تازہ ترین
Home / اہم خبریں / آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ”ڈاکٹر عبدالقدیر خان “ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کےلئے مباحثے کا اہتمام

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ”ڈاکٹر عبدالقدیر خان “ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کےلئے مباحثے کا اہتمام

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام پاکستان کونسل آف میڈیا وومن اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے تعاون سے ”قومی ہیروز کو اجاگر کرنے میں میڈیا کا کردار“ کے عنوان پر مبنی مباحثے کا انعقاد حسینہ معین ہال میں کیا گیا جس کی صدارت سینیٹر عبدالحسیب خان نے کی اور مہمانِ خصوصی سینئر نامہ نگار بی بی سی شفیع نقی جامی تھے، اس موقع پر سینئر صحافی و تجزیہ نگار مظہر عباس، جی ایم جمالی، بریگیڈیئر محمد طارق، نورالہدیٰ شاہ، غلام عباس ڈیتھو، ڈاکٹر مرتضیٰ مغل، سید نصرت علی بھی مقررین میں شامل تھے۔ مہمانِ خصوصی سینئر نامہ نگار بی بی سی شفیع نقی جامی نے کہا کہ جن قوموں کی تاریخ نہیں ہوتی وہ قومیں زندہ نہیں رہتیں، جو قومیں اپنی تاریخ بھول جاتی ہیں وہ تباہ و برباد ہوجاتی ہیں، تاریخی ہیروز کو بھول کر معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا، ہمیں اپنی تاریخ کا پتا ہونا چاہیے، مظہر عباس نے کہا کہ آج ہم یہاں سے بہت سارے ہیروز لے کر اٹھے ہیں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا تھا کہ بھٹو سے بڑا میں نے قومی ہیرو نہیں دیکھا، قومی ہیروز کو اجاگر کرنے میں میڈیا کا اہم کردار ہے، بہت سے قومی ہیروز میڈیا کی سرخیوں میں جگہ بناتے ہیں، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ہیرو ذوالفقار علی بھٹو تھے، بریگیڈیئر طارق نے کہا کہ میڈیا کا کردار معاشرے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، ہم اپنی لڑائی اکیلے نہیں لڑسکتے، ہیروز کو سامنے لانے کے لیے میڈیا میں مخلص لوگوں کا ہونا بہت ضروری ہے، قرآن پاک ہیروز کے ذکر سے بھرا ہوا ہے، انہوں نے کہا کہ گھر کو چلانے والی عورت بھی ہیرو کا درجہ رکھتی ہے، نور الہدیٰ شاہ نے کہا کہ ہیرو کی جڑ عوام میں ہوتی ہے اور عوام کی جڑیں زمین میں، جب یہ دونوں آپس میں ملتے ہیں تو ہیروز پیدا ہوتے ہیں، ہماری سرزمین میں کئی ہیروز دفن ہیں، 1947ء سے پاکستان بنتے ہی تاریخ کو مٹانا شروع کر دیا گیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں عوام کے تعلق کو مضبوط بنانا ہوگا، غلام عباس ڈیتھو نے کہا کہ ہم سب کے ہیرو نبی آخری الزماں ہیں ان کی خوبیوں کو اپنانے والا ہی اصل ہیرو ہے، جی ایم جمالی نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملکی مفاد میں ایٹم بم کی بنیاد ڈالی مگر پاکستانی معاشرے میں انہیں وہ مقام نہیں ملا جس کے وہ حق دار تھے، مجلس صدارت سینیٹر عبدالحسیب خان نے کہا کہ حکومت اور ریاست دو الگ الگ چیزیں ہیں جو ریاست کے لیے کام کررہا ہے وہ قابلِ احترام ہے ہمیں آج کی فکر ہونی چاہیے کیونکہ دنیا بہت سکڑ چکی ہے، ہمیں آج کے ہیروز کو ہیرو ماننا ہوگا، ڈاکٹر عبدالقدیر وہ آدمی تھا جس کے منہ سے لفظ نکلتے تھے اور پورے ہوجاتے تھے کراچی سے خیبر تک انہوں نے یونیورسٹیاں اور ڈسپنسریاں بنائیں انہوں نے جو ملک کے لیے کام کیا وہ رہتی دنیا تک قائم رہے گا، مباحثے میں مجید رحمانی، سید نصرت علی، سید منظر نقوی، شمیم زہرہ، مبشر میر، شہزاد خان، ڈاکٹر شجاعت حسین، حورالعین، شمع منشی اور فرح احمد نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے