Home / اہم خبریں / قوم کے معماروں کا مستقبل سنوارنے کے لئے فوری وعملی تعلیم پالیسی بنائی جائے۔ رہنما پی ڈی پی طارق چاندی والا

قوم کے معماروں کا مستقبل سنوارنے کے لئے فوری وعملی تعلیم پالیسی بنائی جائے۔ رہنما پی ڈی پی طارق چاندی والا

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ حکومت قوم کے معماروں کا مستقبل سنوارنے کے لئے فوری و قابل عمل تعلیمی پالیسی بنائے۔ تعلیمی بجٹ میں مسلسل کٹوتی شرمناک ہے، مختص کیا گیا بجٹ پورا خرچ کیا جائے۔ حکومت سینیٹ کے ممبروں کو خریدنے کیلئے ہر ایک پر پچاس کروڑ روپے خرچ کر سکتی ہے کیا عوام کی صحت و تعلیم کے لئے کچھ نہیں کر سکتی؟ احساس پروگرام کے لئے مختص بجٹ تعلیم کے شعبے میں استعمال کیا جائے۔ لاک ڈاؤن اور کورونا ضابطوں کا نہ صرف تعلیمی اداروں پرمنفی اثر پڑا ہے بلکہ بچوں کی تعلیمی صلاحیتوں میں بھی واضح کمی واقع ہوئی ہے۔ کوویڈ کے باعث تعلیمی ادارے بند کر دیئے گئے، اور آن لائن کلاسز شروع کی گئیں۔ کئی علاقوں کے طلبہ انٹرنیٹ سروس نا ہونے یا خراب ہونے کی وجہ سے کلاسز نہیں لے سکے، ان طلبہ کے خسارے کا ذمہ دار کون ہے؟ کچھ طلبہ غربت اور مالی مشکلات کے باعث آن لائن کلاسز سے مستفید نہیں ہو سکے۔ کیا غریب کے بچے کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں ہے؟ پرائیویٹ تعلیمی ادارے الگ لوٹ کھسوٹ میں ملوث ہیں۔ قوموں کی ترقی میں نظام تعلیم کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں 74 سال گزرنے کے بعد بھی کوئی قابل ذکر تعلیمی نظام متعارف نہیں کروایا جا سکا۔ بڑے بڑے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں نے تعلیم کو منافع بخش کاروبار سمجھ کر یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں کی چینیں کھول لی ہیں۔ ایک سازش کے تحت سرکاری تعلیمی اداروں کی تعلیم کو تباہ کر دیا گیا۔ دو طبقاتی نظام تعلیم حاکم اور محکوم کو جنم دے رہا ہے۔ سیلبس میں من مانی تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں طارق چاندی والا نے مزید کہا کہ کورونا وباء کے بعد سب سے پہلے اسکولوں میں لاک ڈاؤن لگایا گیا جو تاحال جاری ہے۔ لاک ڈاؤن سے اسکول مالکان کا تو صرف مالی نقصان ہو رہا ہے جبکہ بچوں کا تعلیمی و شخصیتی نقصان ہو رہا ہے۔ ابھی تک کورونا سے ہونے والی اموات میں کتنے بچے ہیں جو کورونا سے ہلاک ہوئے ہیں؟ پاکستان میں اکثریت غریب اور کم پڑھے لکھے یا ان پڑھ لوگوں پر مشتمل ہے، ان کے بچوں کو آن لائن تعلیم، واٹس ایپ کے ذریعے تعلیم یا ٹیوشن کی سہولت کس حد تک میسر ہے؟ اسکولز بند رہیں گے تو ان بچوں کا کیا بنے گا؟ جن بچوں کے پاس یہ تمام سہولیات ہیں وہاں کے الیٹرک نے کلاسز کو جاری رکھنا محال کر دیا ہے۔ دنیا بھر کے ان ممالک میں جہاں پاکستان سے کہیں زیادہ کورونا کیسز ہیں وہاں ایک دن کے لئے بھی تعلیمی ادارے بند نہیں ہوئے۔ بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں وزراء نے تسلیم کیا کہ سب سے زیادہ ایس او پیز پر تعلیمی ادارے عمل کرتے ہیں تو پھر صرف اسکولز ہی کیوں بند کئے گئے ہیں؟ جب پارکس، بازار، مارکیٹس اور دفاتر سب کھلے ہیں تو اسکولز بند رکھنے کا کیا جواز ہے؟ کیا کورونا صرف اسکولز میں آتا ہے؟ کورونا وباء کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے جلسے مسلسل جاری رہے لیکن سارا نزلہ تعلیمی اداروں پر گرا۔ حکومت نے تعلیمی اداروں اور ان کے اساتذہ کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا۔ پوری دنیا میں تعلیمی ادارے آخری آپشن کے طور پر بند کئے گئے ہمارے حکمرانوں نے تعلیمی اداروں کوبند کرنا پہلا آپشن رکھا۔ حکومت نے ایس او پیز میں تین سو افراد کے اجتماعات، شادیوں میں سو افراد کے اجتماعات کی خود اجازت دی ہے پھر صرف تیس طلبہ کی کلاس سے کورونا کیسے پھیل سکتا ہے؟۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے قومی اسکواڈ کا اعلان، شان مسعود قیادت کریں گے

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) بنگلہ دیش کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے