باہمی تعاون کے ماڈلز بنا کر ماحولیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں غربت اور طبقاتی تقاوت کا تدراک ممکن ہے۔
امدادِ باہمی دن کو منانے کا مقصد امداد باہمی کے نظریے کو فروغ دینا، خود انحصاری، شفافیت اور بھائی چارے پر مبنی ہوں۔
کمالیہ (ایڈیٹر نیوز آف پاکستان ۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ) امداد باہمی اجتماعی ترقی، سماجی بہتری اور معاشرتی فلاح و بہبود کی آئنہ دار ہے۔ باہمی تعاون کے ماڈلز بنا کر ماحولیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں غربت اور طبقاتی تقاوت کا تدراک ممکن ہے۔ یاد رہے کہ آج کے دن کو منانے کا اولین مقصد دنیا بھر میں امداد باہمی کے نظریے کو فروغ دینا اقتصادی بحرانوں سے نکلنے کے لئے تعاون کے عملی قواعد کو بروئے کار لانا اور اجتماعی ترقی کے ایسے نمونوں کو عام کرنا ہے جو کہ خود انحصاری، شفافیت اور بھائی چارے پر مبنی ہوں۔ ان خیالات کا اظہار صدر چوہدری آرٹس سوسائٹی اینڈ کلچرل ونگ کے صدر ایم افضل چوہدری نے امداد باہمی کے عالمی دن کے موقع پر چوہدری آرٹس سوسائٹی اینڈ کلچرل ونگ کے اعزازی عہدیداروں کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے ایک پریس ریلیز میں کیا۔ اعلامیے کے مطابق رانا طارق جاوید خان ایڈووکیٹ (لیگل کنسلٹنٹ آرٹس) امجد علی ڈوگر ایڈووکیٹ (لیگل کنسلٹنٹ کلچر) رانا محمد ناصر خان (فنانس ایڈوائزر) امداد حسین مغل (میڈیا کوارڈینیٹر) قاری محمد آصف رضا (قاری القراء) لالہ سلیم مغل (نمائندہ منیارٹی) رانا علی اویس خان (کلچر ایجوکیشن) ایم ذوالفقار ذلفی(باغبانی) احمد بن عثمان (ماڈرن برانڈ کلکٹر) عدیل اشرف جان سندھو(اطلاعات و نشریات) عبدالرؤف رحمانی (پروگرام ایڈوائزر، ممبر سوشل میڈیا) محمد حمزہ رحمانی (پروگرام سیکرٹری، پینٹر آرٹسٹ)ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اِن شاء اللہ سوسائٹی کی رجسٹریشن کا عمل بہت جلد مکمل ہوجائے گا۔
فوٹو: چوہدری آرٹس سوسائٹی اینڈ کلچرل ونگ کے اعزازی عہدیداروں کے اراکین کا گروپ فوٹو۔