کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) حکومت سندھ نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر سندھ یوتھ کارڈ پروگرام کا مسودہ تیار کرلیا ہے جسے جلد منظوری کے لیے سندھ کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔
یہ بات صوبائی وزیر کھیل و امورِ نوجوانان سردار محمد بخش مہر نے سندھ یوتھ کارڈ کے اجرا سے متعلق منعقدہ دوسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں سیکریٹری کھیل منور علی مہیسر، ڈائریکٹر اسد اسحاق اور چیف انجنیئر محمد اسلم مہر نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران یوتھ کارڈ کے اجرا سے متعلق تیار کردہ طریقہ کار کے مسودے پر بریفنگ دی گئی جبکہ سیکریٹری کھیل منور علی مہیسر نے صوبائی وزیر کو یوتھ کارڈ کے طریقۂ کار کا حتمی مسودہ پیش کیا۔
صوبائی وزیر سردار محمد بخش مہر نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں سندھ کے 30 اضلاع کے ایک لاکھ نوجوانوں کو یوتھ کارڈ جاری کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یوتھ کارڈ سندھ کا ڈومیسائل رکھنے والے 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں کو دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو صوبے کے تمام اضلاع میں قائم یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹرز میں تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ انہیں معاشرے کا فعال رکن بنایا جا سکے۔ یوتھ کارڈ گرلز، بوائز، اقلیتی اور خصوصی افراد کو بھی جاری کیا جائے گا۔
سردار محمد بخش مہر کے مطابق کارڈ رکھنے والے نوجوانوں کے لیے اسکالرشپ، بلاسود قرض، انٹرنشپ اور بیرونِ ملک روزگار کے مواقع کے لیے تربیت فراہم کی جائے گی۔ جبکہ نوجوان خواتین کے لیے پنک اسکوٹی یا متبادل سفری سہولت فراہم کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یوتھ کارڈ کے ذریعے نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت اور صحت کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
وزیر کھیل کے مطابق سندھ یوتھ کارڈ کے مسودے کو قانونی جانچ پڑتال کے لیے محکمہ قانون کو بھیجا جائے گا جس کے بعد حتمی منظوری کے لیے اسے سندھ کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔