کراچی (نوپ نیوز) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین خلیل احمد تھند نے کہا ہے کہ جعلی ادویات مریضوں کو زندہ درگور کر رہی ہیں۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کے قیام کے باجود ملک میں ادویات کے معیار اور ان کی پیداوار میں خاطر خواہ بہتری کیوں نہیں آسکی؟ ہزاروں کی تعداد میں جعلی ادویات مارکیٹ میں موجود ہیں، جن کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں، ادارے کر کیا رہے ہیں؟ ملک میں موجود ادویات بنانے والی کمپنیاں، دوا ساز ادارے، ملٹی نیشنل کمپنیاں غیر معیاری ادویات بنا رہی ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ غیر معیاری اور جعلی ادویات اور سرجیکل آلات بنانے والے ادارے ناقص پاؤڈر والی ادویات اور آلات لیبل لگا کر بیچی جا رہی ہیں۔ زہر کو دوا کا لیبل لگا کر فروخت کرنا انتہائی سنگین اور بھیانک جرم اور انسانی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ سرکاری اسپتالوں میں غریب عوام کے لئے مفت مہیا کی جانے والی دوائیں عوام کو نہیں ملتیں بلکہ چوری کرکے مارکیٹ میں بیچ دی جاتی ہیں۔ اسپتالوں میں مریضوں کو مفت دی جانے والی ادویات کس طرح خرد برد ہوکر اسٹورز تک پہنچ رہی ہیں؟ جعلی ادویات کے معاملے میں ماضی میں بھی کاروائی اور چھاپے مارے جا چکے ہیں، ان پر جو انکوائری کمیٹیاں تشکیل دی گئی تھیں وہ اپنا کام مکمل نہ کر سکیں۔ ان تمام افسران کو شامل تفتیش کیا جائے جنہوں نے اتنے اہم معاملے کو سرد خانے کی نذر کر دیا۔ مافیائیں جان بچانے والی ادویات کو بھی کمائی کا ذریعہ بنارہی ہیں، ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کر کے مہنگے داموں بیچنے والے تمام افراد کو کڑی سزائیں دی جانی چاہئیں۔ پاکستان میں ادویات کی ٹیسٹنگ بڑھائی جائے تاکہ صارفین کے لیے ادویات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔جعلی ادویات سمیت ملک کو ہر کرپشن سے نجات دلانے کے لئے عام انتخابات کو ٹھپہ مافیا، الیکٹ ایبلز اور موروثی سیاست سے پاک کرنا ہوگا۔
پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں مارکیٹ میں جعلی ادویات کے خلاف کاروائی کی خبروں پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کے وائس چیئرمین خلیل احمد تھند نے مزید کہا کہ پاکستان میں ادویات کی قیمتوں پر سرکاری کنٹرول کے باعث جان بچانے والی ادویات کی قلت پیدا ہو جاتی ہے اور بلیک مارکیٹ میں وہی ادویات ہوشربا قیمتوں پر بیچی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی مینوفیکچرر معیاری ادویات بنانے سے قاصر رہتے ہیں۔ 2015 سے اب تک پاکستانی مارکیٹ میں 4 ہزار 800 سے زائد قسم کی ادویات غیر معیاری پائی گئی ہیں، جبکہ 454 ادویات جعلی نکلی ہیں۔ جعلی ادویات کی ایک قسم 250 ایم جی پاور کی ادویات پر 500 ایم جی پاور کا لیبل لگا کر فروخت کی جاتی ہے جس کا نقصان مریض کو یہ ہوتا ہے کہ اسے مطلوبہ مقدار میں دوا نہیں مل پاتی ہے جس کی وجہ سے مرض کی شدت میں اضافہ یا پھر مریض تاخیر سے صحتیاب ہو پاتا ہے۔