کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب کا لاک ڈاؤن کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوۓ اہم حقائق سے پردہ اُٹھا دیا۔ لاک ڈاؤن سے متعلق لوگوں کی متضاد اور مختلف آراء ہیں۔ کوئی اسمارٹ لاک ڈاؤن کی بات کرتا ہے تو کوئی لاک ڈاؤن کو ہی غلط قراردیتا ہے۔ میں اپنے صوبے کے عوام کے سامنے چند حقائق رکھ رہا ہوں۔ بیرسٹر مرتضی وہاب نے انکشاف کرتے ہوۓ کہا ہے کہ سندھ میں دس سال سے کم کے 182 معصوم بچے کورونا وائرس کے مرض میں مبتلا ہیں۔ ساٹھ سال سے زائد عمر کے 900 افراد کورونا پازیٹیو کا شکار ہیں۔ یہ بات تقریباً یقینی ہے کہ یہ بچے اور بزرگ لاک ڈاؤن کے دوران اپنے گھروں سے نہیں نکلے ہونگے۔ انہیں کورونا کا کسی اور نے نہیں بلکہ ان افراد نے شکار کیا جو گھروں سے باہر نکلے۔ ہم نے باہر نکل کر کورونا وائرس کو کیچ کیا اور گھر آکر اپنے بزرگوں اور معصوم بچوں کو وائرس زدہ کردیا۔ اسی لئے آپکی حکومت بار بار گھروں پر رہنے اور آئیسولیشن کی تلقین کررہی ہے۔ آئیے اپنے گھروں پر قیام سے خود اور اپنی فیملی کو اس مرض سے محفوظ رکھیں۔ خدارا حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن پر عملدرآمد کرکے اپنی نسلوں کو محفوظ کریں۔ ہمیں اپنے معصوم بچوں، بزرگوں اور پورے معاشرے کو اس مرض سے بچانا ہے۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ہم لاک ڈاؤن کو سنجیدہ لیکر اس پر خود بھی اور دوسروں کو بھی عمل کروائیں۔ اپنے ارد گرد، پڑوس، محلے اور ملنے والے افراد سے سماجی دوری کو یقینی بنائیں۔ ماہ رمضان میں اپنے رب کے حضور خوب دعائیں مانگیں۔ اللہ تعالی اس وباء کو سندھ پاکستان اور پوری دنیا سے ختم فرمائے۔ آمین۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔
![]()
یہ بھی پڑھیں، نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں: چترال میں لاک ڈاؤن کے دوران ٹرانسپورٹروں کے وارے نیارے، انتظامیہ کی بے حسی۔ مسافروں سے دگنا کرایہ وصول کیا جاتا ہے
https://www.nopnewstv.com/drivers-are-taking-wrong-advantage/