیکل کالج کی اسٹوڈنٹ عاصمہ رانی نے فائرنگ کے بعد زخمی حالت میں مجاہد آفریدی کو کیس میں نامزد کیا تھا۔ مجاہد آفریدی واردات کے بعد متحدہ عرب امارات فرار ہو گیا تھا جسے بعد میں حکومت کی درخواست پر انٹرپول کے ذریعے گرفتار کرکے مارچ 2018 میں پاکستان واپس لایا گیا۔ عاصمہ رانی قتل کیس کو ابتدائی سماعتوں کے بعد سیکیورٹی خدشات کے باعث کوہاٹ سے پشاور متقل کر دیا گیا تھا اور رواں برس جون میں پشاور کی مقامی عدالت نے مجاہد آفریدی کو سزائے موت سنائی تھی اور کیس میں نامزد دو دیگر ملزمان شاہ زیب اور صدیق اللہ کو بری کر دیا تھا۔