میرا نام ضیاء شاہد ہے۔ قلمی ناموں میں صوفی محمد ضیاء شاہد، فقیر محمد شاہد، شاہد کمالوی اور بے چین کمالوی ہیں۔
سکول ریکارڈ کے مطابق میری تاریخ پیدائش 7 فروری 1969 ہے۔ جائے پیدائش محلہ فتح پور کمالیہ شہر ہے۔ میرے والد محترم کا نام مستری محمد اقبال عاقل اور والدہ محترمہ کا نام خورشید بی بی ہے۔ والد محترم مستری محمد اقبال عاقل علاقہ بھر میں ماہر مکینیکل انجینیئر خرادیئے تھے۔ ان کی وفات 3 دسمبر 2021 کو ہوئی۔ والد محترم کی عمر 80سال کے لگ بھگ تھی۔ والدہ محترمہ 27 ستمبر 2015 کو اللہ کو پیاری ہوئیں۔ ان کی عمر تقریباً 70 سال تھی۔ والدہ محترمہ حمد، نعت اور منقبت کی پنجابی شاعرہ تھیں۔ والدہ محترمہ اپنا کلام خواتین کی محفل میں سنایا کرتے ہیں اور گھر میں تو کام کرتے ہوئے بھی اپنا کلام پڑھتی رہتی۔
میرے دادا کا نام اللہ دین تھا۔ اور پردادا کا نام بہاؤالدین تھا۔ روایت کیا جاتا ہے کہ میرا پردادا بہاؤالدین نے 1920 کے اوائل میں بیکانیر متحدہ ہندوستان سے ہجرت کر کے کمالیہ آباد ہوئے تھے ۔ میرے دادا اللہ دین 1940 کے دور میں کنویں کھودنے کے ٹھیکیدار تھے اور ان کی اپنی ٹیم بنائی ہوئی تھی۔ اس ٹیم کے سربراہ میرے دادا تھے۔ ان کی ٹیم میں ان کے بھائی اور علاقہ کے چند مزدور شامل تھے۔ میرے والدین بتاتے ہیں کہ علاقہ کے بہت سارے لوگ فجر کی نماز کے فوری بعد ہمارے گھر کے باھر آ کر بیٹھ جاتے اور کنویں کھودنے کے لیے مزدوری پر ساتھ لے جانے کی استدعا کرتے۔ میرے تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ بیٹوں کے نام حافظ محمد عالم طارق، محمد بلال طارق اور محمد فاروق شاہد ہے۔
1974 میں میرے چھوٹے بھائی نزیر احمد کو مثانہ کے آپریشن کے سلسلے میں نشتر ہسپتال ملتان لے جانا پڑا۔ آپریشن کے چند روز کے بعد والد محترم کو ملتان کے ایک کارخانہ میں مکینیکل انجینیئر کے طور پر ملازمت مل گئی۔ اس سلسلہ میں میرے والدین مئی 1975 تک ملتان میں رہے۔ کمالیہ واپسی پر مئی 1975 کو والد محترم نے مجھے ایم سی پرائمری سکول نیا بازار کمالیہ میں داخل کروا دیا۔ اس وقت میری عمر چھ سال دو مہینہ تھی۔ میرے ایک چچا کا نام محمد عادل مرحوم تھا۔ وہ لاری اڈا کمالیہ میں ایک دکان پر ملازم تھے اسی دکان پر اس وقت پاکستان کے معروف تین روزنامہ اخبار فروخت ہوتے تھے ان اخبارات میں روزنامہ نوائے وقت لاہور، روزنامہ مشرق لاہور، اور روزنامہ امروز لاہور تھے۔ روزنامہ نوائے وقت لاہور ایک تحریکی اور نجی اخبار تھا جبکہ روزنامہ مشرق لاہور اور روزنامہ امروز لاہور سرکاری اخبار تھے۔ میرے چچا محمد عادل مرحوم ان اخبارات کے بچوں کی ایڈیشن میرے لیے گھر لاتے اور مجھ سے اخبار پڑھنے کا کہتے۔ میں ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں انہیں اخبار پڑھ کر سناتا اس طرح میں بچوں کے اخبارات پڑھنے شروع کیے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب 4 اپریل 1979 کو ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو میرے چچا محمد عادل مرحوم نے روزنامہ امروز لاہور اخبار لا کر دیا تھا۔ میں اس وقت کلاس چہارم میں پڑھتا تھا۔ میں نے گھر والوں کو ٹوٹے پھوٹے الفاظوں میں اخبار پڑھ کر سنایا۔
جب میں پرائمری کا طالب علم تھا اس وقت پاکستان ٹیلی ویژن سے بچوں کا مقبول ڈرامائی سیریز الف لیلیٰ ٹیلی کاسٹ ہوتا تھا۔ بچوں کے اخبارات و رسائل پڑھنے سے قلم سے وابستگی کافی گہری ہو چکی تھی۔ اسی وجہ سے میں رات کو جب الف لیلیٰ کی قسط دیکھتا تو اس کی ساری کہانی کاپی پر لکھ لیتا۔ میرے لیے یہ کام ایک ادبی مشق کی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔ کاپی پر الف لیلیٰ کی کہانی لکھ کر صبح سکول لے جاتا اور اپنے کلاس کے دوستوں کو پڑھنے کے لیے دیتا۔ میرے پاس الف لیلیٰ کی کئی کہانیاں اکٹھی ہو گئیں۔
بچوں کے اخبارات میں خطوط بھی لکھے جن کو عرصہ دراز تک کوئی حوصلہ افزائی نہ ملی اس دوران 1980 میں جب میں چوتھی کلاس میں تھا تو میں نے اپنے دوستوں کے ہمراہ کمالیہ میں کتابوں کی اکلوتی دُکان دریافت کر لی جو ایک لکڑی کی الماری پر مشتمل تھی اور سامنے ایک میز رکھا جاتا تھا جس پر رسائل اور چھوٹی چھوٹی کتابیں پڑھی ہوتی اس دُکان کے مالک کا نام بابا رحیم بخش تھا بابا رحیم بخش نے مجھے پانچ پیسے میں ماہنامہ بچوں کا باغ اور ماہ نامہ بچوں کی دنیا لاہور کے پرانے شمارے دیئے۔ ہم دوست باری باری یہ رسائل گھر لے جا کر پڑھتے ان دوستوں میں محمد اشفاق راجپوت اور غلام مرتضیٰ ڈوگر تھے۔ دونوں کا ساری زندگی ادب و صحافت سے کوئی تعلق نہ رہا۔
چند ماہ کے بعد ہم دوستوں کو کمالیہ کی واحد اکلوتی نیوز ایجنسی بھی مل گئی۔ جس پر پاکستان بھر کے ماہانہ نۓ رسائل مل جاتے۔ اس نیوز ایجنسی سے ہم نے ماہ نامہ بچوں کی دنیا لاھور اور ماہنامہ بچوں کا باغ لاھور کے نئے رسالے خریدے۔ اس نیوز ایجنسی کا مالک کا نام سلیم پھلوری تھا۔ جو کہ پولیو کی وجہ سے دونوں ٹانگوں سے معذور تھا۔ سلیم پھلوری کی عمر اس وقت 55 سال کے لگ بھگ تھی۔ سلیم پھلوری کمالیہ شہر میں واحد رفوگر بھی تھا۔ یہ نیوز ایجنسی بھی ایک معروف ہومیو ڈاکٹر خالد مسعود ڈوگر کے کلینک صدر بازار کمالیہ کے دروازے پر لکڑی کے بڑے میز پر سجائی جاتی تھی۔ سلیم پھلوری خود بھی مطالعہ کا شوقین تھا۔ سلیم پھلوری نے ہمارے بچپن سے لے کر جوانی تک اور پھر اپنی موت تک ہمیں شفقت اور پیار سے نوازا۔ وہ ہمیں نئے نئے رسائل سے متعارف کراتا تھا۔ اس نیوز ایجنسی سے ہم نے ماہنامہ بچوں کی دنیا لاہور اور ماہانہ بچوں کا باغ لاہور اور ماہنامہ بچوں کی باجی فیصل آباد کے نئے شمارے بھی خریدے۔ رسائل کی خریدداری ہم تینوں دوست اپنے جیب خرچ سے کرتے۔ ایک دو ماہ کے بعد میں نے بچوں کا ایک رسالہ ماہنامہ بچوں کی باجی فیصل آباد اور ماہ نامہ جواب عرض لاہور خرید لیا۔ اس طرح 1980 میں ماہ نامہ جواب عرض لاہور میرے بستے میں آگیا تھا۔ اس وقت ماہنامہ جواب عرض لاہور میں صرف منتخب اشعار، اقوال زریں، قلمی دوستی اور پیغامات جیسے کالم ہی پڑھنے کی اہلیت تھی۔ گویا میں یہ بات بڑے فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ میں ماہنامہ جواب عرض لاہور کا سب سے کم عمر قاری ہوں۔ نومبر 1980 متعلم کلاس پنجم میں روزنامہ نوائے وقت لاہور کے بچوں کے ایڈیشن پھول اور کلیاں میں میری منتخب کردہ پہلی تحریر شائع ہوئی۔ اس تحریر پر کاتب کی غلطی سے میرا مکمل نام و پتہ شائع ہو گیا۔ جس کی وجہ سے مختلف شہروں سے ہم عمر طالب علموں کے تقریباً 45 خطوط ملے۔ کاتب کی اس غلطی نے مجھے زندگی کے بہت سارے اعزازات سے نوازا۔ ان ملنے والے خطوط سے میرے بہت سارے قلمی دوست بن گئے اور خط و کتابت کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔ میں نے اپنے ان قلمی دوستوں کے تعارف اور ان کی تحریروں کو مرتب کیا اور اپنا رسالہ شائع کرنے کا پروگرام بنا لیا۔ لیکن کلاس پنجم کے امتحان کی وجہ سے میرا یہ رسالہ چند ماہ لیٹ ہو گیا۔
میں نے اپنی ڈاک کا نیا پتہ اپنے سکول کے نزدیک ایک کریانہ کی دُکان کا دینا شروع کر دیا۔ سکول چھٹی کے بعد اس دُکان سے اپنے خط اور رسالے لے کر گھر آتا۔ اس دُکان کا مالک غلام مصطفیٰ مرحوم تھا۔ جو مجھے بہت شفقت اور پیار کرتا تھا۔ اس کا چھوٹا بھائی میری کلاس میں پڑھتا تھا۔ اس دور میں روزانہ تین سے پانچ خط میرے نام آتے تھے۔
31 مارچ 1981 کو کلاس پنجم کا نتیجہ آیا اپریل 1981 میں گورنمنٹ نارمل سکول کمالیہ جہاں اب کمالیہ یونیورسٹی ہے۔ میں چھٹی کلاس میں دوستوں کے ساتھ خود جا کر داخلہ لیا۔ مئی 1981 میں میرا مرتب کردہ میگزین سپیشل فرینڈز کی اشاعت ہو گئی۔ پاکستان بھر میں مجھے یہ اعزاز حاصل ہو گیا کہ چھٹی کلاس کا کوئی طالب علم اپنا مرتب کردہ میگزین چھاپ لے۔ اس وقت میری عمر 12 سال تھی۔ اس وقت مجھے اے بی سی بھی یاد نہیں تھی۔ یاد رہے کہ ہمارے اس دور میں انگلش چھٹی کلاس میں پڑھانا شروع کی جاتی تھی۔
چھٹی کلاس میں داخلہ ملنے پر میں نے دوستوں کو اپنی کلاس و سکول کا پتہ دے دیا۔ اب اس سکول میں میری ڈاک کا اضافہ ہو گیا۔ میرے روزانہ خطوط کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ اس دور میں اس سکول کا ملازم خود ڈاکخانہ سے سکول کی ڈاک لاتا تھا ۔ تاکہ بروقت سرکاری ڈاک پڑھی جا سکے۔ پھر یوں ہوا کہ بعض دنوں میں سرکاری ڈاک نہیں ہوتی تھی صرف میرے خطوط اور رسالے ہوتے۔ اس بات پر اس وقت کے ہیڈ ماسٹر چوہدری محمد اسحاق مرحوم نے میرے کلاس انچارج استاد محترم باوا رموز جیلانی مرحوم اور مجھے دفتر بلا کر انکوائری کی۔ میرے کلاس انچارج استاد محترم باوا رموز جیلانی مرحوم نے ہیڈ ماسٹر چوہدری محمد اسحاق کو میری ادبی مصروفیات سے آگاہ کیا۔
1981 میں چھٹی کلاس میں میرے بستے میں یہاں بچوں کے اخبارات کے ایڈیشن ماہانہ بچوں کی باجی اور دیگر رسائل ہوتے تھے وہاں ماہنامہ جواب عرض لاہور کا رسالہ بھی لازمی ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ ہمارے ٹیچرز نے ماہنامہ جواب عرض لاھور ضبط بھی کر لیا تھا۔ ماہ نامہ جواب عرض لاہور میں میرے نام فقیر محمد شاہد سے 1981 سے مراسلات شائع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ جن کا سلسلہ 2000 تک رہا۔ ماہنامہ جواب عرض لاہور میں میری ابتدائی طور پر قلمی دوستی منتخب اشعار پیغامات و دیگر مستقل کالمز میں مراسلے شائع ہوتے رہے۔ ماہنامہ جواب عرض لاہور کے چیف ایڈیٹر و پبلشر شہزادہ عالمگیر کی یہ خوبی تھی کہ وہ ہر لکھنے والے کی حوصلہ افزائی کرتے۔ ان کو ملنے والی ہر تحریر ماہنامہ جواب عرض لاہور میں لازمی شامل اشاعت ہوتی تھی۔ ماہنامہ جواب عرض لاہور نئے لکھنے والوں کے لیے ایک مکتب کی حیثیت رکھتا تھا۔ پاکستان کے کئی نامور شاعر ادیب اور صحافی بھی ابتداء ماہنامہ جواب عرض لاہور سے کی تھی۔ اس وقت کے دو معروف رسالے ماہنامہ آداب عرض لاھور اور ماہنامہ سلام عرض لاھور نے بھی نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کی۔ پاکستان کے کئی نامور ادیب شاعر اور صحافی ان دونوں رسالوں سے اپنی تحریریں لکھنے کا آغاز کیا تھا
1987 میٹرک کے بعد میری بہت ساری غزلیں بھی ماہ نامہ جواب عرض لاہور میں شامل اشاعت ہوئیں۔ 1987 کے بعد میری غزلیں ماہنامہ جواب عرض لاہور ماہانہ آداب عرض لاہور ماہنامہ سلام عرض لاہور اور دیگر اخبارات اور رسائل میں مسلسل شامل اشاعت ہوتی رہی۔
میں نے جب چھوٹی چھوٹی تحریریں اخبارات کے بچوں کے ایڈیشن میں لکھنی شروع کی۔ تاہم میں اس بات کا برملا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ ماہنامہ بچوں کی باجی فیصل آباد کی چیف ایڈیٹر ریحانہ حمید تبسم نے میری بہت حوصلہ افزائی کی۔ ہر ماہ اپنے رسالے میں میری دو دو تین تین تحریریں شامل اشاعت کرتیں۔ اور کئی بار انہوں نے مجھے خطوط کے ذریعے بھی میری رہنمائی بھی کی۔ یہ 1981سے 1990 تک کا دور ہے۔ ماہنامہ بچوں کی باجی فیصل آباد میں شائع ہونے والی تحریروں کا ریکارڈ دیکھ کر میں پھر بچپن کے حسین دور میں کھو جاتا ہوں۔
میں جن بچوں کے رسائل کو پڑھتا تھا اور ان میں اپنی تحریریں بھی ارسال کرتا تھا ان میں سے چند رسائل کے نام جو یاد ہیں۔ وہ یہ ھیں ۔
ماہنامہ بچوں کی باجی فیصل آباد۔ ماہنامہ بچوں کا ڈائجسٹ لاہور۔ ماہنامہ جگنو لاہور۔ ماہنامہ چندا ماموں لاہور ۔ ماہنامہ بچوں کا باغ لاہور۔ ماہنامہ بچوں کی دنیا لاہور۔ ماہانہ نونہال کراچی۔ ماہانہ تعلیم و تربیت لاہور۔ ماہنامہ بچوں کا رسالہ کراچی ۔ ماہانہ ٹوٹ بٹوٹ لاہور۔ ماہنامہ چاند ستارے لاہور ۔ ماہنامہ نور لاہور ۔ ماہنامہ بچوں کا پرستان لاہور۔ ماہنامہ شاہین لاہور۔ ماہنامہ بھائی جان کراچی۔ 1982 میں میں کلاس ہفتم کا طالب علم تھا اس وقت میں نے قائد اعظم پر ایک نظم لکھی جو کہ ماہنامہ ننھے شاہین لاہور میں شائع ہوئی پھر دوسری نظم ایک ماہ بعد ” ماہنامہ ننھے شاہین لاہور ” لکھی یہ نظم بھی اسی میگزین میں شائع ہو گئی ۔ اگست 1985 میں گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 کمالیہ میں کلاس نہم میں زیر تعلیم تھا۔ اس وقت پاکستان بھر کے اہل قلم سے رابطہ تھا اور پاکستان سے جو دوست احباب اپنا اپنا میگزین و اخبار شائع کرتے رہتے تھے ان میں میری تحریریں شائع ہو رہی تھیں اور تمام رسائل و اخبارات بھی وصول ہو رہے تھے۔ اس تحریک سے مجھے اپنا ادبی میگزین” آکاش” شائع کرنے کا پروگرام بنایا۔ میں نے اگست 1985 میں ” آکاش ” کے نام سے ادبی میگزین شائع کیا جس میں افسانے کہانیاں انٹرویوز مراسلات اور غزلیات شامل اشاعت کی گئیں۔ میرے اس میگزین کو بہت زیادہ پذیرائی ملی۔ میرے میگزین کو دیکھ کر کوئی یقین نہیں کرتا تھا کہ یہ کلاس نہم کے طالب علم کا اشاعتی کارنامہ ہے۔ فروری 1986 میں میں نے کلاس کا ” آکاش "کا دوسرا شمارہ بھی شائع کیا۔ جب میں کلاس دہم کا طالب علم تھا۔ 1986 تک پاکستان کے تقریباً تمام اخبارات اور رسائل میں میرا نام فقیر محمد شاہد کسی نہ کسی تحریر کے ساتھ شامل اشاعت ہوتا تھا۔ 1986 تک میرے قلمی دوستوں کی تعداد تقریباً 500 کے قریب تھی ان میں ادیب شاعر اور صحافی احباب بھی شامل تھے۔
ادبی وصافتی شعبہ میں میری انگلی پکڑ کر جس شخصیت نے میری تربیت کی ان کا نام میں گرامی جناب بدر منیر چودری ہے جن کا تعلق ساہیوال منٹگمری سے ہے میری تمام کامیابیاں وہ کامرانیاں اللہ رب العزت کے کرم و فضل ، والدین کی دعاؤں اور اساتزہ کی سرپرستی اور استاد محترم بدر منیر چوہدری کی وجہ سے ہیں میرے استاد محترم بدر منیر چوہدری اس وقت ون ٹی وی کینیڈا کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور سابق صدر لاہور پریس کلب ہیں میرے دادا استاد محترم جناب سعید آسی ڈپٹی ایڈیٹر روز نامہ نوائے وقت لاہور ہیں۔
میٹرک کے بعد میں نے فیصل آباد کے چند اخبارات کی نمائندگی کی ان اخبارات میں ہفت روزہ امن فیصل آباد ہفت روزہ انجم فیصل آباد اور دیگر اخبارات ہیں ان اخبارات کے ادبی و فلمی ایڈیشن بھی مرتب کرتا رہا۔ 10 جون 1991 کو میں نے اپنا ذاتی اخبار ہفت روزہ بہار جہاں کمالیہ کا اجرا کیا اس وقت میری عمر 22 سال تھی اس طرح مجھے پاکستان بھر میں کم عمر چیف ایڈیٹر و پبلشر کا اعزاز بھی حاصل ہو گیا۔ ہفت روزہ بہار جہاں علمی ادبی اور ثقافتی امنگوں کا ترجمان رہا۔ ہفت روزہ بہارجہاں کا دفتر فیصل آباد میں بنایا گیا۔ ہفت روزہ بہار جہاں کی ادارت میں پاکستان کے معروف شاعر انجم سلیمی بھی شامل تھے۔ ان کے علاوہ طارق ظفر اور مسرت حسین زیدی بھی ہفت روزہ بہار جہاں کی ٹیم کا حصہّ تھے۔
ہفت روزہ بہار جہاں کی اشاعت تقریباً پانچ سال تک جاری رکھ سکا۔ اس وقت ہفت روزہ بہار جہاں کی قیمت دو روپے تھی۔ 1997 میں ماہنامہ حدیث دل اور سہ ماہی جہاد بالقلم کا اجرا کیا۔ ماہنامہ حدیث دل تقریباً 12 سال تک شائع کرتا رہا۔ وقت کی بدلتی صورتحال نے پرنٹ میڈیا کس زوال پزیر کر دیا ھے ۔ لہٰذا میں نے اخبارات کی اشاعت معطل کر کے رکھ دی۔ 1995 میں علمی ادبی و سماجی تنظیم جہاد بالقلم پاکستان کی سنگ بنیاد رکھی اور اپنی مدد اپ کے تحت علمی ادبی و سماجی سرگرمیاں تاحال جاری و ساری ہیں۔
1990 سے 2000 تک میری ادبی وصحافتی مصروفیات عروج پر رہیں۔ وہ سادہ دور تھا کمالیہ سے لاہور کا سفر بذریعہ بس براستہ چچہ وطنی ساہیوال اوکاڑا ہوتا تھا۔ کمالیہ سے لاہور بذریعہ بس تقریباً چھ سے سات گھنٹے میں سفر طے ہوتا۔ اس وقت لاھور کا کرایہ غالباً 150 روپے ہوتا تھا۔
اہم شخصیات سے ملاقات کے وقت تصاویر کے لیے میں کیمرہ کرائے پر لے کر جاتا تھا جن اہم شخصیات سے میں نے ملاقاتیں کی اور انٹرویوز کیے ان کے اسم گرامی یہ ہیں حکیم محمد سعید شہید، نصیر الدین نصیر گولڑوی، احمد ندیم قاسمی، سابق وزیراعظم عمران خان، ائیرمارشل (ر ) اصغر خان، نصرت فتح علی خان ۔ قتیل شفائی مظفر وارثی، احمد راہی، طارق عزیز ، ڈاکٹر محمد اجمل نیازی، ڈاکٹر انور سدید، شہزاد احمد، خواجہ عابد نظامی، فاروق روکھڑی، اختر شمار، اظہر جاوید، محمد حنیف رامے، ریاض الرحمن ساغر، پھل آگروی، عتیل عیسیٰ خیلوی، مظہر نیازی، سید فروز شاہ۔
فلم انڈسٹری میں اداکار جاوید شیخ اور سلیم شیخ سے دوستانہ ہو گیا ان کی وجہ سے فلم سٹوڈیو میں بھی آنا جانا شروع ہو گیا۔ فلم سٹوڈیو میں ملاقاتوں اور انٹرویوز کے وقت میرے ساتھ محمد امین صدیقی بھی ہمراہ ہوتے تھے۔ جو ماہر تعلیم کے ساتھ ساتھ بہترین اداکار و فنکار بھی ہیں۔
اس دوران فلمی گیت لکھے لیکن فلم انڈسٹری میں کامیابی حاصل کرنا بہت مشکل مرحلہ تھا البتہ فلم انڈسٹری میں فلم سٹار رنگیلا، فلم سٹار ندیم، فلمسٹار افضال احمد ، فلمسٹار عابد علی، فلمسٹار ہمایوں قریشی، اداکار شہزاد رضا، اداکارہ شمیم آرا، گلو کار عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی، گلوکار اخلاق احمد، گلوکار اے نیر، گلوکارہ حمیرا چنا، اداکارہ نشو بیگم سے ملاقاتیں اور انٹرویوز کرنے کا موقع ملا۔
فلمی اخبار ہفت روزہ” نگار "کراچی کے چیف ایڈیٹر الیاس رشیدی کی مہربانی سے 1981 میں نگار ایوارڈ تقریب میں بھی شمولیت کا اعزاز حاصل ہوا۔ 1985 سے 2000 تک کثیر الاشاعت ماہنامہ” سکھی گھر” لاہور اور ہفت "روزہ پاک جمہوریت” لاہور کا دور تھا۔ ان دونوں میگزینوں میں میری لاتعداد تحریریں اور انٹرویوز شائع ہوئے۔ ان دونوں میگزینوں کی منفرد بات یہ تھی کہ یہ اپنے لکھاریوں کو اعزازیہ بھی دیتے تھے ۔ اس دور میں جب ان میگزینوں کی طرف سے 200 /250 500 اور 600 روپے کا منی آرڈر آتا تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہتا۔ آج بھی ان میگزینوں کے ریکارڈ دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ میں گزشتہ دنوں ان دونوں میگزینوں کے دفاتر تلاش کرتے کرتے متعلقہ پرانے ٹھکانوں پر گیا تو ان میگزینوں کے دفاتر کا نام و نشان تک نہ تھا۔
الحمدللہ ہم مسلمان ہیں۔ ھمارا ہر طرز عمل دین اسلام کے مطابق ہونا چاہیے۔ ھماری زندگی کے ایک ایک پہلو میں اللہ رب العالمین کے احکامات اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمودات کی ترجمانی ہو۔ قیام پاکستان پر جو نعرے لگائے گئے ان میں یہ بات نمایاں تھی کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہو گی جہاں دین اسلام کے مطابق زندگی گزاری جا سکے گی۔ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ ۔ اس سے صاف واضح ہے کہ قیام پاکستان کے وقت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نفاذ اسلام کا وعدہ کیا گیا تھا۔ لیکن قیام پاکستان کے بعد اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے وفائی کی گئی ۔ پاکستان میں اسلام نافذ نہ کیا گیا۔ پاکستان صرف نام کا اسلامی ملک ہے۔ جمہوریت جو کہ لادین طرز حکومت ہے وہ بھی جعلی ہے۔ یہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہر وقت لاگو ہے۔ جو قوم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بے وفائی کرے وہ اس دنیا میں اور اگلے جہان میں بھلا کیسے کامیابی حاصل کرے گی۔ جہاں تک کیسا معاشرہ ہونا چاھیے تو اس کا جواب تو یہ ہے کہ انسانی معاشرہ وہ کہلاتا ہے جہاں انسان کی قدر ہو۔ انسان کے حقوق پورے کیے جائیں۔ انصاف کا بول بالا ہو۔ جان و مال کا تحفظ ہو۔ یہ تمام خوبیاں جاپان جیسے غیر مسلم ملک میں موجود ہیں۔
مجھے میری ادبی و صحافتی خدمات پر چند ادبی تنظیموں نے ایوارڈ اور اسناد سے نوازا ہے۔ جس کے لیے میں ان سب تنظیموں کی انتظامیہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ان کے نام یہ ہیں۔
* انٹرنیشنل رائٹرز کلب ۔اسلام آباد ۔
* *بزم سرخیل ادب لاھور۔
* *اصلاح معاشرہ پاکستان بھلوال۔
* *محمد علی بھیل انٹرنیشنل ادبی سنگت ننکانہ صاحب۔
* *بشیر رحمانی ادبی فاونڈیشن لاہور ۔
* *آزاد نقیبی ادبی تنظیم فیصل آباد ۔
* * عاشق حسین خان ایڈووکیٹ میموریل آرگنائزیشن حاصل پور۔
* *ادبی تنظیم بزم شمسی پاکستان حاصل پور۔
* *ادبی تنظیم چاننی ساہیوال۔
زندگی میں چند ایسی محفلیں نصیب سے ملتی ہیں جن کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں میری حکیم محمد سعید شہید سے خصوصی ملاقات ، احمد ندیم قاسمی، مظفر وارثی اور شہزاد احمد کے سامنے اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنا کلام سنانا ، فلمی اخبار ھفت روزہ نگار کراچی کے چیف ایڈیٹر الیاس رشیدی کی مہربانی سے نگار ایوارڈ تقریب میں شرکت ، طارق عزیز کے پروگرام طارق عزیز شو کے کئی پروگراموں میں شرکت اور انعامات کا حصول اور ایورنیو سٹوڈیو میں فلمسٹارز کے انٹرویوز کرنا میرے لیے یادگار لمحات ہیں۔ مجھ پر طارق عزیز کا ایک خاص احسان بھی ہے۔ انہوں نے میری فرمائش پر گلوکارہ و اداکارہ عارفہ صدیقی کو اپنے پروگرام میں مدعو کیا۔ اور عارفہ صدیقی کے گیت کے دوران مجھے بہت زیادہ کوریج دے کر مجھے اپنی محبتوں کا مقروض کر لیا ۔
طارق عزیز شو کے متعدد پروگراموں میں شمولیت کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔ جن میں سوالات کے جواب پر کئی انعامات بھی حاصل کیے۔
میں نے ایم سی پرائمری سکول نیا بازار کمالیہ، مڈل گورنمنٹ نارمل سکول کمالیہ اور میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 کمالیہ سے تعلیم حاصل کی۔ گھریلو مالی حالات کے پیش نظر میں باقاعدہ تعلیم جاری نہ رکھ سکا۔ اگر میرے پاکستان میں حقیقی مسلمان لیڈر ہوتے تو مجھ جیسے غریب طالب علم بھی کالجوں اور یونیورسٹیوں میں باآسانی اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتے تھے۔ ہم غریب گھرانے کے بچےّ اہل زر لوگوں کے بچوں سے بدرجہ بہتر محنت کرنے والے ہوتے ہیں۔ پھر میں نے اردو فاضل کیا۔ پی ٹی سی کا کورس کرنے کا بھی موقع مل گیا۔ میری دلی خواہش تھی کہ میں سکول ٹیچر کی ملازمت کرو لیکن اسلامی جمہوریہ ایٹمی مقبوضہ ریاست میں میری خواہش پوری نہ ہو سکی۔ بےروزگاری کا زمانہ دیکھا۔ بے شمار تجربات ہوئے۔ میں نے ہومیو پیتھک کا چار سالہ ڈپلومہ ڈی ایچ ایم ایس کیا۔ پرائیویٹ ایم اے اسلامیات کیا۔ تفسیر قرآن مجید اور مطالعہ حدیث کے کورس کیئے ۔ بے روزگاری کی وجہ سے میں نے پاک آرمی میں ملازمت کر لی۔ اٹک ارٹلری سنٹر میں ٹریننگ کی۔ ٹریننگ کے دوران میڈیکل ان فٹ ہو گیا۔ پھر بے روزگاری کی بے رحم چکی میں پسنے لگا۔ در در کی ٹھوکریں مقدر بن گئیں۔ سیاست دانوں کے ڈیروں کے چکر لگانے شروع کر دیئے ۔ کئی ملازمتوں کے لیے آفر ہوئی لیکن بھاری رشوت نہ دے سکنے کی وجہ سے کامیابی نہ مل سکی۔ بے روزگاری کے عذاب میں مبتلا رہ کر پاکستان میں ہونے والی ناانصافیوں کا بخوبی علم ہوا۔ نام نہاد لیڈروں اور لچھے دار تقریریں کرنے والے حکمرانوں کے کھوکھلے نعروں کا بھی تجربہ حاصل ہوا۔ 1993 میں محکمہ انہار پنجاب میں گیج ریڈر سکیل 2 کی نوکری مل گئی۔ جو ایک ان پڑھ کی سیٹ تھی۔ اس نوکری کو غنیمت جانتے ہوئے ملازمت اختیار کر لی۔ محکمہ انہار پنجاب کا ماحول طبیعت کے مطابق نہ تھا۔ اللہ اللہ کر کے 26 سال ملازمت پوری ہونے پر 2019 میں دس سال قبل از وقت ریٹائرمنٹ حاصل کر لی۔
فیصل آباد کی روحانی شخصیت حافظ نور محمد مرحوم سے 22سال روحانیت کی تعلیم حاصل کی۔ اور روحانیت کی کئی منازل کامیابی سے طے کیں۔ علم جفر اور علم حروف کے لیے پاکستان کی معروف علمی شخصیت فیصل آباد سے لعل قلندری مرحوم کی شاگردی کی۔
میرے لکھے ہوئے پنجابی گیت گلو کار مظہر شہزاد ٹیڈی، پرویز عباس مخلص، سجاد علی لٹی اور دیگر گلوکاروں نے گائے ہیں اور مختلف یوٹیوب چینلز پر ریلیز ہو چکے ہیں۔
2018 میں قرعہ اندازی میں عمرہ کی سعادت کے لیے حجاز مقدس میں حاضری نصیب ہوئی اس دوران سرکار مدینہ قلب سینہ سرور انبیاء حضرت محمد نے مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزہ اقدس پر حاضری کے وقت پہلی نعت شریف عطاء ہوئی۔ الحمدللہ اب میرا نعتیہ مجموعہ کلام” ضیائے محمد” اشاعت کے مراحل میں ہے اور اس کے بعد غزلیات کا مجموعہ بھی ترتیب دیا جا چکا ہے۔