کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر پیٹرولیم مصنوعات بجلی گیس کی قیمتوں میں اضافے اور ہوشربا مہنگائی، بیروزگاری کے خلاف ملک گیر احتجاج کے سلسلہ میں پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے تحت ایمریس مارکیٹ صدرمیں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں صوبائی وزیر سعید غنی، وقار مہدی، جاوید ناگوری، شاہدہ رحمانی و دیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول بھٹو کی قیادت میں احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا ہے، مہنگائی کے طوفان کا خاتمہ نااہل سرکارکو رخصت کیے بغیر نہیں ہوگا، وفاقی حکومت میں بیٹھے کراچی کے دعوے داروں کے منہ پر تالا لگا ہوا ہے، تاریخ گواہ ہے کہ عوام پر جب بھی مشکل وقت آیا، پیپلز پارٹی نے عوام کا مقدمہ لڑا ہے، پیپلز پارٹی سیلیکٹڈ حکومت کی پالیسوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گی۔ پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر، صوبائی وزیر محنت و اطلاعات سندھ سعید غنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو کی اپیل پر ملک بھر میں سیلیکٹڈ حکومت کے خلاف احتجاج نوشتہ دیوار ہے، آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لینے اور خود کشی کرنے والے وزیراعظم کی پالیسیوں نے عوام خود کشیوں پر مجبور کر دیا ہے، مہنگائی کے طوفان کا خاتمہ نااہل سرکارکی رخصتی کے بغیر نہیں ہوگا، سیلیکٹڈ حکومت کو جب تک اقتدار سے الگ نہیں کر دیتے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے ہر ماہ مہنگائی میں اضافے کا معاہدہ کرلیا ہے، پیٹرول بجلی گیس کی قیمتیں ہر ماہ 4 روپے بڑھانے کی ڈیل کی گئی ہے، بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے دسمبر کے مہینے میں بجلی کے بلوں کے ذریعہ 68 ارب وصولی کی جائے گی، چینی کی قیمت میں اضافہ کرکے عوام کی جیب پر ڈاکہ مارا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو جھوٹی شکایات پر جیل بھیجا جاتا ہے لیکن کابینہ میں بیٹھے پی ٹی آئی کے چینی اور گندم چوروں پر ہاتھ نہیں ڈالا گیا، پنجاب میں 66 لاکھ گندم اور چینی غائب کی گئی اور الزام سندھ پرعائد کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے کراچی کو تین برس میں سوائے دھوکہ کے کچھ نہیں دیا، سندھ کے این ایف سی پر پانی پر گیس پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ عقل کے اندھے پاکستان کے بارہ موسم بنا سکتے ہیں ان سے کوئی بعید نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اتحادی اور کراچی کے دعوے دار بجلی کی قیمتوں میں اضافے، مہنگائی پر خاموش ہیں، کراچی کے لوگوں کو سوچنا ہوگا کہ آج کراچی کی دعوے دار ایم کیو ایم مہنگائی پر آواز کیوں بلند نہیں کرتی، ایم کیو ایم کے لوگوں کے منہ کو خون لگ گیا ہے، کراچی کے لوگ اب بدامنی، فسادات نہیں، امن چاہتے ہیں، یہ کراچی میں خونریزی اور فسادات کی سازش کر رہے ہیں، نسلہ ٹاور، گجر نالہ پر مکانات کی مسماری پر مگر مچھ کے آنسو بہانے اور اداکاری کرنے والوں نے رہائشی عمارتوں کی قرارداد اورآرڈیننس کی مخالفت کی۔ انہوں نے پارٹی قائد بلاول بھٹو پر وفاقی وزیر اسد عمر کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد کے کارنامے حمودالرحمن کمیشن میں درج ہیں، انہیں چیلنج کرتا ہوں عمران خان کا بلاول بھٹو سے مناظرہ کرالیں، بلاول بھٹو نے 5 منٹ میں نیازی کو لاجواب نہ کر دیا تو ہم اپنے آپ کو جیالا کہلوانا چھوڑدیں گے۔ پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری وقار مہدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سے گلگت تک عوام بلاول بھٹو کی اپیل پر سراپا احتجاج ہیں بلاول بھٹو کی قیادت میں تحریک کا آغاز ہوگیا ہے،عوام نے فیصلہ دے دیا ہے کہ ہمیں نیا نہیں پرانا قائد اعظم اور قائد عوام کا پاکستان چاہیئے، مہنگائی میں 30 فیصد اضافہ ہوگیا ہے، حکمرانوں کی آئی ایم ایف سے ڈیل ہوگئی ہے جبکہ غریب زندہ درگور کیا جارہا ہے، پیپلز پارٹی غریب لوگوں کی آواز ہے،پیپلز پارٹی نے ہر دورمیں ڈکٹیٹر کو گھر بھیجا ہے، مہنگائی کے طوفان کا خاتمہ نااہل سرکار کی رخصت کے بغیر نہیں ہوگا، نااہل وزیر اعظم نے کراچی کو کچھ نہیں دیا صرف اعلانات کئے، وزیراعظم نے مہنگائی کی انتہا کرکے ملک کی 74 سالہ تاریخ کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ جب تک بلاول بھٹو کی قیادت میں عوامی جدوجہد کے ذریعے پی ٹی آئی کی سیلیکٹد حکومت کو اقتدار سے الگ نہیں کردیتے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کراچی کے جنرل سیکریٹری جاوید ناگوری نے کہا کہ ظلم کی حکومت کا خاتمہ کرکے بلاول بھٹو کی قیادت میں عوامی راج قائم کریں گے، وفاقی حکومت میں کراچی کے دعوے دار مہنگائی توانائی بحران پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ، ایم پی اے راجہ رزاق نے کہا کہ اپنے قائد کے حکم پر کراچی کے عوام توانائی بحران قیمتوں میں اضافے کے خلاف سڑکوں پر ہیںِ، جھوٹ پر قائم کی گئی حکومت نے معاشی مفادات کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا ہے، گدھوں کے فارم ہاؤس بنانے والے حکمرانوں سے عوام کی بھلائی کی کوئی توقع نہیں ہے۔ صوبائی وزیر شہلا رضا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی مہنگائی کے خلاف عوام کی ترجمان بن گئی ہے، کراچی کے چمپئینز کے منہ میں ایلفی چلی گئی ہے مفادات کی خاطر پی ڈی ایم پی ٹی آئی دوسری جماعتیں خاموش ہیں۔ ایم این اے ڈاکٹر شاہد رحمانی نے کہا کہ وزیر اعظم نے مہنگائی کا سونامی مسلط کیا ہے آج ملک گیر احتجاج میں عوام سلیکٹڈ وزیراعظم سے نجات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ سندھ کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے عمران نیازی کی الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے مظاہرے میں کراچی ڈویژن کے عہدیداروں مرزامقبول، سردارخان، آصف خان، لیاقت آسکانی، ذوالفقار قائمخانی، خلیل ہوت، شکیل چوہدری، راشد خاضخیلی ایم اپی ایز، ایم این ایز اور ضلعی عہدیداروں دیگر نے بھی شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرے میں پیپلز یوتھ، پیپلز لیبر بیورو، پیپلز پارٹی شعبہ خواتین پیپلز ڈاکٹر فورم پی ایس ایف سمیت دیگر ذیلی تنظیموں کے کارکنان اور محنت کشوں اورعوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرے میں عمران نیازی کی حکومت اور وزراء کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی گئی۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے ہوئے تھے جن پر بلاول بھٹو آئے گا روزگار لائے گا، گو نیازی گو “کھا گیا ہے کپتان” ،“روٹی کپڑا اور مکان،” “سلیکٹرز اپنی سلیکشن پر نظر ثانی کریں” مظاہرے میں پیٹرول مہنگا ہائے ہائے، بجلی مہنگی ہائے ہائے، گیس مہنگی ہائے ہائے، آٹا مہنگا ہائے ہائے، چینی مہنگی ہائے ہائے کے نعرے لگائے گئے جبکہ مظاہرین نے گلوں میں سوکھی روٹیاں لٹکا کر احتجاج کیا اور مظاہرین نے بجلی اور گیس کے بل بھی جلائے۔مظاہرین نے مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف غم وغصے کا اظہارکرتے ہوئے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی اور وزیراعظم کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا اور چور ہے چور ہے وزیراعظم چور ہے، بجلی دو گیس دو ورنہ کرسی چھوڑ دو، کے نعرے بلند کیے۔