کوالالمپور (بیورو رپورٹ) ملیشیا میں گزشتہ دنوں اغوا ہونے کے بعد قتل کیے جانے والے پاکستانی کے مجرمان کو فوری گرفتار کرنے اور قتل میں ملوث افراد کو فوری سزا دینے کے کے حق میں کوالالمپور میں موجود پاکستانی سفارت خانے کے باہر پاکستانیوں کو بڑی تعداد احتجاج کے لئے جمع تھی کہ پاکستانی سفارت خانے نے اس احتجاج کو ریکارڈ کرنے کے بجائے مقامی پولیس کو طلب کرلیا گیا- پولیس کے مطلقہ افسران نے احتجاج میں موجود پاکستانی افراد کو فوری طور پر منتشر اور احتجاج ختم کرنے کا کہا جس کے بعد پاکستانیوں نے احتجاج ختم کردیا- ملیشیا میں موجود پاکستانیوں نے نمائندہ نوپ نیوز سے گفتگو میں کہا کہ ہم اپنا پر امن احتجاج ریکارڈ کروانے آئے تھے مگر پاکستان ایمبسی نے ہماری داد رسی تک نہ کی اور اپنے تحفظ کے لئے فوری پولیس کو طلب کرلیا گیا ہمارا سفارت خانہ ملیشیا میں موجود پاکستانیوں کے تحفظ کے لئے کسی بھی قسم کا کوئی اقدام نہیں کرتا ہے ملیشیا میں موجود کاروباری طبقہ ہو یا مزدور طبقہ ان کا کوئی پرسان حال نہیں، آئے دن پاکستانیوں کو لوٹا جاتا ہے، اغوا کیا جاتا ہے، قتل کردیا جاتا ہے، کئی پاکستانی ملیشیا کی جیلوں میں اسیر ہیں مگر ان کی مدد کرنے والا کوئی نہیں ہے اگر ہم دیار غیر میں اپنے سفارت خانے کو مدد کا نہیں کہیں گے تو پھر ہم کہاں جائیں؟ سفارت خانہ کو اپنے تحفظ کا خیال ہے اگر نہیں ہے تو ملیشیا میں موجود پاکستانیوں کا خیال نہیں ہے. ملائیشیا میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے ملائیشیا میں مقیم تمام پاکستانیوں کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان ملائیشیا کے سفیر کو بلا کر تنبیہہ کریں اور کوالالمپورمیں تعینات پاکستانی سفیر کو معطل کرکے کسی اچھے انسان کو سفیر بنا کربھیجیں- وزیر خارجہ جلد از جلد ملائیشیا کا دورہ کریں اور وزیر اعظم ملائیشیا مہاتیر محمد سے ملاقات کر۔کے پاکستانیوں کے حقوق کی حفاظت کو یقینی بنائیں ہم حکومت پاکستان، وزیر اعظم عمران خان وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پاکستان ہائی کمیشن کے خلاف نوٹس لیں اور پاکستانیوں کی داد رسی کریں-