Home / اہم خبریں / مصدق ملک کا بھارت کو آبی جارحیت سے گریز کا انتباہ

مصدق ملک کا بھارت کو آبی جارحیت سے گریز کا انتباہ

اسلام آباد/اقوام متحدہ: وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ پانی کو سیاسی دباؤ یا جارحیت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا خطے کے امن، زراعت، خوراک کے تحفظ اور کروڑوں لوگوں کے روزگار کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کی اعلیٰ سطحی تقریب سے ویڈیو پیغام میں ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل رکھنے کا مؤقف ناقابلِ قبول ہے۔ ان کے مطابق پانی کو سیاسی رنگ دینا صرف دو ملکوں کا تنازع نہیں، بلکہ یہ انسانی زندگی، معاشی مستقبل اور علاقائی استحکام کا مسئلہ ہے۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ 1960ء کا سندھ طاس معاہدہ عالمی بینک کی ثالثی سے طے پایا تھا اور اسے کوئی ایک فریق اپنی مرضی سے ختم یا معطل نہیں کر سکتا۔ اسلام آباد کے مؤقف کے مطابق بھارت کی طرف سے پانی روکنے، موڑنے یا معاہدے کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش عالمی قانون اور معاہداتی ذمہ داریوں کے خلاف ہو گی۔

ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ پانی زندگی کی بنیاد ہے، اور زیریں بہاؤ والے ملک کے لیے پانی روکنا صرف قانونی خلاف ورزی نہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق پر ضرب کے مترادف ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے بین الاقوامی معاہدوں کو یک طرفہ طور پر توڑا گیا تو دنیا بھر میں معاہدوں پر اعتماد کمزور پڑ جائے گا۔

پاکستانی حکام کے مطابق سندھ، جہلم اور چناب جیسے دریاؤں پر پاکستان کی زراعت اور خوراک کا بڑا انحصار ہے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا مؤقف اس وقت سامنے آیا جب نئی دہلی نے مقبوضہ کشمیر میں حملے کے بعد پاکستان پر الزام لگایا؛ پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کیا اور معاہدے کی معطلی کو غیر قانونی اور اشتعال انگیز قرار دیا۔

مصدق ملک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ پانی کو جنگی یا سیاسی ہتھیار بننے سے روکنے کے لیے کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے پگھلنے، خشک سالی اور غیر معمولی بارشوں کے دور میں پانی کا مسئلہ پہلے ہی حساس ہو چکا ہے، اس لیے اس معاملے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیلنا پورے خطے کے لیے خطرناک ہو گا۔

پاکستان نے اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر مؤقف اختیار کیا ہے کہ پانی کی ’’ہتھیار بندی‘‘ نہ صرف پاکستان کی زراعت، معیشت اور غذائی سلامتی کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں پہلے سے موجود کشیدگی کو بھی بڑھا سکتی ہے۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت مشرقی دریاؤں — راوی، ستلج اور بیاس — کے استعمال کا حق زیادہ تر بھارت کو حاصل ہے، جبکہ مغربی دریاؤں — سندھ، جہلم اور چناب — پر پاکستان کے حقوق تسلیم کیے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد اس معاہدے کو اپنی آبی سلامتی کی بنیاد سمجھتا ہے۔

حکومتِ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے اور آبی معاملات کو سیاسی یا سلامتی کے تنازعات سے الگ رکھنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق اگر پانی کے معاملے پر سفارتی راستہ کمزور ہوا تو اس کے اثرات صرف دونوں حکومتوں تک محدود نہیں رہیں گے؛ کسان، دیہی آبادی، خوراک کی قیمتیں اور ملکی معیشت بھی براہِ راست متاثر ہو سکتی ہے۔

فی الحال پاکستان کی کوشش یہی دکھائی دیتی ہے کہ معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر رکھا جائے۔ مصدق ملک کا انتباہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے: پانی کو ہتھیار نہ بنایا جائے، معاہدوں کا احترام کیا جائے، اور خطے کو ایک نئے بحران کی طرف نہ دھکیلا جائے۔

About Mabruka Waseem

یہ بھی پڑھیں

جونئیر اسکواش گولڈ ٹورنامنٹ میں پاکستان کا اعزاز، اذان علی خان چیمپیئن بن گئے

(رپورٹ، ذیشان حسین ) واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ جونئیر اسکواش گولڈ ٹورنامنٹ میں پاکستان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے