تازہ ترین
Home / اہم خبریں / کراچی چارٹرڈ سٹی بنے گا تو با اختیار پولیس جرائم پر قابو پاسکے گی۔ چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی الطاف شکور

کراچی چارٹرڈ سٹی بنے گا تو با اختیار پولیس جرائم پر قابو پاسکے گی۔ چیئرمین پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی الطاف شکور

کراچی (نوپ نیوز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین اور پاکستان قومی اتحاد کے وائس چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ کراچی میں ڈکیتی، راہزنی سمیت دیگر جرائم کی وارداتوں میں شدید اضافے نے شہریوں کا سکون چھین لیا ہے۔ بلاول زرداری بھٹو سے ایک صوبہ تو سنبھالا نہیں جا رہا ہے، کس منہ سے وفاق میں اقتدار حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں؟ ڈاکو اور لٹیرے دن دہاڑے دیدہ دلیری سے کھلے عام لوٹ مار مچا رہے ہیں۔حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔”نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری” کے مصداق پولیس نے عوام کو تحفظ دینے کے بجائے کریم آباد میں چائے کے دو ہوٹل ہی بند کر دیئے۔ کراچی کو فوری چارٹرڈ سٹی کا آئینی درجہ دیا جائے۔ کراچی چارٹرڈ سٹی بنے گا تو بین الاقوامی چارٹرڈ سینٹر کی طرح یہاں بھی پولیس بااختیار ہوگی اور جرائم پر قابو پاسکے گی۔ ہوٹل میں 30 افراد سے موبائل فون لوٹنے کی اجتماعی واردات نے وفاق میں زرداری دور کی یاد تازہ کر دی ہے جب پوری بسوں اور ویگنوں کے مسافروں سے نقدی، موبائل فون اور قیمتی اشیاء لوٹ لی جاتی تھیں۔ دن دہاڑے اس طرح کے سنگین واقعات لمحہ فکریہ ہیں۔ ایسا تو کراچی کی تاریخ میں بدترین قتل و غارتگری اور بدامنی کے دور میں بھی نہیں ہوا تھا کہ تیس لوگوں سے دن دہاڑے سب کچھ چھین لیا جائے۔ اسٹریٹ کرائمز کے بڑھتے گراف کو نیچے لانے کیلئے سخت اقدامات وقت کی اشد ضرورت ہیں۔ اسٹریٹ کرائمز کو دہشتگردی کے برابر جرم قرار دے کر سدباب کیلئے اقدامات کئے جائیں۔ سرپرستی کے بغیر منظم جرائم ممکن نہیں، اس پر بھی توجہ دی جائے۔

مزید پڑھیں: سیدنا صدیق اکبرؓ کا دور خلافت مسلم حکمرانوں کیلئے مشعل راہ ہے۔ متحدہ علماء محاذ کے سیمینار مقررین خطاب
https://www.nopnewstv.com/the-era-of-syedna-siddiq ‎

پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں شہر قائد میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، کھلے عام لوٹ مار، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مجرمانہ خاموشی پر گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی پی کے چیئرمین اور پی کیو آئی کے وائس چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ اچانک اسٹریٹ کرائمز میں اضافہ کی شرح بڑھنے کی وجہ کیا ہے؟ بڑی تعداد میں ڈکیت شہر میں کہاں سے آگئے ہیں؟ ان سوالوں کے جواب حاصل کرنا ہوں گے۔ کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں اچانک اضافے سے زرداری صاحب کا دور یاد آ گیا، جب منظم انداز اور سرپرستی میں بھتہ خوری عروج پر پہنچا دی گئی تھی اور اسٹریٹ کرائمز کی بھی یہی صورتحال تھی۔ لگتا اب پھر کچھ ہونے والا ہے۔ ایک بار پھر انتہائی منظم انداز میں اسٹریٹ کرائمز ہو رہے ہیں اور کوئی روکنے والا نہیں۔ بجلی، گیس کی عدم دستیابی، بدامنی اور قتل وغارت گری نے عام انسانوں کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ کراچی میں روزانہ درجنوں اپنی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، موبائل فونز اور قیمتی سازو و سامان سے محروم کر دیئے جاتے ہیں۔ کئی افراد اپنی قیمتی جانوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ سال نو کے پہلے ہی مہینے میں جرائم میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔ لٹیروں اور ڈاکوؤں نے کئی ہنستے بستے گھر اجاڑ دیئے، لوٹ مار کے دوران شہریوں کو گولیاں مار کر زخمی بھی کیا گیا۔ شہر قائد میں بڑھتی وارداتیں شہریوں کیلئے خوف کی علامت بن رہی ہیں اور پولیس حکام اپنی کارکردگی میں صفر دکھائی دے رہے ہیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے