تازہ ترین
Home / اہم خبریں / صوبہ سندھ اور خصوصاً کراچی میں بسنے والے آج ہم آواز ہو کر ”شکریہ عمران خان“ کہتے ہیں۔ رہنما پاکستان تحریک انصاف حلیم عادل شیخ

صوبہ سندھ اور خصوصاً کراچی میں بسنے والے آج ہم آواز ہو کر ”شکریہ عمران خان“ کہتے ہیں۔ رہنما پاکستان تحریک انصاف حلیم عادل شیخ

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پی ٹی آئی کے مرکزی نائب صدر و سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے انصاف ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ سندھ اور خصوصاً کراچی میں بسنے والے آج ہم آواز ہو کر ”شکریہ عمران خان“ کہتے ہیں۔ سندھ وہ صوبہ ہے جسے بے حساب لوٹا گیا۔ 65 فیصد ریونیو دینے والے شہر کو کچرے کے ڈھیر میں تبدیل کردیا گیا تھا، شہر کراچی کے لوگ پیاسے تھے۔ موٹر ویز بن گئی تھیں لیکن وہ موٹر وے کے نام پر دھبہ ہیں۔ 165 ارب روپے کو فسانہ سمجھنے والے سن لیں کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے 278 ارب روپے کے منصوبے سامنے آچکے ہیں جس میں کئی کا افتتاح ہو چکا ہے اور کئی پر کام جاری ہے۔ گزشتہ دنوں جن منصوبوں کا افتتاح ہوا اس کا سنگ بنیاد گورنر سندھ عمران اسماعیل نے رکھا تھا۔ ان تمام منصوبوں کے پیسے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت اور ہمارے کپتان نے دیے۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکریٹری و رکن سندھ اسمبلی سعید آفریدی، رکن قومی اسمبلی عطاء اللہ خان، اراکین سندھ اسمبلی دعا بھٹو، کریم بخش گبول اور پی ٹی آئی کراچی کے نائب صدر سبحان علی ساحل موجود تھے۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ کپتان کی جانب سے سندھ کے لئے 378 روپے کے پراجیکٹس دینے پر وزیر اعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ کل جن 3 فلائی اوورز کا افتتاح کیا گیا اس کی لاگت 2400 ملین، نشتر روڈ 6500 ملین، منگھوپیر روڈ 950 ملین تھی۔ جو منصوبے 2020 میں مکمل ہونے جارہے ہیں ان میں نمائش روڈ جس کی مالیت 800 ملین، 66 انچ کی پانی کی لائن حب سے منگھوپیر 1500 ملین، کراچی ماس ٹرانزٹ انڈر گراؤنڈ ٹرمینل 2500 ملین جس کا افتتاح 14 اگست 2020 کو ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے 5 ارب روپے کے ایم سی کو دیئے، جب تک ہم لوکل گورنمنٹ کے اداروں کو مضبوط نہیں کریں گے تب تک مسائل حل نہیں ہونگے۔ 5 ارب روپے سے شہر کی مختلف سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی جائے گی۔ حیدر آباد، میرپور خاص، نواب شاہ اور سکھر کو بھی ایک ایک ارب روپے فنڈ دینے پر بھی ”شکریہ عمران خان“ کہتے ہیں۔ سندھ کے حکمرانوں نے شہروں سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا ہے۔ جہاں انہیں ووٹ نہیں ملتا وہاں لوگوں کا جینا مشکل کردیا جاتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 2020-21 میں جو منصوبے تکمیل کو پہنچیں گے ان میں 50 فائرٹنڈرز شہر کراچی کو دیئے جائیں گے۔ بلدیہ فیکٹری کی آگ ہم زندگی بھر نہیں بھول سکتے۔ اس شہر کو سب نے سونے کا انڈہ دینے والی مرغی سمجھا ہے۔ 1600 ملین کے 50 ماڈرن فائر ٹینڈرز کے ایم سی کو دیئے جائیں گے۔ کراچی کی ٹرانسپورٹ کو بہتر کرنے کے لئے گرین لائن بی آر ٹی 35000 ملین، منگھوپیر سے جام چکھرو روڈ 1400 ملین، ایم 9 انٹر چینج کے اوپر 1800 ملین، سندھ پیکیج کے لئے 12 ارب 75 کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بنایا جانے والے منصوبے سکھر حیدرآباد موٹر وے پر وفاقی وزیر اسد عمر کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس میں کردار ادا کیا اور بالآخر اس پر پورا سندھ کہتا ہے ”شکریہ عمران خان“۔ ہم اس شہر کے لئے کیوں نہ کام کریں، اس شہر نے ہمیں ووٹ دیا ہے۔ ہمارے اراکین قومی اسمبلی کو بھی وفاق کی جانب سے فنڈ دیئے جارہے ہیں۔ ہم سب کچی آبادیوں سے جیتنے والے لوگ ہیں ہمیں مسائل کا پتہ ہے۔ کراچی کا میگا سٹی کا چہرہ بھی بحال ہو رہا ہے۔ رضویہ کی 28 جانوں کے نقصان کے ذمہ داری وہی حکمران ہیں جنہوں نے 12 سالوں میں شہر کو کنکریٹ کی بستی بنا دیا ہے جہاں 60 گز پر 12 منزلہ عمارتیں بنائی گئیں۔ حلیم عادل شیخ کا مزید کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان بتا دیں کہ انہیں کس نے روکا ہے۔ آپ نے کہا تھا کہ جنوری میں حکومت چلی جائے گی، آپ جیسے علماء کرام آئیں گے تو لوگوں کا دین سے اعتبار اٹھ جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان نے جھوٹ کا راستہ لے کر طلباء کو لے کر آئے تھے۔ ہماری افواج پاکستان ایک پیج پر ہیں۔ کبھی ہمارے خلاف مافیاز کو چھوڑ دیا جاتا ہے، کبھی جھوٹی افوائیں پھیلائی جاتی ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے آج 70 لاکھ خواتین مستفید ہورہی ہیں، احساس پروگرام کے تحت تاریخی اقدامات عوام کے لئے اٹھائے جارہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی ترقی کے لئے انقلابی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انشاء اللہ جلد پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں شامل ہوتا دیکھیں گے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے