سیالکوٹ (رپورٹ: سیدہ نزہت شہناز) سابق صدر سیالکوٹ ایوان صنعت و تجارت غلام مصطفی چودھری نے کہا ہے کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر فیکٹریوں کی بندش سے برآمدی مال کی تیاری رک جانے سے ملکی معیشت کو پہنچنے والے نقصان سے بچانے کے لیے چین کی طرز پر فیکٹریوں کو محدود پیمانے پر کام کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ انہوں نے ان خیالات کا ظہارایک اخباری بیان میں کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جو مالکان فیکٹریوں کے اندر اپنے کاریگروں کو کورونا سے بچاؤ کے تسلی بخش انتظامات کر لیں اور کاریگروں کی رہائش و طعام کا انتظام فیکٹری کے اندر ہی ہو جبکہ ان کاریگروں کو بلا ضرورت فیکٹری سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے وہاں اگر محدود پیمانے پر کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تواس سے فیکٹریوں کی مکمل بندش سے پیدا ہونے والے نقصانات کا کچھ نہ کچھ ازالہ ممکن ہو سکتا ہے۔
اس طریقہ کار کے مطابق کاریگروں کو اپنے گھروں سے روزانہ آنے اور جانے کی مشکل کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑے گا اور فیکٹریوں میں محدود پیمانے پر مقامی اور بیرونی ضروریات کے لیے مطلوبہ اشیاء کی تیاری شروع ہو سکے گی اور بیرونی گاہکوں کے آرڈرز کچھ نہ کچھ دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں ۔ غلام مصطفی چودھری نے حکومت پاکستان کے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے کئے جانے والے اقدامات کو سراہا ہے اور سیالکوٹ کی بزنس کمیونٹی کی طرف سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔
![]()
![]()