کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کی جانب سے شاہراہ فیصل پر کیے جانے والے احتجاج کے سبب شہر کی اہم شاہراؤں پر بدترین ٹریفک جام ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہے۔ آباد کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود واٹر اینڈ سیوریج بورڈ بلڈرز کو پانی کے کنکشن کے لیے این او سی جاری نہیں کر رہا ہے- احتجاج جمعرات کی صبح 11 بجے آباد ہاؤس سے شروع ہوا اور جس کے بعد احتجاجی مظاہرین نے شاہراہ فیصل پر واقع کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا۔ دھرنے کے باعث شاہراہ فیصل اور کارساز سمیت شہر کی تمام اہم شاہراؤں پر بدترین ٹریفک جام ہو گیا اور شہریوں نے چند منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کیا اور اس وقت بھی شہر کی اہم شاہراؤ پر بدترین ٹریفک جام ہے۔ آئی جی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے شہر خصوصاً شاہراہ فیصل پر ٹریفک جام کا نوٹس لیتے ہوئے ٹریفک کی روانی بحال کرنے کے لیے کو فوری اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں۔ قبل ازیں آباد کے چیئرمین محمد حسان بخشی کا کہنا تھا کہ کراچی میں اونچی عمارتوں کی تعمیرات پر لگائی گئی پابندی کے سبب 600 ارب روہے کی سرمایہ کاری رک گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ نے رواں سال گراؤنڈ پلس 6 منزلہ عمارت کی تعمیر کی اجازت دی تھی لیکن سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے اس سلسلے میں ایک بھی اجازت نہیں دی کیونکہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ پانی کے کنکشن کے لیے این او سی جاری نہیں کر رہا ہیں۔ دوسری جانب صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ ایسوسی ایشن آف بلڈرز (آباد) کی جانب سے واٹر بورڈ کے خلاف دھرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ این او سی سمیت دیگر کے حوالے سے ہدایات محکمہ بلدیات یا واٹر بورڈ کی جانب سے نہیں بلکہ واٹر کمیشن اور سپریم کورٹ کے احکامات پر ہے۔ آباد کی جانب سے اس طرح دھرنا اور احتجاج واٹر بورڈ یا محکمہ بلدیہ کے خلاف کرنا کوئی مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں آباد کے نمائندوں سے استدعا کرتا ہوں کہ وہ دھرنا ختم کرکے سڑک کھول دیں۔ اگر آباد والوں کو اس حوالے سے تحفظات ہیں تو وہ واٹر کمیشن اور سپریم کورٹ سے رجوع کریں۔ اس طرح کے احتجاج سے عوام میں منفی ردعمل جنم لے سکتا ہے۔ کاروباری افراد کا اس طرح سڑکوں پر احتجاج کرنا اور وہ بھی اس ادارے کے خلاف جس کا اس سے کوئی تعلق ہی نہ ہو یہ مناسب نہیں ہے۔ مجھے امید ہے کہ آباد کے رہنماء میری اس اپیل پر اپنا احتجاج اور دھرنا ختم کرکے قانونی راستہ اختیار کریں گے۔
![]()