ملک میں غربت مہنگائی عدم تحفظ بے روزگاری اور لا قانونیت عروج پر ہے۔
کمالیہ (ایڈیٹر نئی آواز ۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ) معروف سیاسی و سماجی شخصیت سابق امیدوار برائے کونسلر میاں محمد شعبان مالہڑا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کے 45 فیصد عوام خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ خط غربت سے متعلق ایک عالمی ادارے نے رپورٹ دی ہے۔ خط غربت سے نیچے سے مراد یہ ہے کہ وہ ایک ایک وقت کے لیے روٹی سے بھی محروم ہیں۔ یہ غریب لوگ اپنی صحت بچوں کی تعلیم کے بارے میں تو سوچ بھی نہیں سکتے۔ جن 12 کروڑ عوام کو ایک وقت کی روٹی نصیب نہ ہو وہ حکمرانوں کے خوشحالی کے اشتہارات دیکھ کر اپنے پیٹ کیسے بھر سکتے ہیں۔ غربت اور مہنگائی کی وجہ سے عوام خودکشیوں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ملک میں غربت مہنگائی عدم تحفظ بے روزگاری اور لا قانونیت عروج پر ہے۔ لیکن ٹک ٹاکر حکومتیں طرح طرح کے رنگ برنگے کپڑے بدل بدل کر ویڈیو بنا کر عوام کو بے وقوف بنا رہی ہیں۔ عوام کے ٹیکسز سے جھوٹی اشتہاری مہم بند کی جائے۔ عوام کو سہولتیں دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ چینی 50 روپے کلو اور پٹرول 100 روپے لیٹر کیا جائے ۔ میڈیسن کی روزانہ بڑھتی قیمتوں پر کنٹرول کیا جائے ۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں جگا ٹیکسز ختم کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اشیائے خوردونوش عوام کی پہنچ سے دور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنے 40 سالہ دور میں ہمیشہ مزدور طبقہ سرکاری ملازمین اور پینشنرز کا استحصال کیا ہے۔