پاکستان کی موجودہ معاشی بحران کی وجہ سیاسی پارٹیوں کی نا اہلی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کی نا اہلی نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ اب پاکستان کا شمار دیوالیہ ہونے والے ممالک کی صف میں چہارم نمبر پر ہوتا ہے۔ سیاسی قائدین اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے ایک دوسرے پر الزامات لگانے میں مصروف ہیں۔ کوئی بھی پارٹی پیچھے ہٹنے کیلئے تیار نہیں۔ ملک و قوم جائے بھاڑ میں انہوں نے اپنی سیاسی ساکھ کو برقرار رکھنا ہے۔ یہ کیسے مخلص اور محبِ وطن ہیں؟ ان کی مثال اس اژدھے جیسی ہے جو اپنے ہی بچوں کو نگل لیتا ہے۔ ہمارا پڑوسی ملک بھارت جسے ہم اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتے ہیں معاشی ترقی کے لحاظ سے دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے اور ہم ابھی تک ندی نالوں کی تعمیر و مرمت سے نہیں نکلے۔ ہم جو بھی ترقیاتی منصوبہ تشکیل دیتے ہیں چند دنوں تک اپنی نا اہلی کی وجہ سے مکمل کر ہی نہیں پاتے۔
اگر کوئی منصوبہ خدا خدا کرکے پائے تکمیل کو پہنچ بھی جائے تو پائیدار نہیں ہوتا۔ یہاں سارے لیڈر ہر ایک کو حکومت کرنے کیلئے قوم کی تلاش ہے جِس پر وہ حکومت کر سکے۔ کسی سیاسی جماعت کے قائدین کا دعویٰ ہے کہ ہم حق پر ہیں اور جہاد کر رہے ہیں۔ تو کسی سیاسی جماعت کا یہ موقف ہے کہ باقی سیاسی جماعتوں کے خلاف جہاد جائز ہے۔ عجیب بات ہے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے اور ہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ کونسی پارٹی حق پر ہے؟ كس شخصیت کا نعرہ لگائیں؟ خدارا خود کو ٹھیک کریں اور دوسروں پر الزامات لگانے کی بجائے ملکی مسائل کو مل جل کر حل کرنے کی کوشش کریں۔ اقتدار کی ہوس کو ترک کر کے ملک و قوم کی خدمت کریں، اپنی ذمےداریوں کو احسن طریقے سے انجام دیں اور پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
الغرض پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو مثبت کردار ادا کرنا پڑے گا اور سیاسی مفادات کو ملکی مفادات پر قربان کرنا ہو گا۔ یہ کالم اِس اُمید پر لکھا گیا ہے شاید کے اُتر جائے تیرے دل میں میری بات۔