کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسٹاف رپورٹر) کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمالی سیکریٹری اسلم خان اور مجلسِ عاملہ نے انمول عرف پنکی کی پیشی کے دوران صحافیوں کے ساتھ پولیس کے ناروا رویے، دھکم پیل، دھمکیوں اور میڈیا کوریج میں رکاوٹ ڈالنے کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادیِ صحافت پر قدغن لگانے کی کسی بھی کوشش کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
کراچی پریس کلب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ صحافی عدالتوں، تھانوں اور دیگر سرکاری اداروں کی کوریج اپنے پیشہ ورانہ فرائض کے تحت کرتے ہیں، تاہم پنکی کی پیشی کے دوران پولیس اہلکاروں کی جانب سے میڈیا نمائندگان کو دھکے دینا، کوریج سے روکنا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا نہایت افسوسناک، غیر قانونی اور قابلِ مذمت عمل ہے۔ بیان کے مطابق بعض اہلکاروں کی جانب سے صحافیوں کو یہ کہنا کہ “یہ آپ کا پریس کلب نہیں، ہماری جگہ ہے، ہم جو چاہیں کریں” اختیارات کے ناجائز استعمال اور آزادیِ اظہار پر حملے کے مترادف ہے۔
پریس کلب کے عہدیداروں نے کہا کہ پولیس کا کام قانون کی پاسداری اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے، نہ کہ صحافیوں کو ہراساں کرنا یا انہیں اپنے فرائض کی انجام دہی سے روکنا۔ انہوں نے انسپکٹر ساجدہ نذیر کی جانب سے صحافیوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی دھمکی کو بھی تشویشناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر میڈیا نمائندگان کو رپورٹنگ سے روکا گیا تو صحافتی تنظیمیں اور میڈیا برادری بھرپور احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔
کراچی پریس کلب نے سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام، آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، صحافیوں کو دھمکانے اور کوریج سے روکنے والے اہلکاروں کے خلاف شفاف انکوائری کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ کسی صحافی کو اس قسم کے رویے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔