Home / اہم خبریں / یونٹی پیس فورم نے شہر قائد میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کرلیا

یونٹی پیس فورم نے شہر قائد میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کرلیا

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) یونٹی پیس فورم کے مرکزی صدر ظفر مقصود نے کہا ہے شہر قائد کو لاوارث نہیں چھوڑ سکتے عہدیداروں اور کارکنوں کی باہمی مشاورت کے بعد شہر قائد میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف تمام تر ثبوتوں کے ساتھ سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے، وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ سب کچھ دیکھ کر بھی خاموش ہیں جو اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ وہ ان تمام غیر قانونی تعمیرات کی سرپرستی کر رہے ہیں، شہر قائد میں غیر قانونی تعمیرات کرنے والے مافیاز ہیں جو سندھ سرکار کے آشیر باد سے کھلے عام دندناتے ہوئے پھر رہے ہیں، ایس بی سی اے میں بیٹھا ڈی جی شمس الدین سومرو بے اختیار آدمی ہے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا اصل نظام آغا مسعود عباس چلا رہا ہے جو اس وقت شہر قائد کو زمین بوس کرنے کے لیے سیاہ و سفید کا مالک بنا ہوا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر یو پی ایف کے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا، ان کا کہنا تھا کہ لیاقت آباد ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد، صدر کے علاقوں، شاہ فیصل ٹاؤن اور لیاری ٹاؤن کے علاقوں میں ساٹھ گز کی جگہوں پر بلند و بالا عمارتیں تعمیر ہورہی ہیں اور یہ سب کچھ وزیر بلدیات اور متعلقہ محکموں کے افسروں کی نادر شاہی کے بغیر کس طرح سے ممکن ہوسکتی ہیں جبکہ ایسی عمارتوں سے بلڈنگیں جس طرح سے زمین بوس ہوتی رہی اور لوگ ان عمارتوں میں دب کر مرتے رہے وہ بھی سب کے سامنے ہے انہوں نے کہا کہ شہر قائد میں جنگل کا قانون نافذ ہے، شہر میں ساٹھ، اسی اور ایک سو بیس گز کے رہائشی پلاٹوں پر بلند و بالا عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں، ہم شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکائینگے، انہوں نے کہا کہ شہر قائد میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف عدالت جانے کا فیصلہ عوام کی مشکلات دیکھ کر کیا، انہوں نے کہا کہ سابقہ ادوار میں چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی کراچی میں غیر قانونی تعمیرات، قبضہ مافیا اور چائنہ کٹنگ میں ملوث مافیاز کے خلاف فیصلے دیئے لیکن اس کے باجود سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں بیٹھے راشی افسران کراچی کا انفراسٹریکچر تباہ کرتے رہے، چیف جسٹس نے خود شہر قائد میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف سخت ریماکس دیئے مگر افسوس آپ کے احکامات پر مکمل طور پر عملدرآمد نہ ہوسکا ہے مگر شہر قائد کی عوام ایسے نام نہاد مافیاز اور ان کے کارندوں سے نجات کے لیے آپ کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے راشی افسران اور ان کو آشیر باد دینے والوں کے خلاف تمام ثبوت اکٹھے کرلیے ہیں جلد ہم سپریم کورٹ میں جاکر یہ تمام ثبوت دکھائینگے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

جسٹس منیب اختر قائم مقام چیف جسٹس پاکستان مقرر عہدے کا حلف اٹھا لیا

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منیب اختر نے قائم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے