Home / آرٹیکل / مذہب اور ریاست تحریر و ترتیب ۔ محمد جواد بھوجیہ

مذہب اور ریاست تحریر و ترتیب ۔ محمد جواد بھوجیہ

مذہب اور ریاست

تحریر و ترتیب ۔ محمد جواد بھوجیہ

مذہب سے دوری پہلو تہی ،سلف نظر یا ملک پر اجارہ داری ،بدمعاشی غنڈہ گردی ، ذاتی نسلی دھونس دھکمی و طاقت و حق حکمرانی کا اظہار کرنے دوسروں کو مر عوب و خوف زدہ کرنے و نفس پرستی کی حکمرانی قائم کرنے کے لیے شروع سے آج تک عمومی طور پر اس بحث کو چھیڑ کر بڑے بڑے مناظروں و مباحثوں کا انعقاد کیا گیا کہ کیا ریاست کے قیام کامیابی سکون کے لیے مذہب کا ہونا ضروری ہے یانہیں اب اس میں مختلف طبائع مزاج کے لوگوں نے اپنی ذاتی خواہشات و ضرو ر یات کے تحت مختلف انداز سے بحثیں و مناظرے کیے بعض نے ریاست کو ذاتی جاگیر سمجھا بعض نے مذہب کو اپنی ذاتی جاگیر قرار دیا بس یہی وجہ ہے کہ اس کا کوئی حقیقی نتیجہ کسی کے ہاتھ نہ آسکا ریاست کومذہب سے آزاد کرانے کے خواہش مند اس بات کو بھول گئے کہ ہر ملک کسی نہ کسی قوم کے وہاں مستقل قیام کا پابند ہوتا ہے اگر کسی ملک میں کسی قوم کا نشان نہ ہو تو وہ ملک بھلا کس کا ہوگا جبکہ دوسری طرف مختلف عقائد نظریات ادیان و مذاہب مختلف قوموں کو جنم دیتے ہیں کسی قوم کی یکجہتی مساوات ہم آہنگی اتفاق و اتحاد کے لیے ان نظریات و افکار منازل و مقاصد کا ایک ہونا ضروری ہے اور یہی مذہب کے بنیادی اجزا ہیں اور دوسری طرف آپ دیکھیں اور غور کریں کہ کسی بھی ملک کے قیام کے لیے قوم میں مندرجہ بالا خصوصیات کا ہونااتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کا ہونا ضروری ہے کسی بھی ترقی یافتہ ملک کا آپ تجزیہ کرکے دیکھ لیں وہاں مندرجہ بالا خصو صیات کو کتنا استحکام میسر ہے ترقی یافتہ قومیں بار بار یہ اعلان کرتی ہیں کہ قومی یاملکی مفادات پر کبھی سودے بازی نہیں ہوگی یہ سارے اجزائے ترکیبی ان کو انکا مذہب ہی فراہم کرتا ہے یہ الگ بات ہے کہ وہ مذہب کو مانتے ہیں یانہیں یا اسے اخلاقیات یا کسی اور چیز کا نام دیتے ہوں مذہب اور ریاست کو سمجھنے کے لیے ہم اس کا علیحدہ علیحدہ تجزیہ کریں آئیے ہم سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ ریاست مملکت یا ملک کسے کہتے ہیں اس کی ضروریات اجزائے ترکیبی کیا ہیں ۔اس ضمن میں عرض ہے کہ ریاست وہ معاشرتی ادارہ یا علاقہ ہے جس میں خاندانوں و لوگوں کی سیاسی منظم جماعتوں ،علاقوں شہروں و دیہاتوں کی تنظیم کسی خاص حصے پر موجود یا آباد ہوں جس پر ان کا مکمل قبضہ و حق تسلیم کیا گیا ہو جس کے قیام کا مقصد اس میں موجود تمام افراد کو آزاد زندگی کی مکمل سہولتیں مہیا کرنا ،ان کی سیاسی تنظیم کو قائم کرنا خارجی اثرات سے اپنے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا ان کے معاشی معاشرتی ، تمدنی ،اخلاقی امور کو قانون کی رو سے سرانجام دینے کے انہیں آزادانہ موقع فراہم کرنا ہے لہذا ایسی مملکت کے اجزائے ترکیبی مندرجہ ذیل ہیں انسانوں کی آبادیِ ،مخصو ص علاقہ تنظیمی ڈھانچہ ، حکومت ،آئین و قانون ،اقتدار اعلی ۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان تمام اجزائے ترکیبی میں مذہب کی ضرورت کہاں اور کیسے پیش آتی ہے
کسی بھی ریاست کے وجود کے لیے آبادی کا ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ ریاست اس مسلمہ اور مصد قہ زمینی حد بندی کا نام ہے جہاں انسان کے معاشی ،معاشرتی ، قانونی تہذیبی ، اخلاقی و ضروریاتی زندگی کے تمام معاملات کو قانون کے تحت سرانجام دیا جا ئے ۔اب آپ غور کریں کہ اگر ریا ست کی انسانی آبادی میں مذہب حق پرست ،رحم پرور ،با اخلاق ، منصف ، مجاہد ،سچے مخلص ، ایماندارو حقیقت شناس لوگوں کا وجود نہیں ہوگا تو وہ کسی بھی مملکت کو نہ تسلیم کریں گے اور نہ اس کے قیام میں انہیں کوئی دلچسپی ہوگی ہاں اگر ان کا مذہب ،مقصد ، عقیدہ ، ضرورت و منزل ایک ہی ہوگی تو وہ یقیناً ایک اچھے ملک اور ریاست کو قائم کرکے ایک صحت مند و خوبصورت معاشرے کو پیش کرنے کے اہل ہوں گے اور یہ ساری خوبیاں و طاقتیں کوئی عملی مذہب ہی فراہم کرسکتا ہے ۔مذہب کا تعلق چونکہ تمام دنیا کے انسانوں کی فلاح و بہبود ، ان کے تمام حقوق کی حفاظت و نگہداشت کرنا و انسان کو انسانیت کے معراج عطا کرنا ہوتا ہے جہاں بھی آپ کسی اچھے فرد یا ا نسان کو دیکھیں گے اس کا تعلق کہیں نہ کہیں کسی عملی مذہب سے ضرور جڑا ہو ا ہوگا چونکہ مذہب سے دوری خدا سے دوری ہے اور مذہب کا انکار خدا کا انکار ہے کوئی مانے نہ مانے خدا کے خالق و مالک ہونے پر اسکا کوئی اثر نہیں پڑتا خدا اور مذہب کو نہ ماننے والے افراد بھی ان فطری قوانین کو ضرو مانتے ہیں جو ان کی سمجھ میں آتے ہیں یا جن کو سمجھنا یا ان پر عمل کرنا ان کے لیے ضروری ہوتا ہے ماں سوائے چند معجزات کے اگر کوئی یہ کہے کہ میں بغیر باپ کے پیدا ہوا ہوں تو اس کے اس دعوے کو تسلیم تھوڑا ہی کر لیا جائے گا جبکہ اس کے ماں باپ بھی دنیا میں موجود ہوں اسی طرح اگر کوئی اخلا قی اصولوں کی پابندی تو کرے لیکن مذہب کا انکار کرے تو اسے غیر مذہبی فرد کون گن سکتا ہے کیونکہ تمام اہل علم بخوبی جانتے ہیں کہ پوری دنیا کے تمام اخلاقی اصولوں کا خالق و انھیں مہیا کرنیوالا صرف مذہب ہی تو ہے ۔۔
کسی بھی ریاست کا دوسرا جز وہ علاقہ ہوتا ہے جہاں اس کے افراد اپنی مرضی کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں زندگی کی عملی تفسیر و ترتیب و تکمیل کے لئے انھیں کوئی خارجی یا بیرونی رکاوٹ و دباوٗ نہ ہو اس خطے یا علاقے کو ہر فرد اپنی حکمی یا حقیقی ملکیت تصور کرتا ہو اب آپ دیکھیں اور غور کریں کہ کسی بھی ریاست کے علاقے کی حدبندی کے لیے مذہب کی اشد ضرورت ہے وہ اس طرح کہ وہ علاقہ ظلم و تشدد ، بے انصافی و غیر قانونی ، غیر اخلاقی و غیر منصفانہ یا بے ایمانہ طریقہ سے حاصل نہ کیا گیا ہو اس کے حصول کے لیے مذہب کے علاوہ کہیں اور رجوع کرنے کا ارادہ نہیں ملتا علاقے کو غیر متنازعہ بنانے کے لیے مذہب ہی وہ منبع فیض ہے جو افراد کے ریوں میں تبدیلی کر کے دوسروں کو انکا احترام کرنے ان کی بات ماننے و زمین و علاقہ ان کے سپرد کرنے پر مائل کرتا ہے ۔۔
یہ ریاست کا تیسرا بڑا جز و بنیادی ستون تصور کیا جاتا ہے جسمیں معاشرے کے تمام طبقات اور ادارے شامل ہوتے ہیں جو مل کر کسی ریاست کے خدوخال ، ڈھانچے و اس کے وجود کی وضاحت کرتے ہیں اگر کسی ملک کا تنطیمی ڈھانچہ کمزور ہو جائے تو وہ ملک ترقی نہیں کر سکتا بلکہ اس کی بقا بھی خطرے میں پڑھاتی ہے اب تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط و توانا کرنے کے لیے ایسے مذہبی و اخلاقی اصول و ضوابط کی ضرورت ہوتی ہے جو معاشرے کے تمام طبقاب میں ہم آہنگی ملک سے وفاداری ، مرکز سے بے لوث تعلق جیسے جذبات فراہم کر کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط سے مضبوط تر کریں اور مختلف اداروں کو ایسے نیک و بے افراد فراہم کرے جنکی انصاف پرور و ترقی پسند ذہیت کی بدولت افراد کا اعتماد اداروں پربحال رہے اور اداوں کی حکمرانی سے ریاست خوشحالی کا سفر آسانی سے طے کر سکے کسی بھی ریاست کے تنظیمی ڈھانچے میں بنیادی کمزوری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اس کے ادارے ایک دوسرے سے متصادم ہو کر کمزور ہو جائیں اور معاشرہ طبقاتی تقسیم کا شکار ہو کر فسادفی الارض و مایوسی کا سبب بنے تو اس ریاست کا اختتام نا گزیر ہو جاتا ہے تنظیمی ڈھانچے کمزور ہوں تو دہشت گردوں کو پیدا ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا جبکہ دہشت گردی کا صیحح منصفانہ و حکیمانہ حل و توڑ صرف اور ٖصرف مذہب کے پاس ہے کیونکہ مذہب ، شعور، تحت الشعور سے گزر کر لا شعور کے دروازے تک پہنچاتا اور بظاہر سے باطن کی رہنمائی کرتا ابدان سے ارواح کا علاج تجویر کرتا و باطنی نظریہ و شناسائی مہیا کرکے اپنے ماننے والوں میں استغنا کی طاقتیں و عادتیں پیدا کر کے دنیا و مافیتھا سے بے نیاز کر کے افراد کو قوم و ملک و اس کی بھلائی کے لیے سچے جذبات سے آبپاری کر کے افراد کو قوم و ملک و اس کی بھلائی دار بنانے کا طریقہ مہیا کرتا ہے بہت سے مشالی ملکوں کے تنظیمی ڈھانچوں کا اگر عمیق مطالعہ کریں تو اس کے افراد میں مندرجہ بالا صفات کے حاصل بہت سے افراد آپ کو دکھائی دیں گے۔۔

ریاست کا چوتھا جز حکومت کے نام سے جانا جاتا ہے حکومت میں وہ مشینری شامل ہے جو ریاست کے فیصلوں کا نفاذ کرتی امن و امان کو قائم کرتی اطمینان و خوشی و کامیابی کا یقین دلاتی تمام افراد کے گھروں کی دہلیز تک سستا و فوری عدل و انصاف مہیا کرتی ہے اب آپ دیکھیں کہ حکومت کو چلانے والے افراد کو ہی مشینری کا نام دیا گیا اور اگر اس مشینری میں حسد بغض ، اجازہ داری ، کنبہ پروری ، تکبر، لالچ، نفس پرستی، ضد بازی، ظلم پروری، حق تلفی، الزام تراشی، دغا بازی وغداری ، منافقت جیسی روحانی امراض موجود ہوں تو ریا ست یا مملکت مختلف بغاوتوں ، سازشوں ودشمنوں کی ریشہ دوانیوں کا شکار نہیں ہو گی تو اور کیا ہو گا ایسی مشینری کو دشمن فورا خریدے گا ایسی مشینری کے فیصلے امن و امان قائم کرنے میں کبھی ممددثابت نہیں ہو نگے ایسی ریاست اپنی رٹ قائم کرنے کا رونا ہمیشہ روتی رہے گی آپ دیکھیں اور غور کریں کہ کیا دنیا میں کوئی ایسی حکومت بھی پائی جاتی ہے جو اپنے افراد، عمال، ایوان بالا، ایوان زیریں، و ذمہ دار افراد سے حلف وفاداری کا مطالبہ نہ کرتی ہو اور یہ حکومت کا لازمی جز اسے صرف اور صرف مذہب مہیا کرتا ہے یہ الگ بات ہے کہ بعض حکومتوں نے اس جز کو مذہب سے علیحدہ کر کے اسے اخلاقیات میں شامل کر لیا ہے کیونکہ مذہب کی یہ شرط اوالین ہے کہ اس کے ماننے والے وفادار اپنے وعدوں کے پاسدار ایماندار پاکیزہ افکار انمول و غیر بکاوٗ نہیں ہونے چاہیں بڑے بڑے مذہبی شہنشاہ و خلفاء و انبیا صاحب الہام صاحب معجزہ و دنیا کے کا میاب ترین و عادل انسان گزرے ہیں مذہب کے مخالف آج تک ان جیسے نظام حکومت جیسی مشال پیشی نہیں کر سکے اگر آپ غور کریں تو مذہب اصول و ضوابط کو مہیا کر کے ضابطہ حیات کی تشریح کر تا و قانون پر عمل کرنے کی تربیت دیکر افراد کو اس کی صیحح منزل کی نشاندہی کرتا ہے مذہب کے مخالف دنیا بھر کے تمام افراد کی زندگیوں کا اگر حقیقی و گہرا مطالعہ کیا جائے تو ان کے ہاں کہیں نہ کہیں مذہب کے چوری کردہ اصول و ضوابط و قوانین پائیں جائیں گے جن کو وہ بڑی بے شرمی و بے حیا پرواہی سے ذاتی اصولوں تجربوں یا غیرت کا نام دے رہے ہوں گے حکومتی ڈھانچے و مشینری کے افراد کو مذہب کی ضرورت عام افراد سے کہیں زیادہ پڑتی ہے حکومت کسی خود کار نظام کا نام نہیں بلکہ اعلی سطح کے اعلی دماغ رکھنے والے ان افراد کے مجموعے کا نام ہے جو قوم و ملت کی مرضی رضا مندی و چناوٗ سے قوم کی خواہشات کی تکمیل میں ان کی جائز و منصفانہ مدد کر کے ان کی حقیقی نمائندگی کریں ایسے افراد میں جو خصوصیات بھی آپ دیکھیں گے وہ یقیناًمذہب کی فراہم کردہ ہوں گی دنیا کی تمام کامیاب و مشالی حکومتوں نے مذہبی نظام و قوانین کو اپنی قوموں کے نصابوں میں شامل کر کے انہیں ان کی زندگیوں کا حصہ بنا کر اسکا عادی بنا کر ان کے دل و دماغ پر ایسا نشہ چڑھا یا ہے کہ وہ جانوروں کے ساتھ بھی انصاف محبت و پیار کرنے لگے ہیں مذہب ان کی روایات ، عادات ، تعلیمات ، معاشیات و معاشرے میں ایسا شامل ہو ہے اب اگر وہ چاہیں بھی سہی تو ایسے اپنی زندگیوں سے علیحدہ نہیں کر سکتے مذہب اور ان کی زندگی یوں باہم پیوست ہو گئی ہے جیسے آٹا نمک کو اپنے اندر جذب کر کے اسے آسانی سے علیحدہ نہیں کر سکتا جس حکومت پہ بھی مذہب کا جتنا اثر ہو گا ہو اتنی ہی کامیاب رحم دل، انصاف پرور، بااخلاق و حق و باطل میں تمیز کرنے والی گنی جائے گی آپ ہمارے ہمسایہ ملک روس کا حال دیکھ لیں جس کو مذہب و مذہبوں کی دشمنی لے ڈوبی آخر کا ر پبر طاقت کا دعویدار گھٹنے ٹیکنے و ٹکڑے ٹکڑے ہونے پہ مجبور ہو گیا قانون قدرے و فطرے ہے کہ کسی بھی مذہب کی دشمنی اس کو مضبوط سے مضبوط تر کرتی چلی جاتی ہے جہاں تک وہ فنا نہیں ہوتا بلکہ ایک نہ ایک دن اپنے بقا و غالب ہو نیکا اعلان کر دیتا ہے یہود و نصاری و دیگر اقوام کی تار یخ اس کی گواہ ہے دنیا میں کوئی ایسی حکومت قائم ہی نہیں ہو سکتی جو ماضی کے تمام اخلاقی یا مذہبی اصولوں کو چھوڑ کر کامیابی و کامرانی کے نئے ایسے اصول ڈھونڈ کے لائے جن سے پہلی اقوام ، افراد یا حکومتیں واقف نہ ہوں ۔۔
کسی بھی ریاست کا پانچواں جز آئین و دستور ہوتا ہے جسمیں حکومت کے فرائض صدر و وریراعظم یا بادشاہ کے اختیارات اقتدار اعلی کی منتقلی کا طریقہ کا قانون کے مصادر اعضاء حکومت یعنی مقننہ ، عدلیہ ملکی قوانین ، اداروں کے اختیارات ، بین الاقوامی روابط و تعلقات ، یوم کے مقاصد ، منازل و راستوں کی نشاندہی ، قومی ذمہ داریوں ، نصب العین و او صاف پر بحث کی جاتی ہے اور مندرجہ بالا نقاط سے اگر حق شناسی، حق پروری ، عدلی و انصاف ، حقیقی مقصد زندگی ، قومی ترجیحات ، نصب العین جیسے مذہبی نقاط کو اگر خارج کر دیا جائے تو وہ دستور شیطانی دستور کہلائے گا جس پر عمل کر کے کوئی قوم کامیابی کا پسنا پورا نہ کر سکے گی کیا کسی بھی ملک کا دستور اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اس کے نالائق ، کام چور، جھوٹے ، بے ایمان غدار و بے انصاف لوگوں کو حکومتی اختیارات و قومی فیصلوں کا حق سونپ دیا جائے کیونکہ ان ساری برائیوں کی مذہب شدت سے مخالف کرتا ہے کوئی مذہب کو مانے نہ مانے چاہے اس کی جتنی مخالفت کرے مذہب پھر بھی اس کی خیر خواہی کرتا اور کسی نہ کسی طریقے سے اسے فائدہ پہنچاتا رہتا ہے یہ مذہب ہی تو ہے جو پردہ اخغا ء میں بھی رہ کر تمام قوموں کے فوائد، احساسات و خیالات کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کرتا ہے ہاں جو حکومتیں مذہب کی مخالفت کرتیں ہیں ان کے سامنے دراصل مذہب کے پیچھے پیروکاروں کا چہرہ نہیں بلکہ اس کے اجارہ داروں عمل مخالفوں و شرپسندوں کا کردار و عمل ہوتا ہے ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ ایک وقت میں روس کے صدر نے اپنی کابینہ و پارلیمنٹ کو مذہب اسلام کو سرکاری طور پر اپنانے کا مشورہ دیا تھا اور انہیں بڑی وضاحت کے ساتھ سمجھایا اور بتایا تھا کہ پوری دنیا میں اسلام سے بڑا سوشلسٹ مذہب کوئی اور نہیں ہے میں اس کے گہرے مطالعہ کے بعد اس حقیقت پر پہنچا ہوں کہ اسلام ہی ہمارے نظام کے قریب تر ہے لہذا میں تمہیں ایک سال کی مہلت دیتا ہوں آپ اس پہ ململ غور و فکر کر لیں اگرچہ پارلیمنٹ میں کچھ لوگوں نے شور مچایا مخالفت کی اور کچھ نے غور و فکر کا وعدہ کیا اور جب اس بات کا پتہ یورپ و امریکہ و انگلستان کو ہو ا تو ان کی حکومتوں میں ایک کہرام مچ گیا ان کو یہ خطرہ محسوس ہونے لگا اگر ایسا ہو گیا تو پوری دنیا کے اسلامی ملکوں و مسلمانوں کی ہمدردیاں روس کے ساتھ ہو جائیں گی اور دوسرے لفظوں میں مسلمان سپر طاقت کہلانے لگیں گے لہذا ایک منظم و وسیع سازش کے تحت مسلمانوں کو روس کے خلاف بھڑ کایا گیا اس کے خلاف جلسے جلوس کرائے گئے یہاں تک کہ روس کے صدر کو یہ کہنا پڑا کہ یہ مخالفت کر نے والے بیوقوف لوگ ہیں یہ ایک لمبی تفصیل طلب بات ہے کیا یورپ و امریکہ و برطانیہ میں مذہبی لوگوں کے ووٹ کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی کیا وہاں مذہبی لوگوں کو باقاعدہ انتظامیہ میں نمائندگی نہیں دی جاتی کیا ریاست کے سربراہوں کے جنازے نہیں پڑھے جاتے کیا غیر قومیں جنازوں کو میموریل سروس کا نا م دیکر بڑی بڑی مذہبی محفلوں کا انعقاد نہیں کرتے کیا آج کی سپر طاقت یہودی مذہبی اجارہ داروں کے تحت نہیں ہے اور اگر یہ سچ ہے تو پھر یہ بھی جان لیں کہ اقوام متحدہ کا منشور بھی مذہب سے ہی اخذ کیا گیا ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ آج سے 1400 سال پہلے خاتم النبین نے جو نیوورلڈ آرڈر دیا تھا آج جدت پسندی کی دعویدار حکومتیں بھی اسے کسی نہ کسی شکل میں اپنائے ہوئے ہیں اور آپ دیکھیں اور غور کریں تو دنیا کی سپر طاقتوں کی دعویدار حکومتوں کی اعلی ترین یونیورسٹی میں ہمارے آقاء دو جہاں کو دنیا کا عقل مند ترین ، ذہین ترین و کامیاب ترین انسان گنا گیا ہے اور کسی بھی حکومت نے اس نام کو ہٹا نے کا کبھی اشارہ تک نہیں دیا ہے اس ترقی یافتہ دور میں بھی مذہب کو نہ ماننے اور اس کی مخالفت کرنے والی حکومتوں کے زیر سایہ انسانیت کی جو تذلیل کی گئی جس و حشت ناک طریقے سے انہیں کاٹ کر انکا گوشت پکا کرسر عام کھایا گیا کہیں اس کی مشال کسی بھی مذہبی ریاست میں نہیں ملتی جہاں بھی مذہب کو چھوڑ دیا جائے یا اس پر کسی غلط ٹولے کی غلط طریقے ، منافقت و بے ایمانی سے اجارہ داری قائم کر لی جائے تو وہیں دہشت گردی دنگا فساد قتل و غارت شر پسندی ، اجارہ داری و انسانیت کی تذلیل جیسے عناصر پیدا ہوتے ہیں ان کا قلع قمع کرنا پوری دنیا کے حق پرست ملکوں و حقیقی مذہبوں کا کام ہے اس کی مشال 1400 سال پہلے خارجیوں کے خلاف سیدنا علی کی جنگ سے پیش کی جا سکتی ہے اگر آپ ہمارے ہمسایہ ملک ہندستان کی پر دور کی حکومتوں کا مطالعہ کریں تو آپ حیران ہوں گے کہ سیکولر سٹیٹ کا اعلان کرنے کے باوجود وہ شروع سے آج تک ہندو مذہب کی سر پرستی و نمائندگی کر تی چلی آرہی ہے انکا کوئی ایک بھی وزیراعظم ، لیڈر ، رہنما ایسا نہیں گزرا جس نے ہندو مذہب کی مخالفت کی ہو یہ ایک لمبی بحث ہے گائے ذبح کرنے پر آج بھی مسلمان قید و بند کی صعبتوں سے گزر رہے ہیں عملی طور پر ہندستان کی حکومت اپنے مذہب کے تابع ہے اس کے باوجود ان کی حکومت کامیابی سے چل رہی ہے اب بہت سی غیر اسلامی حکومتوں نے مذہب اسلام کو بد نام کرنے و اس کے حقیقی چہرے کو دنیا سے اوجھل کرنے کے لئے سر جوڑ کر زر کثیر و دیگر تمام قوتیں خرچ کر کے سازشوں کے جو جال پھیلائے ہیں انہی کا نتیچہ ہے کہ اب یہاں بھی یہ بحث چل نکلی ہے کہ آیا مذہب ریاست کے لیے ضروری ہے یا نہیں آپ ایک بات پر غور کریں کہ کیے گئے وعدے کا پورا کرنا ضروری ہے یا نہیں دنیا کی کسی ایسی عدالت ، نظام ، تعلیم، و تنظیم، کا نام بتا دیں جو بحثییت مجموعی وعدہ پورا کرنے کی مخالفت کرتی ہو اور یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قیام پاکستان سے پہلے مسلمان قوم کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو کس نے پورا کیا کس نے انحراف کیا اور کس نے اس راستے میں روڑے اٹکائے اور قیام پاکستان کے بعد اس وقت کی حکومت نے جو وعدے ایک مذہبی ریاست کے قائم کرنے کے لیے کئے تھے کیا وہ وعدے پورے کیے گئے ہیں کیا پورا پورپ و امریکہ ان وعدوں کی تکمیل کا مخالف نہیں ہے اب یہاں مذہب کا کیا قصور ہے مذہب تو ہمسایہ ملکوں غیر قوموں و مذہب کے دشمنوں کے ساتھ بھی رحم و کرم جودوسخا ، در گذر و انصاف کرنے کا درس دیتا ہے اب دنیا میں ایسی کون سی ریاست ہے جو عملی طور پر مذہب کا انکار کر کے نظام سلطنت یا ریاست کو منظم طریقے سے چلا سکے مذہب دنیا کی ہر حکومت میں ست یا جوہر کی مانند ہوتا ہے اسی لیے حکیم الامت نے فرمایا تھا اگر ریاست سے ست نکال دیا جائے تو باقی ریا بچ جاتا ہے جس کا معانی دھوکہ ، فراڈ و محض دکھلاوہ ہوتا ہے اور اگر آپ غور کریں تو پوری دنیا کے تمام ممالک
کے آئین و دستوروں کو اٹھا کے دیکھیں انکا بہت سا حصہ مذاہب کے تابع آئے گا سیکولرازم کی دعویدار ریاستوں کے آئین و قوانین بھی غیر اعلانیہ طور پر مذہب کے تابع ہیں تمام مذاہب لافانی حثیت رکھے ہوئے مٹ مٹ کے ابھررے اور ابھر کر چھا جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں کوئی یہ ثابت کر سکتا ہے کہ کسی بھی حقیقی مذہب کو دنیا سے ہمیشہ کے لیئے ختم کر دیا گیا ہو یا اس کے پیرو کار دنیا سے نست و نابود ہو گئے ہوں
ریاست کا چھٹا جز اقتدار اعلی ہے اس سے مراد ریاست کی وہ طاقت لی جاتی ہے جو اس میں موجود تمام تنظیموں یا گروہوں پر ہر لحا ظ سے بر تری رکھتی ہو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی شخصیت کی خصوصیات کیا ہوں کیونکہ اگر اسے مطلق مقتدر اعلی مان لیا جائے تو یہ ریاست کے دیگر افراد کے لئے خطرناک ترین بات ہو گی جیسا کہ تاریخ میں سابقہ شہنشاہ ہوں کے حالات سے ثابت ہوتا ہے کیونکہ اس شخصیت میں وفاداری ، بے لوث پن ، عدل و انصاف ، غیر متنازعہ شخصیت معاشرے کے تمام طبقات کا ہر دل عزیر و خیر خواہ ذہنی ، جسمانی و روحانی طور پر صحت مند تجرہ کاری ، احسان پروری دانش مندی ، دور اندیشی ، آئین و دستور سے مکمل و اقفیت ، قوت برداشت ، انسانی حقوق کی محافظت، دلیری ، حق کی معاونت بین الاقوام کی مزاج شناسی ، جارج اقوام کے ساتھ نپٹنے کے فن کے ساتھ و اقفیت اپنی حدود و قیود و فرائض و اختیاراے کا پابند، قومی خیر خواہی جیسی خصوصیات کا حامل فرد ہم مذہب کے اثرات سے پاک بھلا کہاں سے لا سکتے ہیں کیونکہ مندرجہ بالا صفات و خصوصیات کسی فرد کو صرف اور صرف مذہب ہی مہیا کر سکتا ہے ان خصوصیات کا حامل کوئی بھی فرد یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ یہ اس کی ذاتی تخلیقی یا تحقیقی ہے جب بھی آپ ان خصوصیات کا پیچھا کریں گے تو یہ چلتے چلتے آپ کو کسی مذہب یا اس کے بانی تک ضرور لے جائیں گی تو پھر آپ کیسے کہ سکتے ہیں کہ کسی ریاست کو مذہب کی ضرورت نہیں یا و ہ مذہب کے بغیر اپنے حقیقی فرائض سر انجام دی سکتی ہے

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

یکم مئی، مزدوروں کا عالمی دن۔ پاکستان میں مزدوروں کے مسائل، حقوق اور بہتری کی راہیں ۔۔۔ تحریر : ڈاکٹر غلام مرتضیٰ

یکم مئی دنیا بھر میں محنت کشوں کے احترام، جدوجہد اور حقوق کی یاد تازہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے