Home/اہم خبریں/کیا ایک باپ اپنے ہی بچوں کا اغواء کرسکتا ہے؟ بچے ملیشین پاسپورٹ پر پاکستانی ویزے پر پاکستان آۓ تھے- ساس نے نواسوں کے اغواء کا مقدمہ داماد پر کروا دیا
کیا ایک باپ اپنے ہی بچوں کا اغواء کرسکتا ہے؟ بچے ملیشین پاسپورٹ پر پاکستانی ویزے پر پاکستان آۓ تھے- ساس نے نواسوں کے اغواء کا مقدمہ داماد پر کروا دیا
کوالالمپور (بیورو رپورٹ) گزشتہ چند ماہ سے پاکستان کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں ایک خبر زیر گردش ہے کہ باپ نے اپنے 2 بچوں کو اغوا کرلیا جس کا مقدمہ لاہور کے علاقے تھانہ غالب مارکیٹ پولیس اسٹیشن میں درج ہے- اس سلسلے میں نوپ نیوز کے نمائندے نے مقدمے میں نامزد ملزم طاہر حسین سے رابطہ کیا جس پر اس واقعے پر حقائق معلوم کئے گئے- جس پر طاہر حسین نے بتایا کہ 3 سال قبل اس کی شادی اقراء مظفر سے ہوئی تھی اور میں پہلے سے شادی شدہ تھا جس کا میں نے اقراء مظفر کے گھر والوں کو بتا دیا تھا میں عرصہ 20 سال سے ملیشیا میں مقیم ہوں اور میں نے ایک شادی ملیشین خاتون سے کی ہے جس سے میری ایک بیٹی ہے- میری دوسری شادی میرے رشتےداروں میں ہوئی تھی جس کے بارے میں بھی میں نے اقراء کے گھر والوں کو آگاہ کیا تھا کہ اس سے میری طلاق ہوچکی ہے- اور جب میں اقرا مظفر سے تیسری شادی لاہور میں کی تھی شادی کی تقریب میں میری ملیشین بیوی اور میری بیٹی بھی شریک تھی جبکہ اقراء اور اس کے گھر والے میڈیا کو بھی گمراہ کر رہے ہیں اور جھوٹ پر مبنی بیانات دے رہے ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے- میری اس تیسری شادی کے وقت میری ملیشین بیوی اور میری بیٹی اس شادی میں موجود تھے جس کے ثبوت بھی میرے پاس موجود ہیں اور میری ملیشین بیوی نے ہی خود جاکر اسلام آباد میں واقع ملیشین ہائی کمیشن میں میری دوسری بیوی (اقراء) کے لئے ویزا حاصل کیا تھا- شادی سے قبل ہی میں نے اقراء مظفر کے گھر والوں کو بتایا تھا کہ شادی کے بعد میں اقراء کو ملیشیا اپنے ہمراہ لیکر جاؤں گا جس پر اقراء اور اس کے گھر والے رضامند تھے- شادی کے بعد میں اقراء مظفر کو لیکر ملیشیا آگیا جہاں وہ میری ملیشین بیوی کے ہمراہ تقریباً ایک سال تک ہنسی خوشی رہی اور جب ہمارے پہلے بیٹے محمد دریاب کی پیدائش ہوئی تو اس کے چند ماہ بعد ہی میری بیوی اقراء مظفر نے مجھ سے الگ گھر میں رہنے کا مطالبہ کردیا- جس پر میں نے اس کو بہت سمجھایا کہ ہم ایک ساتھ ہی رہیں گے کیونکہ یہ پردیس ہے مگر اقراء مظفر جوکہ اپنی والدہ کی ہدایات پر چل رہی تھی وہ کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھی اور بضد تھی اس کو ملیشیا میں الگ گھر لیکر دیا جائے میں نے اس کی ضد کو مانتے ہوۓ اس کو الگ گھر لیکر دیا الگ گھر لیکر دینے کے بعد اقراء نے اپنی لڑائی کو جاری رکھا اور مجھ کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کرتی رہی کہ میں اپنی ملیشین بیوی اور بیٹی کو چھوڑ دوں جوکہ میں نہیں چاہتا تھا- مزید اہم حقائق اور انکشافات (مزید جاری ہے)