بلوچستان کا دارلحکومت کوئٹہ ایک حسین وادی کا نام ہے جو چاروں طرف سے خوبصورت پہاڑوں میں گھری ہوئی ہے جہاں پر ہر پہاڑ کے ساتھ ایک لوک داستان وابستہ ہے- موسم خزاں کی آمد کے ساتھ ہی کوئٹہ میں موسم سرما کی آمد کا انتظار رہتا ہے یہاں سردی کا موسم ایک شان کے ساتھ اترتا ہے جو اپنے ساتھ خوبصورت دلچسپیاں سمیٹے لاتا ہے- میوہ، چاۓ کی گرما گرم پیالیاں، مونگ پھلیاں، روش، کافی اور میوہ جات سے لطف اندوز ہونے کا دور سا شروع ہوجاتا ہے- بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی سال کے اس حصے کا بے تابی سے انتظار کرتے ہیں کیونکہ سالانہ امتحانات کے ساتھ اسکولوں میں دو ماہ کی عام تعطیلات ہوجاتی ہیں
![]()
![]()
صبح کی ایک ہنگامہ پرور مصروفیت میں ایک ٹھہراؤ آجاتا ہے- دمکتی ہوئی سنہری دھوپ، نگاہیں خیرہ کرتے جیسے ہی گھروں کے صحن میں اترتی ہے سب کے اندر ایک زندگی کی لہر سی دوڑ جاتی ہے- ان چھٹیوں کو کوئٹہ میں رہ کر لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ دوسرے شہروں میں مقیم اپنے عزیز و اقارب سے ملنے ملانے جاتے ہیں اور کچھ انہیں یہاں آنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں-
مگر نہایت افسوس کے ساتھ مجھے عوام کی ایک نہایت دکھی کیفیت کا ذکر کرنا پڑ رہا ہے جسکی وجہ سے ہر سو آجکل ایک یاست و پریشانی کی چھائی ہوئی فضا والدین کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر رہی ہے- گزشتہ کچھ دہائیوں میں، قریباً کوئی کم و بیش سال کے عرصہ میں شہر کے پوش علاقوں میں کاروباری افراد نے اپنا کاروبار بڑھانے اور پیسہ کمانے کی غرض سے اسکول کھولنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے
![]()
ان پرائیویٹ اسکولز میں دوسری ششماہی کے آغاز ہونے کے ذرا بعد ہی ان بچوں کے ہاتھ میں ایک نوٹس گھروں کو بھیجا گیا جس میں والدین سے سال کے آخری مہینوں میں فیس کی دگنی رقوم کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا تھا- یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بلوچستان اور کوئٹہ کے ایک آدھ اسکول کو چھوڑ کر تمام تر اسکولز موسم سرما میں کم از کم دو ماہ کے لئے بند ہوتے ہیں- سارا سال اپنی دیگر تمام تر ضرورتوں کو پس پشت ڈالتے ہوۓ والدین نے مذکورہ بالا خرچ اٹھاۓ تھے کہ سکون کا سانس لینے کی گھڑی آتے آتے ان اسکولوں کے مالکان نے دگنی مہینوں کی ادائیگی کا نوٹس بچوں کے ہمراہ ان کے والدین کو بھیج دیا- نتجتاً تعطیلات کی آمد، آمد کی خوشی نہ صرف ماند پڑگئی بلکہ اقارب سے ملاقات کی امید بھی دم توڑ گئی
![]()
سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان دو ماہ کی چھٹیوں کی فیس والدین سے کیونکر وصول کی جاتی ہے جبکہ بچے اسکول جا ہی نہیں رہے ہوتے- اتنی بہت فیس ان مالکان کے لئے بونس ہے کیونکہ یہ اساتذہ اور دیگر عملے کی تنخواہوں کی ادائیگی کے بہانے وصول کی جاتی ہے- مزید برآں کہ بعض پرائیویٹ اسکولز یہ فیس بٹور تو لیتے ہیں لیکن اساتذہ کو ان دو ماہ میں تنخواہ نہیں دی جاتی- علاوہ ازیں یہاں ایک اور ممکنہ قابل غور ہے کہ ان اسکولز کا سالانہ آمدنی کا ٹرن آور دیکھا جانا چاہیے اور انکا اساتذہ کو معمولی تنخواہیں دینے کا نوٹس لینا چاہیے
![]()
![]()
اساتذہ اسکول کے مالکین کے ملازم ہیں، لہٰذا ان کو تنخوایں دینا بھی مالکین کا کام ہے، والدین کا نہیں، ضروری امر ہے کہ بے بس والدین کی داد رسی کے لئے متعلقہ افراد کو اس ڈبل امر فیس کی کنکشن کے معاملے پر ضروری ایکشن لینا چاہیے-ان معصوم بچوں کی آنکھوں میں سردیوں کی چھٹیاں آنے سے پہلے جلنے والے خوشیوں کے دیپ جگمگاتے رہنے چاہیے- امید کی جاتی ہے کہ والدین کا کچھ بوجھ یہ دوہری فیس کا سلسلہ ختم کرنے سے کم کیا جاسکتا ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کے لئے گرم کپڑے، سوئیٹر اور بدن کو حرارت پہنچانے والی اشیاۓ خرد و نوش خرید سکیں- اس موضوع کو زیر تحریر لانے کا مقصد میرے شہر کے باسیوں کی خوشیاں لوٹانے میں ضروری اقدامات کئے جانے کی طرف توجہ دلانا ہے- ان اسکولز کے مالکان کی ناجائز بالادستی کو کنٹرول میں لاکر، مالی بحران کے شکار والدین کی داد رسی کی جائے
![]()